... loading ...
محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت اور سیاسی جدوجہد سے انکار نہیں ہے انہوں نے جس ماحول میں سیاست کی وہ قابل ستائش ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ مزاحمت کی سیاست کی اور سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں پر لائیں۔ انہوں نے سیاست میں کئی اہم مثالیں قائم کیں اور سیاست میں اچھی روایات بھی ڈالیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی مقبولیت کے باوجود سیاست میں خاندانوں کو تقسیم کیا۔ سب سے پہلے محترمہ بینظیر بھٹو نواب سلطان چانڈیو کے مقابلے کے لیے ان کے سگے بیٹے نواب شبیر چانڈیو کو آگے لائیں اور بیٹے کو ٹکٹ دیا کہ وہ باپ کا مقابلہ کریں یوں باپ کو شکست اور بیٹے کی جیت ہوئی۔ پھر ضلع نوشہرو فیروز میں غلام مرتضیٰ جتوئی نے انکشاف کیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے ان کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے والد غلام مصطفی جتوئی کے خلاف الیکشن لڑیں تو انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا جائے گا لیکن غلام مرتضیٰ جتوئی نے اس پیشکش پر معذرت کرلی۔ 2008ء کے عام الیکشن سے قبل محترمہ بینظیر بھٹو نے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے خالد احمد لُوند کے کزن کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا۔
ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے خاندان میں سے کسی ایک کو پی پی میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن معاملات نہیں بنے۔ اب یہی روش آصف علی زرداری نے شروع کردی سب سے پہلے مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیاز شیخ کے بھائی مقبول شیخ کو پیپلز پارٹی میں شامل کرایا بعدازاں امتیاز شیخ بھی فنکشنل لیگ چھوڑکر پی پی میں آ گئے۔ اسی طرح جام صادق کے خاندان کو تقسیم کیا گیا جام مدد علی کو پی پی میں شامل کیا گیا ان کے کزن جام معشوق علی تاحال مسلم لیگ میں ہیں۔ پھر پی پی پی کی پوری قیادت نے ٹھٹھہ کے شیرازی برادران پر توجہ دی لیکن شیرازی برادران متحد رہے ۔یہاں سے ناکامی پر تھر کے ارباب گروپ سے رابطہ کیا گیاپہلے تو ارباب غلام رحیم نے کھل کر انکار کیا ان سے 2008ء اور 2013ء میں سید خورشید شاہ کے ذریعہ رابطہ کیا گیا تھا اور قومی اسمبلی کا ایک ٹکٹ اور صوبائی اسمبلی کے دو ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن انہوں نے بھی معذرت کرلی پھر مختلف اوقات میں انہیں کئی اہم عہدوں کی پیشکش ہوئی لیکن ان کا ایک ہی نکتہ نظر تھا کہ پیپلز پارٹی نے کرپشن کی انتہا کردی ہے اور سندھ کا بیڑا غرق کردیا ہے اور وہ ایسی پارٹی میں شامل ہونے سے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو ترجیح دیں گے۔
ارباب غلام رحیم نے 1985ء سے ڈسٹرکٹ کونسل میرپور خاص کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ پھر وہ ایم پی اے رہے صوبائی مشیر رہے، ایم این اے رہے، وزیر مملکت اور وفاقی وزیر رہے، پھر سندھ میں وزیر اور وزیراعلیٰ رہے۔ ان سے ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن وہ ذاتی طورپر کرپشن سے دور رہے ہیں۔ انہوں نے کرپشن کے خاتمہ کا دعویٰ تو کبھی نہیں کیا ہاں اپنی وزارت اور وزارت اعلیٰ کے دور میں انہوں نے کرپشن کم کرنے کی کوشش ضرور کی وہ 1993ء میں پرویز علی شاہ کے کہنے پر پی پی میں شامل ہوئے کیونکہ پرویز علی شاہ نے ان کو یقین دلایا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بن رہے ہیں لیکن وہ تو وزیراعلیٰ نہ بن سکے مگر ارباب رحیم کے اس وقت کی پی پی حکومت سے اختلافات ضرور اُبھرے اور ایک ایسا وقت بھی آیا جب اسلام آباد میں ایک اجلاس میں محترمہ بینظیر بھٹو کی عدم موجودگی میں آصف زرداری نے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ ارباب رحیم کے گھر پر چھاپے مارے جائیں تو اس وقت سید خورشید شاہ نے سخت مخالفت کی یوں یہ معاملہ وہیں دب گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک پی پی کی قیادت جب بھی ارباب رحیم سے بات کرتی ہے تو یہ ذمہ داری سید خورشید شاہ کو دیتی ہے۔ سید خورشید شاہ کے ارباب رحیم سے اس وقت سے اچھے تعلقات ہیں اس بار جب ارباب رحیم کو چھوڑکر ارباب لطف سے رابطہ کیا گیا تو سید خورشید شاہ کو دور رکھا گیا یہ کام تھر کے چند خاندانوں کے ذریعہ کرایا گیا۔ ارباب لطف اصل میں ارباب رحیم کے سگے بھتیجے ہیں ان کو سبز باغ دکھائے گئے کہ آئندہ الیکشن میں بھی پی پی کامیاب ہوگی۔ اس لیے ان کو آئندہ تھر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم وزارت دی جائے گی۔ تھرکول اتھارٹی، تھر پاور پلانٹ جیسے منصوبوں کا نگران بنایا جائے گا۔ تھر کے عوام کی اکثریت نے ارباب لطف سے اتفاق نہیں کیا نہ صرف تھر کے عوام بلکہ ارباب خاندان کی اکثریت نے بھی ارباب لطف کو مسترد کردیا۔ مزیدار بات یہ ہے کہ پوری صوبائی مشنری استعمال کرنے کے باوجود ارباب لطف نے جو جلسہ کیا اس میں بمشکل دو ہزار افراد شامل ہوسکے۔ یوں ان کا پہلا سیاسی رائونڈ ناکام گیا۔ ارباب لطف ایک ایسے وقت میں پی پی میں شامل ہوئے جب وفاقی حکومت ڈانوا ڈول ہے اور پھر عام الیکشن میں آٹھ دس ماہ باقی ہیں۔ اگر پی پی کے خلاف بھی احتساب کا عمل شروع ہوا اور پی پی میں گروپ بندی ہوئی تو ارباب لطف کو کچھ نہیں ملے گا۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...