وجود

... loading ...

وجود

وسیم اختر کا اختیارات سے تجاوز، ڈائریکٹر کے ایم سی معطل

جمعه 21 جولائی 2017 وسیم اختر کا اختیارات سے تجاوز، ڈائریکٹر کے ایم سی معطل

کراچی میں بارشیں کیا ہوئیں شہر جل تھل ہوگیا۔ ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔ کے ایم سی افسران منظر نامہ سے غائب رہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم نے بیرون ملک جانے کی میئر وسیم اختر سے چھٹی لی اور چلتے بنے۔ یہ بات عالم آشکار ہے کہ ایم کیو ایم کی کل کائنات صرف شہری ادارے ہیں ایم کیو ایم چاہے وزارت عظمیٰ ہی کیوں نہ حاصل کرلے مگر اس کی جان ہمیشہ کے ایم سی، کے ڈی اے ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کچی آبادی میں پھنسی ہوئی ہوتی ہے وہ شہری اداروں کے خول سے باہر نکل ہی نہیں سکی اور یہ بات بھی روز اول سے عیاں ہے کہ ایم کیو ایم نے کبھی بھی حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کو دل سے قبول نہیں کیا جب مصطفیٰ کمال کراچی کے ناظم تھے تو اس وقت ایک افسر کو گریڈ 21 میں ترقی دے دی ان سے کوئی پوچھے کہ وہ خود گریڈ 20 کے سیکریٹری بلدیات کے ماتحت تھے وہ کس طرح ایک افسر کو گریڈ 21 میں ترقی دے سکتے ہیں؟ یہی حال اب وسیم اختر کا ہے وہ اب خود کو ناظم اعلی کی طرح سمجھ رہے ہیں اب وہ ناظم اعلیٰ کے اختیارات لینا چاہتے ہیں۔ جب سے وہ میئر بنے ہیں اس وقت سے وہ اختیارات کا راگ الاپ رہے ہیں کبھی کھل کر نہیں کہتے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے جو اختیارات ناظم اعلی کو دیئے تھے وہی اختیارات مجھے بھی دیئے جائیں مگر بات گھما پھرا کر وہیں آکر روکتے ہیں۔ پچھلے دنوں وسیم اختر نے کچھ افسران کو اس وقت بحال کیا جب ان کو محکمہ بلدیات نے معطل کیا یہی حال حیدر آباد کے میئر طیب حسین کا بھی ہے جس نے گریڈ 17 کے افسر کو معطل کرکے ان کو محکمہ بلدیات میں بھیج دیا اس پر محکمہ بلدیات نے ان کو خط لکھ کر بتایا وہ گریڈ 16 تک کسی ملازم کا تبادلہ یا معطلی کا حکم دے سکتے ہیں گریڈ 17 کا احتیار محکمہ بلدیات کا ہے۔ تب جاکر وہ افسر بحال ہوا۔ لیکن وسیم اختر نے محکمہ بلدیات کے معطل افسران خود ہی بحال کر دیئے ان کو بھی بتایا گیا کہ وہ صرف گریڈ 16 تک کے ملازمین کو معطل تبدیل کرسکتے ہیں۔ وسیم اختر نے اس پر لمبا چوڑا خط لکھ دیا کہ کے وہ ایم سی میں تمام افسران کے تبادلے و تقرریاں کرنے اور معطلی کے احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کو بھی دوبارہ وہی جواب دیا گیا کہ کے ایم سی بھی لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت قائم ہوا ہے اور اسی ایکٹ کے تحت جو قوانین منظور ہوئے ہیں ان کی پاسداری کرنا میئر کے ایم سی کا فرض ہے۔ لیکن وسیم اختر ٹس سے مس نہیں ہوئے اور اب ان کا حال یہ ہے کہ پچھلے ہفتے جب کراچی میں مون سون کی بارشیں ہوئیں تو خود وسیم اختر بیرون ملک چلے گئے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جانے سے قبل وہ کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت دے گئے ۔اگریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگا کہ میئر کراچی شدید بارشوں میں اہل شہرکومسائل میں چھوڑکرخودتوبیرون ملک گئے سوگئے کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم کوبھی جانے کی اجازت دے گئے۔ جس کا وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے نوٹس لیا۔ محکمہ بلدیات سے جواب طلبی بھی کی۔ سیکریٹری بلدیات نے میٹرو پولیٹن کمشنر کے ایم سی محمد حنیف مرچی والا سے اس بابت پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جناب اس وقت میئر بھی بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم بھی بیرون ملک گئے ہیں میں کیابتاسکتا ہوں۔ سیکریٹری بلدیات کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ مسعود عالم گریڈ 20 کے افسر ہیں انہوں نے کس سے اجازت لی؟ تو محمد حنیف مرچی والا نے جواب دیا کہ انہوں نے میئر سے اجازت لی۔ سیکریٹری بلدیات نے اس پر ایک سمری بنائی اور وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کی کہ کراچی میں بارشیں ہوئیں لوگ پریشان رہے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز غائب رہے جب میئر و پولیشن کمشنر کے ایم سی حنیف مرچی والا سے پوچھا گیا کہ مسعود عالم کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ میئر سے چھٹی لے کر بیرون ملک چلے گئے ہیں اس سمری میں وزیراعلیٰ سندھ سے سیکریٹری بلدیات نے کہا ہے کہ میئر کراچی کو یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ افسر کو بیرون ممالک جانے کی اجازت دیں گریڈ 19 اور گریڈ20 کے افسران کی بیرو ن ممالک کی چھٹی مجاز اتھارٹی صرف وزیراعلی سندھ ہیں اور میئر وسیم اختر نے وزیراعلیٰ کا اختیار استعمال کرکے غیر قانونی وغیرآئینی اقدام کیا ہے اس لیے فوری طور پر سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم کو معطل کیا جائے۔ اور ان کے خلاف اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا بھی حکم دیا جائے کہ وہ بارشوں کے دوران کیوں غائب ہوئے اور میئر سے چھٹی لے کر کیوں بیرون ملک کیوں گئے؟ وزیراعلیٰ سندھ پہلے ہی ناراض بیٹھے تھے انہوں نے فوری طور پر انہیں معطل کرکے سیکریٹری بلدیات کو حکم دیا کہ فوری طور پر مسعود عالم کے خلاف تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے اور ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ دی جائے اس اقدام کے بعد مسعود عالم کی بھی ہوائیاں اڑ گئی ہیں تاہم ان کو میئر وسیم اختر نے یہ آسرا دیا ہے کہ ان کو بحال کرایا جائے گا اور انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس آسرے پر مسعود عالم کے کچھ آنسو توضروری رکے ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے تاحال مسعود عالم کی بحالی کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے ۔ اس حوالے سے اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستارنے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے ذریعہ وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا ہے کہ مسعود عالم کو معاف کیا جائے آئندہ وہ جب بھی بیرون ملک جائیں گے حکومت سندھ سے ہی چھٹی لے کر چلے جائیں گے وزیراعلیٰ سندھ کی اتھارٹی کو چیلنج نہیں کریں گے مگر معاملہ جوں کا توں برقرار ہے۔دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
الیاس احمد


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر