وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شہید برہان وانی بھارت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن گیا!

هفته 08 جولائی 2017 شہید برہان وانی بھارت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن گیا!

کشمیری پاکستانیوں سے سینئر پاکستانی ہیں کہ پاکستان کا قیام14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اس سے قبل تمام لوگ ہندوستان کے شہری تھے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے جب پاکستان میں داخل ہوئے وہ اس وقت سے پاکستانی کہلائے لیکن کشمیریوں نے 13 جولائی1947کو پاکستان سے الحاق کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کشمیر کی اسمبلی میں الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی اور اسمبلی کی عمارت پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا یوں کشمیری13 جولائی 1947 سے ہی پاکستانی ہیں ۔
قیام پاکستان کے بعد بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے جب کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کیں تو بابائے قوم نے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ بھارتی فوجیوں کی کشمیر میں مداخلت کشمیری عوام کی رائے کے برخلاف ہے اور ان افواج کو کشمیر سے باہر دکھیل دیا جائے لیکن رائل برٹش آرمی سے افواج پاکستان کا سربراہ بننے والے جنرل گریسی نے اپنے سپریم کمانڈر کا حکم ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد وزیراور محسود قبائل کے جوان اپنے دیسی ساختہ اسلحہ کے ساتھ کشمیر میں داخل ہوئے اور بھارتی افواج کو دھکیلتے ہوئے تقریباً ایک تہائی کشمیر پر غلبہ حاصل کر لیا۔یہ جدوجہد جو اکتوبر 1947 میں شروع ہوئی تھی ان قبائل کو اس وقت روکنا پڑی جب بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا اور اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا حکم دیدیا ۔بھارت نے اس وقت اقوام عالم کے اس فورم پر وعدہ کیا تھا کہ جنگ بندی کے بعد کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔ اس شرط پر پاکستان نے بھی یہ جنگ بندی قبول کر لی اگرچہ محسود اور وزیرقبائل اس جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے کہ سری نگر مجاہدین کی دسترس سے اتنا ہی دور تھا جتنا ہاتھ میں موجود نوالہ منہ سے دور ہوتا ہے اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو خوفزدہ بھارتی فوجی آئندہ دو سے تین دن میں کشمیر سے مکمل طور پر نکل جاتے لیکن ان مجاہدین نے بابائے قوم کا حکم کا مانا اور وہیں رک گئے ۔
شاید بابائے قوم جنہوں نے اپنا ایک بڑا وقت بااصول اور وعدے کے پابند افراد کے درمیان گزارا تھا، اس لیے انہیں گمان بھی نہ تھا کہ بھارت کا وزیراعظم جو ہندو نظریہ کے مطابق اعلیٰ ترین جاتی سے تعلق رکھتا اور پنڈت ہے، وہ وعدہ خلاف بھی ہو گا لیکن ہندو چاہے اعلیٰ جاتی سے تعلق رکھتا ہو یا شودر اور اچھوت ہو سب ہی چانکیہ سیاست کے پیروکار ہیں۔جوتے پڑیں تو معافی مانگو اور جب مارنے والا ہاتھ روک لے تو سینہ تان کر کہو ہمت ہے تو اب مار کے دکھا یہ وہ اُصول ہے جو ہر بھارتی کا مذہبی اُصول ہے اسی اُصول پر عمل کرتے ہوئے جواہر لال نہرو نے اپنے دور اقتدار میں ہی بھارت کے آئین میں ترمیم کراتے ہوئے اس میں آرٹیکل370 شامل کیا جس کے مطابق کشمیر (مکمل)بھارت کی ایک ریاست ہے جس کو چند خصوصی اختیارات حاصل ہیں ۔
پاکستان جنوری1948 سے مسلسل اقوام متحدہ کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے ۔اور ظاہر ہے کہ اب نا کوئی اقوام متحدہ خودمختار ہے اور نہ کوئی حکومت بااختیار سب کارپوریٹ سیکٹر کا کما ل ہے اقوام متحدہ ہو یا نام نہاد بڑی طاقتیں سب کارپوریٹ سیکٹر کے غلام ہیں وہ جو چاہتا ہے اس کے مطابق ہی دنیا کے فیصلے ہوتے ہیں اس کارپوریٹ سیکٹر کا تعلق مغرب سے ہے اور مغرب اس جمہوریت کا قائل ہے جس میں انسانوں کو تولہ نہیں گنا کرتے ہیں ۔اب کارپوریٹ سیکٹر جو صرف انسانی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے لہذا وہ کیسے بھارت کو نظر انداز کر سکتا ہے بس یہ المیہ ہے جو ایک بہت بڑے انسانی المیہ کی بنیاد بن چکا ہے اور کشمیر دنیا کا خطرناک ترین علاقہ ۔
گزشتہ 70 سال کے دوران پاکستان نے اس مسئلہ کے پرامن حل کی ہر ممکن کوشش کی لیکن بھارت بات چیت پر کسی طور پر آمادہ نہیں ہے نتیجہ یہ نکلا کہ 1988 میں جب جہاد افغانستان کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوئے اور اس وقت کی سپرپاور روس افغانستان سے مجاہدین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد اس طرح سے رخصت ہو رہی تھی کہ دریا آمو بھی حیران تھا کہ وہ روسی ٹینک جو خراما ںخراما ں افغانستان میں داخل ہوئے تھے بگٹٹ بھاگتے ہوئے واپس آ رہے تھے کہ ان میں سوار روسی جوانوں کوخطرہ تھا کہ کہیں مجاہدین ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک نہ کر دیں اسی وجہ سے جہاد افغانستان کو امہ لجہادکہا جاتا ہے کہ اس سے جہاں ایک طرف کشمیر کے نوجوانوں نے حوصلہ لیا اور مسلح جدوجہد کا آغاز کیا وہیں فلسطین میں حماس کا وجود عمل میں آیاجس نے بے سروسامانی کے عالم میں انکل سام کی ناجائز اولاد اسرائیل کی ناک میں نکیل ڈالی ہوئی ہے ۔
سید صلاح الدین ابتدا میں جمہوری عمل کے ذریعہ حق خودارادیت چاہتے تھے لیکن بھارت کے ہٹ دھرم رویہ اورکشمیر میں موجود بھارتی فوجوں کے اخلاق سوز مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اورحزب المجاہدین کا قیام عمل میں آیا اور سید کو اس کا سپریم کمانڈر بنایا گیا حزب المجاہدین کے قیام میں جہاں سید صلاح الدین کا کردار ہے وہیں سید علی گیلانی کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں سید علی گیلانی نے اپنی حیات مستعار کا تقریباً75 فیصد حصہ بھارت کی جیلوں میں گزارا ہے۔ سید علی گیلانی کشمیریوں کے متفقہ قائد ہیں ۔
سید صلاح الدین نے جس حزب المجاہدین کا سنگ بنیاد رکھا تھا اس نے چند سال کے عرصہ میں ہی تناور درخت کی شکل اختیار کر لی۔ راقم کا ایک شاگر د رانا شاہد بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھارتی درندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکا ہے۔ حزب المجاہدین اس وقت کشمیرکی سب سے بڑی اور سب سے فعال جہادی تنظیم ہے ۔حزب المجاہدین کے مجاہد روایتی طریقوں سے بھارتی فوجوں کو پورے کشمیر میں زچ کرتے رہتے ہیں 2010 میں 16/17 سالہ برہان الدین مظفروانی جو انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے بعد انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کی تیاریاں کر رہا تھا لیکن اس جواں دل اور جمیل چہرہ نوجوان کے ساتھ کیا ہوا کہ اس نے یونیورسٹی میں داخلے کی تیاریاں ترک کیں اور حزب المجاہدین کے مقامی کمانڈر سے ملکر ہتھیار اُٹھانے پر آمادہ ہو گیا۔ برہان الدین مظفر وانی شہید جو انٹرمیڈیٹ کے ذہین طلبہ میں شمار ہوتا تھا اور امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوا تھا، نے حزب میں شمولیت کے بعد تربیت لی اور بھارتی فوجوں کے لیے قہرربانی بن گیا ۔ایک طرف برہان الدین مظفروانی شہید کے حملوں نے بھارتی فوجوں کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا تو دوسری جانب اس نے جدید مواصلاتی نظام کا بھرپوراستعمال کیا ۔اس نے بھارتی فوجیوں سے مجاہدین کی جھڑپوں کی ویڈیو اور آڈیوز فیس بک اور سوشل میڈیا پر اس طرح سے پھیلائی کہ ایک جانب بھارتی فوجیوں کی درندگی بے نقاب ہوئی تو دوسری جانب ان کی بزدلی بھی کھل کر سامنے آ گئی ۔برہان الدین مظفروانی نے بھارتی فوجیوں کے میدان جنگ سے بھاگنے کے وہ مناظر فیس بک اور انٹرنیٹ پر شیئر کیے کہ دنیا بھر میں بھارتی فوجوں کی جگ ہنسائی ہو گئی اور بھارتی مظالم بھی بے نقاب ہوئے ۔
6 سالہ جدوجہد میں برہان الدین مظفر وانی شہید نے وہ وہ ویڈیو کلپ شیئر کئے کہ جنہیں دیکھ کر بچے بھی ہنستے تھے کہ یہ بھارتی سورماہیں۔وہ خود بھی کشمیر میں ایک پوسٹر بوائے کے طور پر معروف تھے۔ اس کے نتیجہ میں بھارتی فوج کے سربراہ نے احکامات جاری کیے تھے کہ اسے برہان الدین مظفروانی چاہیے اور زندہ نہیں مردہ چاہیے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کا سربراہ بھی ایک 20/21 سالہ مجاہد سے خوفزدہ تھا کہ وہ زندہ مجاہد کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا شاید اسے خوف تھا کہ برہان الدین مظفر وانی اسے بھی شمشان گھاٹ نہ پہنچادے 5/6 سال تک بھارتی فوجوں کے لیے ڈریکولابنے رہنے والے برہان الدین مظفروانی کو 8جولائی 2016کو کپواڑہ میں 200 سے زائد بھارتی فوجیوں نے گھیر کر شہید کر دیا لیکن برہان الدین مظفروانی جس کے جسم پر 50 سے زائد گولیاں لگیں اس طرح بھارتیوں کے لئے خوف کی علامت بنا رہا کہ 6 گھنٹے سے زائد وقت تک کسی بھی بھارتی فوجی کو ہمت نہیں ہوئی تھی کہ شہید کے قریب جا پاتا ۔برہان الدین مظفروانی کو شہید ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا لیکن اس نے اپنی حیات میں مجاہدین کو جو راستہ دکھایا تھا اس راستہ نے بھارت کو ایسا زچ کیا ہے کہ پورا کشمیر مواصلاتی رابطوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس طویل عرصہ مسلسل بند رہتی ہے ۔برہان الدین مظفروانی شہید کی شہادت کے بعد چار ماہ سے زائد عرصہ تک انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی تھی لیکن جواں ہمت مجاہدین نے اس کا حل بھی نکال لیا ۔برہان الدین مظفروانی شہید نے جو راستہ اختیار کیا تھا اس راستہ پر آج کشمیر کا تقریباً ہر مجاہد چل رہا ہے۔ حزب کے ایک اور کمانڈر سبزارعلی شہید نے رمضان المبارک کے دوران جام شہادت نوش کر کے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ اس کی بھلا ئی اسی میں ہے کہ وہ کشمیر سے نکل جائے ورنہ روس تو صرف سات ریاستوں میں تقسیم ہوا ہے بھارت کے ٹکرے گننے کے لیے کرکٹ کی اسکور بک بنانا پڑے گی۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں پہلے بھی مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات پیش آتے رہے وجود - هفته 04 دسمبر 2021

سیالکوٹ واقعہ ،پاکستان میں پہلے بھی مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات پیش آتے رہے۔اپریل 2017 میں خیبر پختونخوا میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کو اسی یونیورسٹی کے طلبہ نے توہین مذہب کا الزام لگا کر مشتعل ہجوم کی صورت میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ اس کی جان چلی گئی، تحقیقات میں توہین مذہب کے الزامات جھوٹے نکلے۔2014 میں پنجاب میں مشتعل ہجوم نے ایک مسیحی جوڑے کو توہین مذہب کے الزام میں تشدد کرکے جان سے مار ڈالا اور سفاکی سے ان کی لاش کو آگ لگا دی۔مارچ ...

پاکستان میں پہلے بھی مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات پیش آتے رہے

سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کے تشدد سے سری لنکن منیجر ہلاک،نعش نذر آتش، 50 گرفتار وجود - جمعه 03 دسمبر 2021

تھانہ اگوکی کے علاقہ وزیر آباد روڈ پر واقع نجی فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو ملازمین نے توہین رسالت کے الزام میں تشدد کرکے قتل کرنے کے بعد نعش نذر آتش کردی ۔ پولیس نے واقعے میں ملوث 50 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دے دیا۔وزیراعلی عثمان بزدار نے آئی جی پنجاب رپورٹ طلب کرلی۔مشتعل افراد کا دعوی ہے کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی ...

سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کے تشدد سے سری لنکن منیجر ہلاک،نعش نذر آتش، 50 گرفتار

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود - جمعه 03 دسمبر 2021

طالبان حکومت نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیا جائے اور شادی بھی ان کی مرضی سے کرائیں۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان کی جانب سے ایک حکم نامے میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ لڑکیوں کی شادی کے لیے ان کی رضامندی حاصل کرنا چاہیئے۔حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں گی۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عورت کوئی جائیداد نہیں بلکہ...

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود - جمعه 03 دسمبر 2021

افغانستان میں طالبان حکومت نے ایران سے سرحدی جھڑپوں میں 9ایرانی سرحدی گارڈز ہلاک ہونے کا دعوی کیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ایران سے جھڑپیں مقامی سطح پرغلط فہمی کی وجہ سے ہوئی تھیں لیکن افغان اورایرانی حکام کے باہمی رابطوں کے باعث اب صورتحال قابو میں ہے۔دوروزقبل نمروزکے سرحدی علاقے میں ایران اورطالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں تھیں جس میں مقامی طالبان حکام نے ایران کی3چیک پوسٹوں پرقبضے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔نمروز کے گورنرکے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان...

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

گورنر سندھ کے غیر قانونی تعمیرات سے متعلق آرڈیننس پر تحفظات وجود - جمعه 03 دسمبر 2021

گورنرسندھ نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے غیرقانونی تعمیرات سے متعلق آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کردیا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے ایک کمیشن کی اجارہ داری قائم ہوجائے گی، جس سے کرپشن اور رشوت کا راستہ کھل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کس کی زمین چھوڑنی ہے،کس کی زمین غیرقانونی ہے ، کمیٹی کے بعد الگ بحث چھڑجائیگی، آرڈینس کا سربراہ ریٹائرڈ جج ہوگا لیکن کمیٹی کے دیگر ممبران مختلف ہوں گے اور جج خود مختار نہیں ہوگا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ کمی...

گورنر سندھ کے غیر قانونی تعمیرات سے متعلق آرڈیننس پر تحفظات

آئی ایم ایف کی شرط پر 350 ارب روپے کے ٹیکسوں پر مشتمل منی بجٹ توثیق کیلئے لاء ڈویژن بھیج دیاگیا وجود - جمعه 03 دسمبر 2021

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی ایم ایف کی شرط پر 350 ارب روپے کے ٹیکسوں پر مشتمل منی بجٹ توثیق کیلئے لاء ڈویژن کو بھجوادیا۔لاء ڈویژن کی توثیق کے بعد کابینہ سے منظوری کیلئے بجٹ پیش کیا جائے گا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد آرڈیننس جاری کرنے یا پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کرنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔ بجٹ کو فوری نافذ کرنے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری کئے جانیکا امکان ہے۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق منی بجٹ میں آئی ایم ایف شرائط کے تحت ٹیکس چھوٹ و رعایات اورمراعات ختم کی جارہی ہیں۔ 350 ارب روپے...

آئی ایم ایف کی شرط پر 350 ارب روپے کے ٹیکسوں پر مشتمل منی بجٹ توثیق کیلئے لاء ڈویژن بھیج دیاگیا

پاکستان اسٹاک ایکس چینج کریش کرگئی، سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے وجود - جمعه 03 دسمبر 2021

پاکستان اسٹاک ایکس چینج جمعرات کو کریش کرگئی اور تاریخ کی چوتھی بڑی مندی ہوئی ہے جس میں سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے۔ سود کی شرح میں مزید نمایاں اضافے کے خدشات سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج جمعرات کو کریش کی صورتحال سے دوچار رہا۔ مہنگائی اور تجارتی خسارہ بڑھنے سے سرمایہ کاروں نے خوف زدہ ہوکر دھڑا دھڑ حصص فروخت کیے جس سے کاروبار کے ابتداء سے ہی مارکیٹ بدترین مندی کی لپیٹ میں رہی اور انڈیکس کی 45000 اور 44000 پوائنٹس کی نفسیاتی حدیں گرگئیں۔ مندی کے سبب 93 فیصد حصص کی...

پاکستان اسٹاک ایکس چینج کریش کرگئی، سرمایہ کاروں کے 3 کھرب 32 ارب روپے ڈوب گئے

متحدہ اپوزیشن کا پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی 'اِن۔کیمرہ' بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - جمعرات 02 دسمبر 2021

پارلیمنٹ میں موجودہ متحدہ اپوزیشن نے باہمی مشاورت اور غوروخوض کے بعد حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی اِن کیمرہ بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پارلیمان کو ربڑسٹیمپ کے طورپر استعمال کرنے کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہے،سلیکٹڈ وزیراعظم مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت اہم ترین قومی معاملات پر بلائے جانے والے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے ،وہ مشاورت کی جمہوری روح، فیصلہ سازی میں مختلف آراء کی اہمیت اور مخالف نکتہ ہائے نظر کی افادیت سے نابلد ہیں، ...

متحدہ اپوزیشن کا پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی 'اِن۔کیمرہ' بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود - جمعرات 02 دسمبر 2021

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کْنگ میں ہوئی ہے۔افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں جو آخری اطلاعات تک جاری ہیں۔لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھا...

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

پنجاب حکومت کا بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کروانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 02 دسمبر 2021

پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر انتخاب کو لوکل باڈیز ایکٹ میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعلی سردار عثمان بزدار نے لوکل باڈیز ایکٹ میں ای وی ایم مشین پر انتخاب کی شق کو شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ وفاقی حکومت قانون بنا چکی ہے اورپنجاب حکومت بھی ای وی ایم کو لوکل باڈیز ایکٹ کا حصہ بنائے گی۔

پنجاب حکومت کا بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کروانے کا فیصلہ

حکومت پیٹرول پر ٹیکس ڈیوٹیز کی مد میں 27روپے 24پیسے وصول کرنے لگی وجود - جمعرات 02 دسمبر 2021

عوام پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور ٹیکسز کے بوجھ تلے دبنے لگی اور پیٹرول پر ٹیکسز ڈیوٹیز کی مد میں 27روپے24پیسے کی وصولی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیزل پر 31روپے 26پیسے فی لیٹر ٹیکس، ڈیوٹیز، مارجن اور لیوی عائد ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت خرید 118روپے 58پیسے اور قیمت فروخت 145روپے 82پیسے مقرر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت خرید 111روپے 36پیسے اور قیمت فروخت 142روپے 62پیسے فی لیٹر ہے، پیٹرول پر 3روپے 91پیسے فی لیٹر ڈیلرز مارجن وصول کیا جارہا ہے جبکہ پیٹرول پر ڈسٹری بی...

حکومت پیٹرول پر ٹیکس ڈیوٹیز کی مد میں 27روپے 24پیسے وصول کرنے لگی

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود - جمعرات 02 دسمبر 2021

بھارت میں نئی دہلی کی حکومت نے عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے پیٹرول کے ٹیکس میں کمی کردی جس کے بعد پیٹرول 8روپے فی لیٹر سستا ہوگیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی دہلی کی حکومت نے پیٹرول کی مد میں لیے جانے والی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 30 فیصد سے کم کر کے 19.40فیصد کردیا جس کے بعد بھارتی دارالحکومت میں پیٹرول کی قیمت 8روپے فی لیٹر کم ہوگئی۔نئی دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوگا۔ پیٹرول کی قیمت اب 95.97فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ڈیزل پر بھی ایکسائز ڈیوٹی...

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

مضامین
اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

کل۔چر وجود اتوار 28 نومبر 2021
کل۔چر

بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر وجود اتوار 28 نومبر 2021
بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر

عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے وجود هفته 27 نومبر 2021
عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

جارحیت کے خلاف قانون وجود هفته 27 نومبر 2021
جارحیت کے خلاف قانون

پی ڈی ایم کا کوئٹہ جلسہ اور پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پی ڈی ایم کا کوئٹہ جلسہ اور پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس

اشتہار

افغانستان
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ وجود بدھ 01 دسمبر 2021
ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ

طالبان کی ایئرپورٹس کا نظام چلانے کے لیے یورپی یونین سے مدد کی درخواست وجود پیر 29 نومبر 2021
طالبان کی ایئرپورٹس کا نظام چلانے کے لیے یورپی یونین سے مدد کی درخواست

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام

نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟ وجود جمعرات 11 نومبر 2021
نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار  بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟