وجود

... loading ...

وجود

سندھ کے جیل غیر محفوظ‘ محکمہ انسداد دہشت گردی کی نشاندہی کے باوجود حکومت سندھ کی غفلت

بدھ 21 جون 2017 سندھ کے جیل غیر محفوظ‘ محکمہ انسداد دہشت گردی کی نشاندہی کے باوجود حکومت سندھ کی غفلت

سید غوث علی شاہ جب وزیراعلیٰ سندھ تھے تو اس وقت ان کے گھر سے پانچ کلو میٹر دور سینٹرل جیل سکھر توڑ دیا گیا تھا اور کئی خطرناک ڈاکو وہاں سے فرار ہوگئے تھے تو اس وقت بھونچال آگیا تھا اور کئی کہانیاں منظر عام پر آئی تھیں مگر آج تک اس تخریب کاری کی تحقیقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کا تعین ہوا ج۔س کے باعث آنے والے وقتوں میں جنہوں نے بھی کوتاہی کی ،ان کو یہ یقین تھا کہ وہ کتنی بھی غفلت کا مظاہرہ کریں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگئی۔ اور پھر ایسے درجنوں واقعات بھی ہوئے مگر کسی اہلکار کو غفلت کی بنا پر عبرت ناک سزا نہ ملی اور جیل سے قیدی فرار ہونے کے واقعات ہوتے رہے۔ حکومت سندھ کو بھلا جیلوں کی کیوں فکر ہوگی انہیں تو صرف تنازعات پیدا کرنے ہیں ،کبھی سیاسی تنازع تو کبھی آئی جی سندھ پولیس کے ساتھ تنازعات بڑھانے ہیں۔
سندھ کی جیلوں کی حالت زار دیکھنے کے قابل ہے۔ کبھی ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وزراء نے سیاسی مخالفین کے لیے گھیراتنگ کیا۔ آفاق احمد اور یونس خان کے لیے زمین تنگ کی گئی ،یونس خان ایم پی اے تھے پھر بھی ان کو سخت ترین گرمی میں جیکب آباد میں قید کیا گیا ، پھر پی پی کا دور آیا تو ایم کیو ایم کے خطرناک ملزمان کو صوبے کی مختلف جیلوں میں رکھا جس میں صولت مرزا ،اجمل پہاڑی، عبید کے ٹو کو مختلف جیلوں میں رکھا تو ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اور پھر گورنر عشرت العباد کی کوششوں سے یہ قیدی واپس کراچی لائے گئے ۔
جیلوں کی بھی عجیب دنیا ہے۔ وہاں سے جرائم کی نگرانی کی جاتی ہے، بھتے کے لیے فون کالز کی جاتی ہیں اغوا اور قتل کی وار داتوں کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سابق گورنر عشرت العباد کے حکم پر صولت مرزا کو انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔ موبائل فون تو جیلوں میں ایسا استعمال ہوتا ہے جیسے جیل کے باہر عام شہری استعمال کرتے ہیں۔ جیلوں میں سیاسی جماعتوں ، کالعدم مذہبی جماعتوں کے قیدیوں کے لیے الگ الگ وارڈ اور بیرکس ہیں، وہاں ان کی بادشاہت قائم ہے۔ انہیں منشیات ، اسلحہ ، چاقو، خنجر، موبائل فون، ٹی وی، ریکارڈر، ڈی وی ڈی پلیئر ، سی ڈی پلیئر آرام سے مل جاتے ہیں۔ جیل کے عملہ کا بھی عجیب حال ہے وہ رشوت لے کر ممنوعہ اشیاء فراہم کرتے ہیں تو مختلف اداروں کی جانب سے تفتیش کا سامنا کرتے ہیں اور اگر سختی کرتے ہیں تو پھر وہ اچانک حملوں میں مارے جاتے ہیں۔ بس ان تنازعات میں محکمہ جیل خانہ جات چل رہا ہے۔ 90 ء میں سینٹرل جیل کراچی کے سپرٹینڈنٹ کو ایک پارسل بھیجا گیا جب اس نے پارسل کھولا تو وہ پھٹ گیا کیونکہ وہ بم تھا جس میں وہ سپرٹینڈنٹ مارا گیا۔ چند برس قبل سینٹرل جیل کراچی کے ڈپٹی سپرٹینڈنٹ امان اللہ نیازی اپنے ساتھی اہلکاروں کے ساتھ ایک حملے میں مارے گئے۔
حال ہی میں کائونٹر ٹیر رازم ڈپارٹمنٹ نے ایک لیٹر محکمہ جیل خانہ جات کو بھیجا تھا جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے تھے جس میں بتایا گیا کہ کالعدم تنظیموں نے سینٹرل جیل میں حکومتی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے خطرناک قیدیوں نے جیل کے اندر واقع جوڈیشل کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے جج کو سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیں پھر ان دہشتگردوں نے تفتیشی افسران کو بھی ڈرایا دھمکایا، جیل خانہ جات کے عملہ سے کہا گیا کہ’’ آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن کے بھائی کو کالعدم تنظیموں نے قتل کیا تھا ،اس لیے آگے سمجھ جائو ورنہ آپ لوگوں کے بھائی اور قریبی رشتے دار مارے جائیں گے‘‘۔ اس لیٹر میں یہ تجویز دی گئی کہ کالعدم تنظیموں کے خطرناک قیدیوں کو صوبہ کی مختلف جیلوں میں الگ الگ رکھا جائے تاکہ وہ مل بیٹھ کر کوئی خطرناک منصوبہ بندی نہ کرسکیں ۔اس خط کی کاپی صوبائی سیکریٹری داخلہ کو بھی ارسال کی گئی۔ لیکن اس لیٹر کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا گیا کیونکہ حکومت سندھ کو جیلوں کی حالت سدھارنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے دنوں کالعدم لشکر جھنگوی کے دو خطرناک دہشتگرد جیل کی سلاخیں کاٹ کر فرار ہوگئے تو تمام اداروں میں ہلچل مچ گئی اور سب کی آنکھیں کھل گئیں لیکن محکمہ جیل خانہ جات پھر بھی سویارہا اورجیل میں وہی سہولیات جاری رہیں۔ بھلا ہو رینجرز کا جس نے رات کے وقت سینٹرل جیل کراچی میں آپریشن کیا تو حیرت انگیز طور پر وہ اشیاء برآمد ہوئیں جس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ 35 لاکھ روپے نقد، سینکڑوںموبائل فون، سینکڑوں ٹی وی سیٹ، ایل سی ڈی، ایل ای ڈی، ڈی وی ڈی پلیئر، فرج، ڈیپ فریزر، واٹر ڈسپنسر ، خنجر، قینچیاں، چھریاں، اور دیگر ممنوعہ اشیاء ملیں۔ اب حکومت سندھ اتنا بتائے کہ جتنی چیزیں ملی ہیں اس سے تو ایک مارکیٹ بھر جائے، یہ چیزیں کس نے اور کس کی اجازت سے جیلوں میں بھیجیں؟ اس خطرناک واقعہ اور رینجرز کے آپریشن کے بعد تو سہیل انور سیال سے محکمہ جیل خانہ جات پھرواپس لے لیا جاتا، آئی جی جیل خانہ جات اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات کو ان کے عہدوں سے ہٹادیا جاتا،لیکن حکومت سندھ نے ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اب بھی وقت ہے کہ سی ٹی ڈی کی سفارشات پر عمل کیا جائے ورنہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہوسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم وجود - جمعه 15 مئی 2026

وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی وجود - جمعه 15 مئی 2026

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی وجود - جمعه 15 مئی 2026

ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

مضامین
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا وجود جمعه 15 مئی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

25کروڑمال مویشی وجود جمعه 15 مئی 2026
25کروڑمال مویشی

ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی وجود جمعه 15 مئی 2026
ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے! وجود جمعه 15 مئی 2026
اب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے!

کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر