وجود

... loading ...

وجود

ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے میں پھر ناکام،100 ارب کی کمی

بدھ 21 جون 2017 ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے میں پھر ناکام،100 ارب کی کمی


ٹیکس وصولی کاذمے دار ادارہ ایف بی آر تمام تر اختیارات اور سرکاری خزانے سے ہر طرح کی مراعات اور سہولتوں کے حصول کے باوجود ایک دفعہ پھر ٹیکس وصولی کا نظر ثانی شدہ ہدف بھی پورا کرنے میں ناکام ہوگیاہے، اور اب جبکہ اس کے پاس سال رواں کا بمشکل ایک ہی ہفتہ باقی رہ گیاہے ٹیکس وصولی کے ہدف کی تکمیل میں 100 ارب روپے کی کمی موجود ہے جسے پورا کرنا ناممکن نظر آتاہے۔ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کے نظر ثانی شدہ ہدف کے مطابق مجموعی طورپر 3,521 بلین روپے کے ٹیکس وصول کرنے تھے لیکن ایف بی آر کے حکام کو توقع ہے کہ30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران وصولی کی کل مالیت 3,421 بلین سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔ایف بی آر حکام کاکہناہے کہ اس بات کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ وصولی کی مالیت کم ازکم 3,450 بلین تک پہنچادی جائے جو کہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی لیکن یہ ہدف بھی پورا کرنا آسان نظر نہیں آتا۔
ایف بی آر کے حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا اصل ہدف 3,621 بلین مقرر کیاگیاتھا اس طرح اصل ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں 200 بلین کی کمی ہوئی ہے تاہم ایف بی آر کی ناکامیوںکو دیکھتے ہوئے ٹیکس وصولی کے مقررہ ہدف میں 100بلین روپے کی کمی کردی گئی تھی لیکن ایف بی آر کے حکام سرکاری خزانے سے بھاری تنخواہوں مراعات اور مختلف شہروں کے دوروں کے نام پر بھاری ٹی اے ڈی اے کی وصولی کے باوجود یہ نظر ثانی شدہ ہدف بھی پورا کرنے میں ناکام رہے اور حد یہ ہے کہ اس ہدف کے حصول میں ناکامی کے باوجود ان میں سے کسی میں شرمندگی یا ندامت کا کوئی شائبہ موجود نہیں ہے بلکہ ٹیکس ہدف میں مزید 100 ارب کی اس کمی کو بھی اپنا کارنامہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیںا ور اپنی ناکامی کو کامیابی ثابت کرنے کیلئے اعدادوشمار کے گورکھ دھندے پھیلا کر ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے اب یہ بہانہ تراش رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی جانے والی سہولتوں اور ریلیف خاص طورپر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، کھاد پر ٹیکسوں میں چھوٹ اور برآمدات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے دیے جانے والے پیکیجز کی وجہ سے ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہیں کیاجاسکا اور ان کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران ٹیکس وصولی میں 170 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ایف بی آر کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس حکام نے ٹیکس وصولی کے حوالے سے انتھک محنت کی ہے اور اس کے نتیجے میں جولائی 2016 سے مئی2017 کے دوران 11 ماہ میں مجموعی طورپر 2,860 ارب روپے کی وصولی کی گئی ایف بی آر کو جون میں 561 بلین روپے کی وصولی کرنا تھی لیکن جون کے دوران تعطیلات اور رمضان المبارک کے دوران دفتری اوقات میں کمی اور مہینے کے اختتام پر عید الفطر کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔واضح رہے کہ جون 2016 میں ایف بی آر نے 465 بلین روپے اور جون 2015 کے دوران 381 بلین روپے کی وصولی کی تھی اس لئے کوئی وجہ نہیں تھی کہ رواں سال جون میں 561 بلین روپے کی وصولی نہ کی جاسکتی لیکن ایف بی آر کے حکام ٹیکس وصولی کے ہدف میں اس کمی کو اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے غیر ضروری تاویلات پیش کرکے اپنا دامن بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایف بی آر کے حکام کاکہناہے کہ حکومت نے پراپرٹی پر ٹیکس کی نئی شرح کااطلاق اب اگلے مالی سال سے کرنے کافیصلہ کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اب 10 دن کے اندرملک کے
15-20 بڑے شہروں میں پراپرٹی کی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہوگا، تاہم وہ یہ بات چھپا رہے ہیں کہ ملک کے 15-20 بڑے شہروں میں پراپرٹی ٹیکس کی نئی شرح مقرر کرنے کیلئے انھیں کسی تگ ودو کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ٹیکسوں کی موجودہ شرح کو نئی شرح میں تبدیل کرناہے اور یہ کام کمپیوٹر پر گھنٹوں میں نہیں بلکہ منٹوں میں کیاجاسکتاہے اس کام کو پہاڑ ثابت کرکے اپنے آپ کو کام کے بوجھ تلے دبا ہونے کا یہ تاثر بالکل غلط ہے۔
ایف بی آر کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت نے برآمدی نوعیت کے 5 اہم سیکٹرز کو ٹیکس میں دی گئی موجودہ چھوٹ ختم کرنے کااصولی طورپر فیصلہ کرلیاہے اور اس فیصلے کو حتمی شکل دینے کیلئے غور جاری ہے۔ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ کی یہ سہولت ختم کرنے کافیصلہ بعض حلقوں کی جانب سے اس کے غلط استعمال اور بعض برآمدکنندگان کی جانب سے پیکیجنگ میٹریلز پر بھی ریفنڈ کلیم کئے جانے کے پیش نظر کیاجارہاہے جبکہ ایف بی آر حکام کے مطابق پہلے یہ معاہدہ کیاگیاتھا کہ پیکیجنگ میٹریلز پر ریفنڈ کلیم نہیں کیاجائے گا۔
ٹیکس وصولی میں ایف بی آر کے حکام کی اس ناکامی کے باوجود وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرلیاجائے گا اور انھوں نے اپنی تازہ ترین ہدایات میں بھی ایف بی آر حکام کوتلقین کی ہے کہ وہ ٹیکس وصولی کا ہدف ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں اور ایف بی آر حکام کی کوششوں کے نتیجے میں مالی سال 2012-13 کے مقابلے میں 2015-16 کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کے سربراہ محمد ارشاد نے وزیر خزانہ کو یقین دلایاہے کہ ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرلیاجائے گا جبکہ ایف بی آر کے ایک اندرونی ذریعے نے خبر دی ہے کہ ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرنے میں ناکامی کے بعد اب ایف بی آر کے حکام ٹیکس ادانہ کرنے والوں کے بینک اکائونٹس قرق کرنے پر غور کررہے ہیں اور اس حوالے سے حکومت سے اختیارات حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔تاہم خیال ہے کہ ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کے بینک اکائونٹ قرق کرنے یا سیل کرنے کے اختیارات اگلے مالی سال کے دوران ہی مل سکیں گے کیونکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اگلے مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کے اہداف ہر صورت پورے کرنے پر مصر ہیں اورانھوںنے اس حوالے سے ایف بی آر کو وزارت خزانہ کی جانب سے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی بھی کرادی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف بی آر کے حکام اگلے سال اپنی ناکامیوںکاملبہ کس پر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر