وجود

... loading ...

وجود

ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے میں پھر ناکام،100 ارب کی کمی

بدھ 21 جون 2017 ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے میں پھر ناکام،100 ارب کی کمی


ٹیکس وصولی کاذمے دار ادارہ ایف بی آر تمام تر اختیارات اور سرکاری خزانے سے ہر طرح کی مراعات اور سہولتوں کے حصول کے باوجود ایک دفعہ پھر ٹیکس وصولی کا نظر ثانی شدہ ہدف بھی پورا کرنے میں ناکام ہوگیاہے، اور اب جبکہ اس کے پاس سال رواں کا بمشکل ایک ہی ہفتہ باقی رہ گیاہے ٹیکس وصولی کے ہدف کی تکمیل میں 100 ارب روپے کی کمی موجود ہے جسے پورا کرنا ناممکن نظر آتاہے۔ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کے نظر ثانی شدہ ہدف کے مطابق مجموعی طورپر 3,521 بلین روپے کے ٹیکس وصول کرنے تھے لیکن ایف بی آر کے حکام کو توقع ہے کہ30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران وصولی کی کل مالیت 3,421 بلین سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔ایف بی آر حکام کاکہناہے کہ اس بات کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ وصولی کی مالیت کم ازکم 3,450 بلین تک پہنچادی جائے جو کہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی لیکن یہ ہدف بھی پورا کرنا آسان نظر نہیں آتا۔
ایف بی آر کے حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا اصل ہدف 3,621 بلین مقرر کیاگیاتھا اس طرح اصل ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں 200 بلین کی کمی ہوئی ہے تاہم ایف بی آر کی ناکامیوںکو دیکھتے ہوئے ٹیکس وصولی کے مقررہ ہدف میں 100بلین روپے کی کمی کردی گئی تھی لیکن ایف بی آر کے حکام سرکاری خزانے سے بھاری تنخواہوں مراعات اور مختلف شہروں کے دوروں کے نام پر بھاری ٹی اے ڈی اے کی وصولی کے باوجود یہ نظر ثانی شدہ ہدف بھی پورا کرنے میں ناکام رہے اور حد یہ ہے کہ اس ہدف کے حصول میں ناکامی کے باوجود ان میں سے کسی میں شرمندگی یا ندامت کا کوئی شائبہ موجود نہیں ہے بلکہ ٹیکس ہدف میں مزید 100 ارب کی اس کمی کو بھی اپنا کارنامہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیںا ور اپنی ناکامی کو کامیابی ثابت کرنے کیلئے اعدادوشمار کے گورکھ دھندے پھیلا کر ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے اب یہ بہانہ تراش رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی جانے والی سہولتوں اور ریلیف خاص طورپر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، کھاد پر ٹیکسوں میں چھوٹ اور برآمدات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے دیے جانے والے پیکیجز کی وجہ سے ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہیں کیاجاسکا اور ان کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران ٹیکس وصولی میں 170 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ایف بی آر کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس حکام نے ٹیکس وصولی کے حوالے سے انتھک محنت کی ہے اور اس کے نتیجے میں جولائی 2016 سے مئی2017 کے دوران 11 ماہ میں مجموعی طورپر 2,860 ارب روپے کی وصولی کی گئی ایف بی آر کو جون میں 561 بلین روپے کی وصولی کرنا تھی لیکن جون کے دوران تعطیلات اور رمضان المبارک کے دوران دفتری اوقات میں کمی اور مہینے کے اختتام پر عید الفطر کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔واضح رہے کہ جون 2016 میں ایف بی آر نے 465 بلین روپے اور جون 2015 کے دوران 381 بلین روپے کی وصولی کی تھی اس لئے کوئی وجہ نہیں تھی کہ رواں سال جون میں 561 بلین روپے کی وصولی نہ کی جاسکتی لیکن ایف بی آر کے حکام ٹیکس وصولی کے ہدف میں اس کمی کو اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے غیر ضروری تاویلات پیش کرکے اپنا دامن بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایف بی آر کے حکام کاکہناہے کہ حکومت نے پراپرٹی پر ٹیکس کی نئی شرح کااطلاق اب اگلے مالی سال سے کرنے کافیصلہ کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اب 10 دن کے اندرملک کے
15-20 بڑے شہروں میں پراپرٹی کی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہوگا، تاہم وہ یہ بات چھپا رہے ہیں کہ ملک کے 15-20 بڑے شہروں میں پراپرٹی ٹیکس کی نئی شرح مقرر کرنے کیلئے انھیں کسی تگ ودو کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ٹیکسوں کی موجودہ شرح کو نئی شرح میں تبدیل کرناہے اور یہ کام کمپیوٹر پر گھنٹوں میں نہیں بلکہ منٹوں میں کیاجاسکتاہے اس کام کو پہاڑ ثابت کرکے اپنے آپ کو کام کے بوجھ تلے دبا ہونے کا یہ تاثر بالکل غلط ہے۔
ایف بی آر کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت نے برآمدی نوعیت کے 5 اہم سیکٹرز کو ٹیکس میں دی گئی موجودہ چھوٹ ختم کرنے کااصولی طورپر فیصلہ کرلیاہے اور اس فیصلے کو حتمی شکل دینے کیلئے غور جاری ہے۔ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ کی یہ سہولت ختم کرنے کافیصلہ بعض حلقوں کی جانب سے اس کے غلط استعمال اور بعض برآمدکنندگان کی جانب سے پیکیجنگ میٹریلز پر بھی ریفنڈ کلیم کئے جانے کے پیش نظر کیاجارہاہے جبکہ ایف بی آر حکام کے مطابق پہلے یہ معاہدہ کیاگیاتھا کہ پیکیجنگ میٹریلز پر ریفنڈ کلیم نہیں کیاجائے گا۔
ٹیکس وصولی میں ایف بی آر کے حکام کی اس ناکامی کے باوجود وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرلیاجائے گا اور انھوں نے اپنی تازہ ترین ہدایات میں بھی ایف بی آر حکام کوتلقین کی ہے کہ وہ ٹیکس وصولی کا ہدف ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں اور ایف بی آر حکام کی کوششوں کے نتیجے میں مالی سال 2012-13 کے مقابلے میں 2015-16 کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کے سربراہ محمد ارشاد نے وزیر خزانہ کو یقین دلایاہے کہ ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرلیاجائے گا جبکہ ایف بی آر کے ایک اندرونی ذریعے نے خبر دی ہے کہ ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرنے میں ناکامی کے بعد اب ایف بی آر کے حکام ٹیکس ادانہ کرنے والوں کے بینک اکائونٹس قرق کرنے پر غور کررہے ہیں اور اس حوالے سے حکومت سے اختیارات حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔تاہم خیال ہے کہ ایف بی آر کو ٹیکس نادہندگان کے بینک اکائونٹ قرق کرنے یا سیل کرنے کے اختیارات اگلے مالی سال کے دوران ہی مل سکیں گے کیونکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اگلے مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کے اہداف ہر صورت پورے کرنے پر مصر ہیں اورانھوںنے اس حوالے سے ایف بی آر کو وزارت خزانہ کی جانب سے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی بھی کرادی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف بی آر کے حکام اگلے سال اپنی ناکامیوںکاملبہ کس پر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر