وجود

... loading ...

وجود

دہشت گردی کے نتیجے میں عالمی معیشت کو90ارب ڈالرکا دھچکا

اتوار 18 جون 2017 دہشت گردی کے نتیجے میں عالمی معیشت کو90ارب ڈالرکا دھچکا

انسٹیٹیوٹ فار اکنامک اینڈ پیس نے گلوبل ٹیررازم انڈکس-17 2016 جاری کردیا جس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2015 میں عالمی معیشت کو دہشت گردی کے وجہ سے 89 ارب 60 کروڑ کا نقصان ہوا ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔ اس انڈیکس کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ عراق کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور یہ نقصان عراق کے جی ڈی پی کا 17 فیصد ہے۔
تحقیق کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اْن ممالک میں جہاں دہشت گرد حملے نہیں ہوئے وہاں سیاحت کی صنعت دوگنی ہو گئی ہے۔غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندی کے شکار ممالک میں قیام امن کے لیے جو وسائل مختص کیے گئے ہیں اْس کا ملکی معیشت پر دو فیصد اثر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور بوکو حرام جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی سے ان کے حملوں میں کمی آئی ہے لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود امریکا اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں دہشت گردی کے باعث اموات کی شرح میں 650 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 2015 میں 29376 افراد دہشت گردی کے نتیجے میں مارے گئے۔ دہشت گردی کے باعث ہلاکتوں میں گذشتہ چار سال کے مقابلے اس سال 10 فیصد کمی آئی ہے۔دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان او شام میں ہوئی ہیں۔
عراق میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور نائجیریا میں بوکو حرام کے حملوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد ایک تہائی کمی آئی ہے لیکن ان تنظیموں نے پڑوسی ممالک میں اپنا کارروائیاں بڑھائی ہیں۔ جس کی وجہ سے او ای سی ڈی کے رکن ممالک میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔آرگنایئزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ میں زیادہ تر امریکا اور یورپ جیسے امیر ممالک شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق او ای سی ڈی میں شامل 34 میں سے 21 ممالک میں کم سے کم ایک بڑا حملہ ہوا ہے جس میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ جیسے ترکی اور فرانس میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حملے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں کم سے کم 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔غیرسرکاری تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ڈنمارک، فرانس، جرمنی، سویڈن اور ترکی میں گذشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات بلند ترین سطح پر ہیں۔دنیا کے 23 ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔گلوبل ٹیررازم انڈکس کا ڈیٹا امریکا میں مقیم ایک کنسورشیم جمع کرتا ہے۔دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان او شام میں ہوئی جبکہ گلوبل ٹیررارزم انڈکس امریکا 36 وین نمبر پر اور فرانس 29 ویں، روس 30 ویں اور برطانیہ 34 ویں نمبر پر ہے۔
2015 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سب سے مہلک ترین تنظیم رہی اور اس نے دنیا کے 252 شہروں حملے کیے جن میں 3141 افراد مارے گئے۔نائجیریا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ہمسایہ مالک نائجر، چیڈ اور کیمرون میں بھی بڑھ رہی ہے اور ان ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 157 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رواں دہائی کے آغاز کے بعد سے براعظم یورپ کے مختلف ممالک شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ یہاں ان حملوں کی مختصر تفصیل دی جا رہی ہے۔
7 اپریل 2017، سویڈن
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ٹرک نے کم از کم چار افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ متعدد اس واقعہ میں زخمی ہوئے تھے۔ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ رحمت عقیلوف نے عدالت میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ سویڈن کی پولیس کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کو ماضی میں رحمت عقیلوف کے بارے میں اطلاعات تھیں۔پولیس کے مطابق انھیں سویڈن میں رہائش کی اجازت نہیں ملی تھی اور وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرچکے تھے۔
19 دسمبر 2016، جرمنی
جرمنی کے شہر برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے تھے۔ جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ نے کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ان کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔اس حملے کے بعد جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے کہاتھا کہ اگر حملہ آور کوئی پناہ گزین ہوا تو یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہو گا
14 جولائی 2016، فرانس
14 جولائی 2016،کویورپ کا اہم ملک فرانس جمعرات کو ایک مرتبہ پھر شدت پسندی کے ایک حملے کا نشانہ بنا۔ جنوبی شہرنیس میں حملہ آور نے اپنے ٹرک تلے 84 افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا جبکہ اس حملے میں ایک سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔فرانس کے شہر نیس میں ایک ٹرک ڈرائیور دو کلو میٹر تک لوگوں کو کچلتا رہا تھا۔
28 جون 2016، ترکی
ترکی کے شہر استنبول کے بین الاقوامی اتاترک ہوائی اڈے پرتین خودکش حملہ آوروں نے دھماکے کیے جن میں 42 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں 13 غیرملکی بھی شامل تھے۔کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔
22 مارچ 2016، بلجیم
22 مارچ 2016، بلجیمکو بلجیمکے دارالحکومت برسلز کا ہوائی اڈہ اور شہر کا میٹرو سٹیشن تین دھماکوں کا نشانہ بنا جو کہ خودکش تھے۔ ان حملوں میں 34 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 150 سے زیادہ تھی۔بلجیم وزیرِ اعظم شارل میشیل نے ان حملوں کو ملک کی تاریخ کا ‘سیاہ لمحہ’ قرار دیا۔
13 مارچ 2016، ترکی
13 مارچ 2016، ترکی خودکش حملہ آور کا ہدف ترک دارالحکومت انقرہ کا ایک مصروف اور پرہجوم علاقہ کیزلے تھا۔ دھماکے میں 34 افراد کی جان گئی جبکہ 125 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کردش فریڈم ہاکس نامی جنگجو گروہ نے قبول کی۔
13 نومبر 2015، فرانس
فرانس کا دارالحکومت 13 نومبر کو اس وقت دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا جب شہر کے چھ مقامات پر شدت پسندوں نے ریستورانوں، موسیقی کی تقریب اور فٹبال سٹیڈیم کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی جبکہ فرانسیسی صدر نے اس کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
7 جنوری 2015، فرانس
7 جنوری 2015، فرانس کے دارالحکومتپیرس میں متنازع سیاسی رسالے چارلی ایبڈو کے دفتر اور ایک یہودی سپر مارکیٹ پر مسلح حملہ آوروں نے سلسلہ وار حملوں میں 17 افراد کو ہلاک کر دیا۔
پہلے سعید اور شریف کواشی نامی دو بھائیوں نے چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کر دی جس سے 12 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ایک اور شدت پسند نے ایک یہودی سپر مارکیٹ میں مزید افراد کو نشانہ بنایا۔یہ تمام حملہ آور پولیس سے مقابلے میں مارے گئے۔
24 مئی 2014، بلجیم
24 مئی 2014، بلجیم کے دارالحکومت برسلز کے یہودی عجائب گھر میں کلاشنکوف سے مسلح شخص کی فائرنگ سے چار افراد مارے گئے۔ہلاک شدگان میں دو اسرائیلی شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق بیلجیئم اور ایک کا فرانس سے تھا۔حملہ آور کا نام مہدی نموش بتایا گیا جسے بعد ازاں فرانس سے گرفتار کر کے بیلجیئن حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس کا تعلق شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بتایا گیا۔برسلز میں حملے کے بعد سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا تھا
19 مارچ 2012، فرانس
شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک ہونے کے دعویدار محمد مراح نامی شخص نے19 مارچ 2012، فرانس کے جنوبی شہر تولوز میں فائرنگ کر کے یہودی سکول کے تین طلبا، ایک ربی اور تین فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ فرانسیسی پولیس نے 32 گھنٹے کے محاصرے کے بعد حملہ آور کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
22 جولائی 2011، ناروے
ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند نظریات رکھنے والے حملہ آور آنرش بہرنگ بریوک نے22 جولائی 2011، کو پہلے دارالحکومت اوسلو میں ایک بم دھماکہ کیا اور اس کے بعد یوٹویا نامی جزیرے پر نارویجن لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ میں گھس کر فائرنگ کر دی اور ان واقعات میں 77 افراد جان سے گئے جن میں سے بیشتر نوجوان تھے۔ان حملوں کے بعد بریوک کو حراست میں لے لیا گیا اور عدالت نے مقدمہ چلانے کے بعد انھیں 21 برس قید کی سزا سنائی۔
یورپ کا اہم اورسب سے زیادہ مضبوط تصور کیاجانے والا ملک برطانیہ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد گزشتہ دنوں ایک بار پھر ایک بڑا حملہ ہوا ہے جس میں 19 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں برطانیہ کے معروف شہر مانچسٹر میں جاری ایک کنسرٹ کے دوران پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک دھماکے کے سبب ہوئی ہیں۔پولیس ابھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اسے مبینہ طور پر دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سات جولائی 2005 میں لندن بم دھماکوں میں چار حملہ آور سمیت 56 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
برطانیہ کی حساس ادارے ایم آئی 6 کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو جس سطح کے دہشت گردی کے خطرے کا اس وقت ہے ‘ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔’ایم آئی 6 کے سربراہ ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ برطانوی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں نے جون 2013 سے دہشت گردی کے 12 منصوبوں کا ناکام بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بیشتر خطرات مشرق وسطیٰ کے غیر حکومتی علاقوں سے ہیں جیسا کہ شام اور عراق۔ایلکس ینگر نے ‘مخلوط جنگ’ کے بارے میں بھی خبردار کیا جن میں سائبر حملے اور ‘جمہوریت کو الٹنا’ شامل ہیں، جو ان کے خیال میں ‘ تیزی سے خطرناک صورتحال اختیار کر رہا ہے۔’ایم آئی 6 کے سربراہ کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے روس کے شام میں صدر بشار الاسد کے ساتھ اتحاد کے بارے انھوں نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کو دہشت گرد سمجھنے کے اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ روس کی شام میں کارروائی، جو اسد کی حکومت کا اتحادی ہے، اگر انھوں نے اپنا راستہ تبدیل نہ کیا تو وہ قانونی حیثیت کھو دینے کے خطرے سے دوچار ہونے کی ایک افسوس ناک مثال بن سکتے ہیں۔’ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس جگہ سے ابھرنے والے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک خانہ جنگی کا اختتام نہیں ہو جاتا۔لندن میں ایم آئی 6 کے ہیڈکوارٹرز میں ایلکس ینگر نے صحافیوں کا بتایا کہ ‘دولت اسلامیہ نے شام کی صورتحال کو خطے میں اپنا مضبوط گڑھ بنانے کے لیے استعمال کیا ہوا ہے اور مغرب کے خلاف جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ کے پاس انتہائی منظم انداز میں حملے کرنے کا نظام تھا جس کے ذریعے وہ
برطانیہ اور اس کے اتحادیوں پر ‘شام کو چھوڑے بغیر ہی’ حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
جمال احمد


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر