وجود

... loading ...

وجود

دہشت گردی کے نتیجے میں عالمی معیشت کو90ارب ڈالرکا دھچکا

اتوار 18 جون 2017 دہشت گردی کے نتیجے میں عالمی معیشت کو90ارب ڈالرکا دھچکا

انسٹیٹیوٹ فار اکنامک اینڈ پیس نے گلوبل ٹیررازم انڈکس-17 2016 جاری کردیا جس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2015 میں عالمی معیشت کو دہشت گردی کے وجہ سے 89 ارب 60 کروڑ کا نقصان ہوا ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔ اس انڈیکس کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ عراق کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور یہ نقصان عراق کے جی ڈی پی کا 17 فیصد ہے۔
تحقیق کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اْن ممالک میں جہاں دہشت گرد حملے نہیں ہوئے وہاں سیاحت کی صنعت دوگنی ہو گئی ہے۔غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندی کے شکار ممالک میں قیام امن کے لیے جو وسائل مختص کیے گئے ہیں اْس کا ملکی معیشت پر دو فیصد اثر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور بوکو حرام جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی سے ان کے حملوں میں کمی آئی ہے لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود امریکا اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں دہشت گردی کے باعث اموات کی شرح میں 650 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 2015 میں 29376 افراد دہشت گردی کے نتیجے میں مارے گئے۔ دہشت گردی کے باعث ہلاکتوں میں گذشتہ چار سال کے مقابلے اس سال 10 فیصد کمی آئی ہے۔دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان او شام میں ہوئی ہیں۔
عراق میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور نائجیریا میں بوکو حرام کے حملوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد ایک تہائی کمی آئی ہے لیکن ان تنظیموں نے پڑوسی ممالک میں اپنا کارروائیاں بڑھائی ہیں۔ جس کی وجہ سے او ای سی ڈی کے رکن ممالک میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔آرگنایئزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ میں زیادہ تر امریکا اور یورپ جیسے امیر ممالک شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق او ای سی ڈی میں شامل 34 میں سے 21 ممالک میں کم سے کم ایک بڑا حملہ ہوا ہے جس میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ جیسے ترکی اور فرانس میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حملے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں کم سے کم 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔غیرسرکاری تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ڈنمارک، فرانس، جرمنی، سویڈن اور ترکی میں گذشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات بلند ترین سطح پر ہیں۔دنیا کے 23 ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔گلوبل ٹیررازم انڈکس کا ڈیٹا امریکا میں مقیم ایک کنسورشیم جمع کرتا ہے۔دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان او شام میں ہوئی جبکہ گلوبل ٹیررارزم انڈکس امریکا 36 وین نمبر پر اور فرانس 29 ویں، روس 30 ویں اور برطانیہ 34 ویں نمبر پر ہے۔
2015 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سب سے مہلک ترین تنظیم رہی اور اس نے دنیا کے 252 شہروں حملے کیے جن میں 3141 افراد مارے گئے۔نائجیریا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ہمسایہ مالک نائجر، چیڈ اور کیمرون میں بھی بڑھ رہی ہے اور ان ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 157 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رواں دہائی کے آغاز کے بعد سے براعظم یورپ کے مختلف ممالک شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ یہاں ان حملوں کی مختصر تفصیل دی جا رہی ہے۔
7 اپریل 2017، سویڈن
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ٹرک نے کم از کم چار افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ متعدد اس واقعہ میں زخمی ہوئے تھے۔ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ رحمت عقیلوف نے عدالت میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ سویڈن کی پولیس کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کو ماضی میں رحمت عقیلوف کے بارے میں اطلاعات تھیں۔پولیس کے مطابق انھیں سویڈن میں رہائش کی اجازت نہیں ملی تھی اور وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرچکے تھے۔
19 دسمبر 2016، جرمنی
جرمنی کے شہر برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے تھے۔ جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ نے کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ان کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔اس حملے کے بعد جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے کہاتھا کہ اگر حملہ آور کوئی پناہ گزین ہوا تو یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہو گا
14 جولائی 2016، فرانس
14 جولائی 2016،کویورپ کا اہم ملک فرانس جمعرات کو ایک مرتبہ پھر شدت پسندی کے ایک حملے کا نشانہ بنا۔ جنوبی شہرنیس میں حملہ آور نے اپنے ٹرک تلے 84 افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا جبکہ اس حملے میں ایک سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔فرانس کے شہر نیس میں ایک ٹرک ڈرائیور دو کلو میٹر تک لوگوں کو کچلتا رہا تھا۔
28 جون 2016، ترکی
ترکی کے شہر استنبول کے بین الاقوامی اتاترک ہوائی اڈے پرتین خودکش حملہ آوروں نے دھماکے کیے جن میں 42 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں 13 غیرملکی بھی شامل تھے۔کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔
22 مارچ 2016، بلجیم
22 مارچ 2016، بلجیمکو بلجیمکے دارالحکومت برسلز کا ہوائی اڈہ اور شہر کا میٹرو سٹیشن تین دھماکوں کا نشانہ بنا جو کہ خودکش تھے۔ ان حملوں میں 34 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 150 سے زیادہ تھی۔بلجیم وزیرِ اعظم شارل میشیل نے ان حملوں کو ملک کی تاریخ کا ‘سیاہ لمحہ’ قرار دیا۔
13 مارچ 2016، ترکی
13 مارچ 2016، ترکی خودکش حملہ آور کا ہدف ترک دارالحکومت انقرہ کا ایک مصروف اور پرہجوم علاقہ کیزلے تھا۔ دھماکے میں 34 افراد کی جان گئی جبکہ 125 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کردش فریڈم ہاکس نامی جنگجو گروہ نے قبول کی۔
13 نومبر 2015، فرانس
فرانس کا دارالحکومت 13 نومبر کو اس وقت دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا جب شہر کے چھ مقامات پر شدت پسندوں نے ریستورانوں، موسیقی کی تقریب اور فٹبال سٹیڈیم کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی جبکہ فرانسیسی صدر نے اس کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
7 جنوری 2015، فرانس
7 جنوری 2015، فرانس کے دارالحکومتپیرس میں متنازع سیاسی رسالے چارلی ایبڈو کے دفتر اور ایک یہودی سپر مارکیٹ پر مسلح حملہ آوروں نے سلسلہ وار حملوں میں 17 افراد کو ہلاک کر دیا۔
پہلے سعید اور شریف کواشی نامی دو بھائیوں نے چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کر دی جس سے 12 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ایک اور شدت پسند نے ایک یہودی سپر مارکیٹ میں مزید افراد کو نشانہ بنایا۔یہ تمام حملہ آور پولیس سے مقابلے میں مارے گئے۔
24 مئی 2014، بلجیم
24 مئی 2014، بلجیم کے دارالحکومت برسلز کے یہودی عجائب گھر میں کلاشنکوف سے مسلح شخص کی فائرنگ سے چار افراد مارے گئے۔ہلاک شدگان میں دو اسرائیلی شہری تھے جبکہ ایک کا تعلق بیلجیئم اور ایک کا فرانس سے تھا۔حملہ آور کا نام مہدی نموش بتایا گیا جسے بعد ازاں فرانس سے گرفتار کر کے بیلجیئن حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس کا تعلق شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بتایا گیا۔برسلز میں حملے کے بعد سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا تھا
19 مارچ 2012، فرانس
شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک ہونے کے دعویدار محمد مراح نامی شخص نے19 مارچ 2012، فرانس کے جنوبی شہر تولوز میں فائرنگ کر کے یہودی سکول کے تین طلبا، ایک ربی اور تین فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ فرانسیسی پولیس نے 32 گھنٹے کے محاصرے کے بعد حملہ آور کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
22 جولائی 2011، ناروے
ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند نظریات رکھنے والے حملہ آور آنرش بہرنگ بریوک نے22 جولائی 2011، کو پہلے دارالحکومت اوسلو میں ایک بم دھماکہ کیا اور اس کے بعد یوٹویا نامی جزیرے پر نارویجن لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ میں گھس کر فائرنگ کر دی اور ان واقعات میں 77 افراد جان سے گئے جن میں سے بیشتر نوجوان تھے۔ان حملوں کے بعد بریوک کو حراست میں لے لیا گیا اور عدالت نے مقدمہ چلانے کے بعد انھیں 21 برس قید کی سزا سنائی۔
یورپ کا اہم اورسب سے زیادہ مضبوط تصور کیاجانے والا ملک برطانیہ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد گزشتہ دنوں ایک بار پھر ایک بڑا حملہ ہوا ہے جس میں 19 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں برطانیہ کے معروف شہر مانچسٹر میں جاری ایک کنسرٹ کے دوران پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک دھماکے کے سبب ہوئی ہیں۔پولیس ابھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اسے مبینہ طور پر دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سات جولائی 2005 میں لندن بم دھماکوں میں چار حملہ آور سمیت 56 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
برطانیہ کی حساس ادارے ایم آئی 6 کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو جس سطح کے دہشت گردی کے خطرے کا اس وقت ہے ‘ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔’ایم آئی 6 کے سربراہ ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ برطانوی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں نے جون 2013 سے دہشت گردی کے 12 منصوبوں کا ناکام بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بیشتر خطرات مشرق وسطیٰ کے غیر حکومتی علاقوں سے ہیں جیسا کہ شام اور عراق۔ایلکس ینگر نے ‘مخلوط جنگ’ کے بارے میں بھی خبردار کیا جن میں سائبر حملے اور ‘جمہوریت کو الٹنا’ شامل ہیں، جو ان کے خیال میں ‘ تیزی سے خطرناک صورتحال اختیار کر رہا ہے۔’ایم آئی 6 کے سربراہ کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے روس کے شام میں صدر بشار الاسد کے ساتھ اتحاد کے بارے انھوں نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کو دہشت گرد سمجھنے کے اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ روس کی شام میں کارروائی، جو اسد کی حکومت کا اتحادی ہے، اگر انھوں نے اپنا راستہ تبدیل نہ کیا تو وہ قانونی حیثیت کھو دینے کے خطرے سے دوچار ہونے کی ایک افسوس ناک مثال بن سکتے ہیں۔’ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس جگہ سے ابھرنے والے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک خانہ جنگی کا اختتام نہیں ہو جاتا۔لندن میں ایم آئی 6 کے ہیڈکوارٹرز میں ایلکس ینگر نے صحافیوں کا بتایا کہ ‘دولت اسلامیہ نے شام کی صورتحال کو خطے میں اپنا مضبوط گڑھ بنانے کے لیے استعمال کیا ہوا ہے اور مغرب کے خلاف جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ کے پاس انتہائی منظم انداز میں حملے کرنے کا نظام تھا جس کے ذریعے وہ
برطانیہ اور اس کے اتحادیوں پر ‘شام کو چھوڑے بغیر ہی’ حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
جمال احمد


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر