... loading ...
یوں تو حکومت سندھ نے تازہ بجٹ میں بھی بہت سے دعویٰ کیے ہیں، خاص طو رپر روایتی جملہ بار بار دہرایا ہے کہ ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان جملوں کو سن سن کر عوام کے کان پک گئے ہیں مگر کیا کیا جائے؟ پی پی کی قیادت کو تو دکانداری چمکانی ہے ،اس لیے عوام کو ہردفعہ نیا لالی پاپ دیا جاتا ہے ،کبھی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، کبھی بے نظیر بھٹو کی شہادت تو کبھی میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی شہادت جیسے دکھڑے سنا کر لوگوں کی ہمدردیا ں سمیٹی جاتی ہیں۔ پچھلے دس سالوں سے سندھ میں پیپلز پارٹی بلاتعطل سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے ،اپنی مرضی سے حکومت کرتی رہی ہے۔ لیکن جتنی زیادتیاں حکومت سندھ نے سندھ کے عوام کے ساتھ کی ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اور مزید اربات یہ ہے کہ صوبے کے 29 اضلاع میں سے کراچی کے 6 اضلاع، حیدر آباد، لاڑکانہ ، نواب شاہ اور خیر پور میں تو ترقیاتی کام کرائے گئے لیکن باقی 19 اضلاع صرف اللہ کے آسرے پر ہیں۔ لاڑکانہ میں ترقیاتی کاموں کے نام پر 90 ارب روپے کاخرچ دکھایا گیا لیکن لاڑکانہ میں آج بھی گلیوں میں گٹر کا پانی ابل رہا ہے اوروہاں تو سڑکوں پر پیدل چلنا بھی محال ہے۔ تھر پر30 ارب روپے سے زائد کا خرچ ظاہر کیا گیا لیکن کسی ایک بھی شہر میں بنیادی سہولت میسر نہیں ہے ۔قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں سندھ کا ترقیاتی بجٹ بے رحمانہ طریقے سے استعمال کیا گیا نتیجہ کیا نکلا ،آصف زرداری، فریال تالپر، حاجی علی حسن زرداری، انور مجید، اویس مظفر ٹپی، شرجیل میمن، سہیل انور سیال امیر سے امیر ترین بن گئے اور سندھ کے عوام دن بدن غریب ترہوتے گئے ۔پچھلے 9 برسوں میں کس طرح بجٹ کا بے رحمانہ استعمال کیا گیا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل تفصیلات سے لگایا جاسکتا ہے ۔2008-9 میں ترقیاتی بجٹ 55 ارب روپے تھا،خرچ 34 ارب روپے ہوا اور 21ارب روپے لیپس ہوگئے یعنی وہ رقم خرچ نہ ہونے کے باعث واپس کیے گئے ۔2009-10 میں ترقیاتی بجٹ 75 ارب روپے رکھا گیا جس میں56 ارب روپے خرچ ہوسکے اور 19 ارب روپے خرچ نہ ہونے کے باعث واپس کیے گئے۔ 2010-11 میں ترقیاتی بجٹ 77 ارب روپے تھا جس میں سے 46 ارب روپے خرچ ہوسکے اور 31 ارب روپے خرچ نہ ہونے کے باعث واپس کیے گئے ۔2011-12 میں ترقیاتی بجٹ 111 ارب روپے تھا جس میں سے 84 ارب روپے خرچ کیے گئے اور 27 ارب روپے خرچ نہ ہونے کے باعث واپس کر دیئے گئے ۔2012-13 میں ترقیاتی بجٹ 161 ارب روپے تھا جس میں69 ارب روپے خرچ کیا جاسکا اور 92 ارب روپے خرچ نہ ہونے کے باعث اوپس کیے گئے۔ 2013-14 میں ترقیاتی بجٹ 165 ارب روپے تھا جس میں سے 85 ارب روپے خرچ کیے جاسکے اور 80 ارب روپے خرچ نہ کرنے کے باعث واپس کر دیئے گئے ۔2014-15 میں ترقیاتی بجٹ کم کرکے 143 ارب روپے مختص کیا گیا جس میں 100 ارب روپے خرچ کیے گئے اور 43 ارب روپے واپس کر دیے گئے 2015-16 میں ترقیاتی بجٹ کم کرکے 142 ارب روپے کیا گیا اور اس میں سے99 ارب روپے خرچ ہوسکے اور 43 ارب روپے خرچ نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے ۔2016-17 میں ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 200 ارب روپے کیا گیا جس میں 165 ارب روپے خرچ کیے جاسکے اور 35 ارب روپے واپس کر دیئے گئے ہیں ۔یوں پچھلے 9 سال میں حکومت سندھ نے ترقیاتی منصوبوں پر 1129 ارب روپے رکھے جس میں 876 ارب روپے جاری کیے اور ان میں سے 738 ارب روپے خرچ کرسکی اور 391 ارب روپے خرچ نہ ہونے کے باعث واپس کر دیئے گئے ۔اس طرح1129 ارب روپے میں سے738 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوسکے جبکہ تقریباً 46 فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں ہوسکا اور جو54 فیصد رقم خرچ ہوئی ہے اس کو اگر دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ اس میں سے 70 فیصد رقم با اثر افراد کی جیبوں میں چلی گئی ہے اور صرف 30 فیصد رقم خرچ ہوسکی ہے۔ 160 سے زائد منصوبے پچھلے دس سالوں میں بھی نامکمل پڑے ہیں۔ یوں حکومت سندھ بار بار دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سندھ کی خدمت کر رہی ہے لیکن اعداد و شمار نے حکومت سندھ کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ اب آخری سال ہے کیونکہ آئندہ سال عام الیکشن ہونے والے ہیں اور حکومت سندھ اس بار بھی اپنی کارکردگی دکھانے کے بجائے شام غریباں سنا کر عوام سے دھوکہ کرے گی اور ووٹ لینے کے لیے نئے ڈرامے کرے گی مگر حکومت سندھ عوام کو یہ نہیں بتائے گی کہ کس شہر کو مثالی شہر بنایا گیا ہے، کس شہر میں تعلیمی ادارے اور اسپتال بنائے گئے ہیں اور عوام کو کون سی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جس سے وہ استفادہ حاصل کر رہے ہیں؟ سندھ کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ وہ آخر بار بار کیوں دھوکہ کھا رہے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ عوام حقیقت پسندی مظاہرہ کرکے کرپٹ ٹولے کا محاسبہ کریں۔
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...