وجود

... loading ...

وجود

تعلیم دوستی کا ”اعلیٰ ثبوت“ سندھ حکومت تعلیمی بجٹ کی دستیاب رقم استعمال کرنے میں ناکام

جمعرات 08 جون 2017 تعلیم دوستی کا ”اعلیٰ ثبوت“ سندھ حکومت تعلیمی بجٹ کی دستیاب رقم استعمال کرنے میں ناکام


سندھ میں تعلیم کے شعبے کی بدحالی کااعتراف خود حکمراں بھی کرتے ہیں ٹ اس صوبے کے خستہ حال ،بنیادی سہولتوں یہاں تک کہ واش روم اور پینے کے پانی کی سہولتوں سے محروم اسکولوں کے بارے میں رپورٹوں جب منظر عام پر آتی ہیں تو عام طورپر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام یہاں تک کہ وزرا تک فنڈ ز کی نایابی کا رونا روکر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے اور ناقدین کی زبان بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن محکمہ تعلیم کے حوالے سے جو تازہ ترین اعدادوشمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی کے فنڈز نہ ہونے کارونا رونے والے ارباب اختیار رواں مالی سال کے گزشتہ 11ماہ کے دوران یعنی مئی 2017 ءتک اس محکمے کے لیے بجٹ میں مختص صرف 31فیصد رقم خرچ کرسکے اور اگر رواں ایک ماہ کے دوران بقیہ رقم خرچ نہ کی جاسکی تو یہ رقم واپس چلی جائے گی اور سندھ کے اسکول بنیادی سہولتوں سے اسی طرح محروم رہیں گے ۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے لیے سندھ کے بجٹ میں سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی کے لیے 17,233 ملین روپے مختص کیے گئے تھے،اعدادوشمار کے مطابق سندھ کی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں زیر تکمیل تعلیمی منصوبوں کے لیے 12,394.218 ملین روپے مختص کیے تھے ،یہ وہ اسکیمیں تھیں جن پر پہلے یعنی گزشتہ مالی سال کے دوران کام شروع کیاجاچکاتھا لیکن یہ مکمل نہیں ہوسکی تھیں ،اس کے علاوہ تعلیمی شعبے کی نئی اسکیموں کے لیے 4,838.782 ملین روپے رکھے گئے تھے اور ان نئی اسکیموں پر پروگرام کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کام شروع کیاجانا تھا۔
2016-17ءکے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام سے متعلق سمری کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام 172 زیر تکمیل منصوبے تھے جن میں غیر ملکی امداد سے شروع کیے گئے منصوبے بھی شامل تھے اور پہلے شروع کیے گئے ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سندھ کی حکومت نے 12,394.218 ملین روپے مختص کیے تھے اور محکمہ فنانس یعنی مالیات نے اس مقصد کے لیے 9913.210 ملین روپے کے فنڈز جاری بھی کردیے تھے ،لیکن ان تمام زیر تکمیل اسکیموں اور پراجیکٹس پر پورے 11ماہ کے دوران صرف 5219.075 ملین روپے خرچ کیے جاسکے ،جس سے ظاہر ہوتاہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام زیر تکمیل منصوبوں کی تکمیل کا کام بھی مکمل کرانے میں ناکام رہے اور اس مقصد کے لیے رکھا گیا صرف 42 فیصد فنڈ خرچ کیاجاسکا۔
اعدادوشمار کے مطابق ان زیر تکمیل منصوبوں کے علاوہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران تعلیمی شعبے میں 225 نئی اسکیموں پر بھی کام شروع کیاتھا اور ان نئی شروع کی جانے والی اسکیموں کے لیے 2016-17ءکے سندھ کے بجٹ میں 4,838. 782 ملین روپے مختص کیے گئے تھے اور محکمہ فنانس نے اس مقصد کے لیے 1270.281 ملین روپے جاری کردیے تھے لیکن ان نئے شروع کیے گئے منصوبوں پر اس میں سے صرف 123.684 ملین روپے خرچ کیے جاسکے ،اس طرح سندھ میں تعلیمی شعبے کے نئے منصوبوں کے لیے مختص رقم کا صرف 2.5 فیصد حصہ خرچ کیاجاسکا جس سے تعلیم کے شعبے سے حکومت اور ارباب حکومت کی چشم پوشی کا پتہ چلتاہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مئی 2017ءتک فنانس ڈیپارٹمنٹ نے مجموعی طورپر 11,183.491 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے لیکن محکمہ تعلیم نے رواں مالی سال کے دوران مجموعی طورپر صرف 5,342.759 ملین روپے خرچ کیے،اس طرح فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 47.8 فیصد فنڈز جاری کیے جبکہ محکمہ تعلیم نے صرف 31 فیصد فنڈز استعمال کیے۔ایسے وقت جب صوبے میں معیار تعلیم گر رہاہے اور اطلاعات کے مطابق ہزاروں طلبہ کو اسکولوں کامنہ دیکھنا میسر نہیں ہے ،اور فروری 2017ءمیں وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 2015-16 ءکے دوران پاکستان میں پرائمری ، مڈل ،ہائی اور ہائیر سیکنڈری سطح کے 66لاکھ 67 ہزار 268 طالب علم کسی نہ کسی وجہ سے تعلیمی اداروں سے باہر تھے ۔اس صورت حال میں صوبے میں تعلیم ک بہتری کے لیے رکھی جانے والی رقم استعمال نہ کرنا پورے محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم کے لیے ایک بڑا سوال ہے ، وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر تعلیم سندھ سے اس حوالے سے جواب طلب کرنا چاہیے ، اس صوبے کے عوام یہ جاننے کاحق رکھتے ہیں کہ حکومت نے محکمہ تعلیم میں ایسے کون سے گدھ بٹھا رکھے ہیں جنہیں اپنی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ اور کسی بات کی کوئی پروا نہیں اور جو اس صوبے کے عوام کو تعلیم کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے گریزاں ہیں ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ سندھ میں مجموعی طورپر 45 ہزار682 تعلیمی ادارے موجود ہیں ، جن میں 41 ہزار131 پرائمری اسکول، 2ہزار329 مڈل اسکول،ایک ہزار 696 ہائی اسکول ، 291 لائیر سیکنڈری اسکول، 41 انٹر کالج اور194ڈگری کالج شامل ہیں ۔ ان سرکاری تعلیمی اسکولوں اور کالجوں میں کم وبیش 44لاکھ79ہزار 154 طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، اس طرح پرائمری اسکولوں کی ہر کلاس میں طلبہ کی اوسط تعداد 43 ریکارڈ کی گئی ہے ۔جبکہ مڈل اسکولوں میں ہر کلاس میں اوسط 102 طلبہ اور ہائی اور ہائیرسیکنڈری اسکولوں میں فی کلاس طلبہ کی اوسط 109 ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ اس صوبے کے بیشتر اسکولوں میں طلبہ کو پینے کے صاف پانی ، بجلی ،فرنیچر ،اور ٹوائلٹس کی سہولت حاصل نہیں ہے جبکہ بیشتر اسکول چاردیواری سے بھی محروم ہیں ۔ ٹوائلٹ اور چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے خاص طورپر طالبات کو بے انتہا پریشانی کاسامنا کرنا پڑتاہے اور طالبات کو حوائج ضروریہ کے لیے بھی قریبی مکانوں کے مکینوں سے مدد حاصل کرنا پڑتی ہے ۔طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بیشتر اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کا داخلہ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
یہ صورت حال وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس صوبے کے عوام کو ناخواندگی کی دلدل سے بچانے کا نہ صرف یہ کہ عزم رکھتے ہیں بلکہ موجودہ بدترین صورتحال کو تبدیل کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر