وجود

... loading ...

وجود

مغربی ممالک میں پھوٹ امریکا وبرطانیہ ناقابل بھروسہ قرار دے دیے گئے

بدھ 31 مئی 2017 مغربی ممالک میں پھوٹ امریکا وبرطانیہ ناقابل بھروسہ قرار دے دیے گئے


امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ہی سے مغربی ممالک کے درمیان سنگین نوعیت کے اختلافات سر اٹھارہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سراقتدار آنے کے بعد یورپی ممالک پر نیٹو کے لیے رقم کی فراہمی میں اضافے کے بعد ہی سے یورپی ممالک امریکا سے ناراض نظر آرہے تھے اور نیٹو میں بھی ان کی دلچسپی کم ہوتی نظر آرہی تھی ،جبکہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے نے پہلے ہی یورپی یونین کے دیگر ممالک کو پریشانی میں مبتلا کردیاتھا کیونکہ اب تک برطانیہ یورپی یونین کا وہ واحد ملک تھا جو ان تمام ممالک اور ان کے عوام کی خبر گیری کے فرائض احسن طورپر انجام دے سکتاتھا اور ایسا کر بھی رہاتھا جس کی وجہ سے غریب یورپی ممالک کے لوگ غول درغول بہتر مستقبل کی آس میں برطانیہ کا رخ کررہے تھے ۔اس کے علاوہ برطانیہ عالمی فورمز پر بھی یورپی یونین کی بھرپور انداز میں ترجمانی کے فرائض بھی ادا کرتاتھا اور یہ برطانیہ ہی تھا جس کی موجودگی اور فعال کردار کی وجہ سے امریکا یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک پر زیادہ اثر انداز ہونے کی کوشش سے گریز کرتاتھا لیکن برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد منظر نامہ بالکل ہی تبدیل ہوکر رہ گیاہے ،خاص طورپر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے منظر ہی تبدیل کرکے رکھ دیاہے ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی یورپی ممالک کو جس طرح جھاڑ پلانا شروع کی ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امریکا یورپی ممالک کو اپنا طفیلی بنا کر رکھنا چاہتاہے۔
اس سنگین صورت حال میں یورپی ممالک کی نظریں اپنی برادری کے دو ہی ملکوں پر ٹھہرتی ہیں ایک فرانس اور دوسرے جرمنی ،کیونکہ برطانیہ کے بعد یورپ میں یہی دو ملک ہیں جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور فوجی اور مالی اعتبار سے اتنے مستحکم ہیں کہ دیگر چھوٹے یورپی ممالک کو چھوٹے موٹے بحرانوں سے نجات دلاسکتے ہیں۔فرانس میں صدارتی انتخاب میں میخرون کی کامیابی کے بعد اب فرانس کا رجحان بھی یورپی یونین سے علیحدگی کی جانب نظر آرہاہے ایسے میں ایک جرمنی رہ گیاہے جو مضبوط یورپی یونین کاحامی ہے اور یورپی یونین کے غریب ممالک کو سہارا فراہم کرنے کی کسی حد تک صلاحیت بھی رکھتاہے۔
جرمنی کی موجودہ چانسلر کو اس حوالے سے انتہائی بے باک اور منہ پھٹ کی حد تک لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے والی رہنما تصور کیاجاتاہے ،گزشتہ دنوںایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جرمنی کے عوام کو متنبہ کیاکہ وہ اپنے ووٹ کااستعمال انتہائی سوچ سمجھ کر کریں اور یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ اب دوسروں پر تکیہ کرنے کا وقت ختم ہوچکاہے،اب مغربی ممالک یورپی یونین کے مسئلے پر تقسیم ہوچکے ہیں ، اور امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آچکے ہیں جو کسی بھی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہیں،انہوں نے کہا کہ جرمنی کے عوام کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ برطانیہ اور امریکا دونوں ہی ناقابل بھروسہ ہیں ان پر کسی طرح کا اعتماد اور بھروسہ نہیں کیاجاسکتا۔ اس لیے اب یورپی عوام کو اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنا ہوں گے اور اپنی قسمت خود اپنے ہاتھ میں لے کر اچھے برے فیصلے کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اب برطانیہ اور امریکا کے ساتھ جرمنی کے تعلقات کا انحصار مناسب اور قابل قبول شرائط پر ہوگا اور ان تعلقات کے باوجود ہمیں اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے، ہمیں کسی کے اشارے پر یا کسی سے تعلقات کی بنیادپر اس کے فیصلے قبول کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اب جرمنی کو کلائمیٹ چینج یعنی آلودگی کے مسئلے پر بھی امریکا اور دیگر 6 بڑے صنعتی ممالک سے تنہا ہی بات کرنا ہوگی کیونکہ اس مسئلے پر کوئی واضح اور ٹھوس معاہدے کے بغیر ترقی یافتہ صنعتی ممالک کا ایک ساتھ آگے چلنا آسان نہیں ہوگا ، انجیلا مرکل نے اس موقع پر یہ بھی واضح کردیا کہ تنہا جرمنی کے لیے امریکا اوردیگر 6 بڑے صنعتی ممالک سے تنہا بات کرنا آسان نہیں ہوگا ایسا اسی وقت ہوسکتاہے جب جرمنی کی حکومت کو اپنے عوام کی بھرپور حمایت اور پشت پناہی حاصل ہو۔
اگرچہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کے ساتھ اپنی بات چیت کو حوصلہ افزا، نتیجہ خیز اور مفید قرار دیاہے لیکن آلودگی کے اخراج سے متعلق معاہدے پر امریکا کے قائم رہنے کے حوالے سے انہوں نے ابھی تک کوئی مثبت بات نہیں کی ہے۔ گزشتہ دنوں ٹوئٹر پر انہوںنے لکھاتھا کہ وہ بہت جلد یہ ظاہر کردیں گے کہ امریکا آلودگی کے اخراج سے متعلق معاہدے پر قائم رہنا چاہتاہے یا نہیں ۔ اس کے برعکس وہ نیٹو کے اتحادی ممالک پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے اور نیٹوکے اخراجات کے لیے مناسب رقم ادا نہ کرنے کے مسلسل الزامات عاید کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کررہے ہیں کہ امریکا اب نیٹو کے اخراجات کے لیے اپنی حد سے زیادہ رقم ادا نہیں کرے گا۔اس لیے دیگر یورپی اتحادیوں کو یہ ادارہ قائم رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے اپنے حصے کی رقم ادا کرنا ہوگی۔یہی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب نیٹو کے قیام کے لیے تیار کیے جانے والے منشور کی دفعہ 5 کا تذکرہ کرنے سے گریز کررہے ہیں جس میں واضح کیاگیاہے کہ نیٹو کے کسی بھی رکن پر حملے کی صورت میں نیٹو کی فوج اس کا دفاع کرے گی،ڈونلڈ ٹرمپ کے اس رویے سے یورپی ممالک میں امریکا کے حوالے سے بد اعتمادی کو فروغ مل رہاہے اور اس کے نتیجے میں مغربی ممالک کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے ۔اگر اس موقع پر جرمنی کے انتخابات میں انجیلا مرکل کامیابی حاصل نہیں کرپاتیں اور فرانس بدستور یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کرنے کی سوچ پر عمل پیرا رہا تو یورپی یونین کا وجود ختم ہوکر رہ جائے گا یا پھر یہ اتحاد ایک نمائشی اتحاد بن کر رہ جائے گا ۔
سیاسی مبصرین کاکہناہے کہ یورپی یونین کے ختم ہونے کا سب سے زیادہ نقصان امریکا کو اٹھانا پڑے گا اور اسے یورپی یونین میں شامل ممالک کی مجموعی حمایت سے محروم ہونا پڑے گا جن کی حمایت کے بل پر وہ مختلف ممالک میں فوجی کارروائیوں کافیصلہ کرتا رہاہے ،جبکہ روس اس صورتحال کافائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا اور وہ چھوٹے یورپی ممالک کو جن میں سے بیشتر خود روس کا ہی حصہ تھے کے دفاع کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے وعدے پر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرسکتا ہے، اس طرح روس ایک دفعہ پھر ایک بڑی طاقت بن کر امریکا کے سامنے کھڑا ہوسکتاہے ،ایسی صورت میں امریکا کے لیے دنیا کی واحد سپر طاقت کی حیثیت سے اپنا وجود منوانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا ،غالبا ً یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا گورباچوف قرار دے رہے ہیں جو امریکا کو ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے برقرار رکھنے کے بجائے اس کی تقسیم کا ذریعہ بن جائیں گے اور اس طرح دنیا پر امریکا کے سپر طاقت ہونے کا دبدبہ ختم ہوجائے گا۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر