وجود

... loading ...

وجود

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بعد اب آغا سراج درانی کی باری؟

هفته 27 مئی 2017 ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بعد اب آغا سراج درانی کی باری؟


سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ آصف علی زرداری یاروں کا یار ہے لیکن واقفان حال کا کہنا ہے کہ وہ دشمنوں کے لیے خطرناک دشمن ہیں۔ آصف علی زرداری کے دوستوں کی طویل فہرست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اب دو یا تین دوست ایسے رہ گئے ہیں جو دوستی نبھاپا رہے ہیں باقی تو ایسے انتقام کا نشانہ بنے کہ اپنی اصل جگہ سے بھی پیچھے ہٹ گئے لیکن ان میں صرف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ایسے سخت جان دشمن ثابت ہوئے کہ آصف زرداری کو ان سے روایتی طورپر انتقام لینا مشکل امر بن گیا ہے۔ آصف زرداری کے دوستوں میں انجم شاہ، ستار کیریو، ریاض لال جی، حاجی غلام رسول انڑ، فوزی علی کاظمی، ایم بی عباسی، حسین لوائی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، آغا سراج درانی، ڈاکٹر ظفر بخاری اور نجانے کتنے دوست تھے جو آج قصہ پارینہ بن گئے۔ صرف آغا سراج درانی ایسے دوست رہ گئے ہیں جو ابھی تک دور ہی سہی مگر ساتھ ضرور چل رہے ہیں، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ آغا سراج درانی کو بھی چلتا کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے ۔2008ء سے 2013ء تک جو حکومت بنی تھی اس میں آغا سراج درانی وزیر بلدیات بنے تھے اور پھر دل کھول کر 14 ہزار نوکریاں فروخت کیں۔ ابھی تک ایسے ہزاروں نوجوان تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مارے پھرتے ہیں ،کبھی عدالتوں میں تو کبھی محکمہ بلدیات میں، وہ چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ آغا سراج درانی نے ان ہی دنوں شکارپور میں نیا گھر بھی تعمیر کرایا تھا جو شاید نئی رشتہ داری کی خوشی میں بنایا جارہا تھا لیکن اس گھر کی تعمیر مکمل ہوئی تو اسی رات کو ان کے نئے گھر میں آگ لگ گئی اور بھاری رقم یعنی تقریباً 25 کروڑ روپے جل کر خاک بن گئی۔ اس کے اگلے دن آغا سراج درانی نے یونین کونسلوں کے لیے 2 ارب کی منظوری کرائی اور اپنے جلے ہوئے پیسے وصول کیے۔ اس طرح رقم تو شاید ان کو مل گئی لیکن پھر نئی رشتہ داری نہ ہوسکی۔ محکمہ بلدیات میں آغا سراج درانی نے جو مالی بے قاعدگیاں کیں، وہ سلسلہ انہوں نے سندھ اسمبلی میں اسپیکر بن کر بھی برقرار رکھا۔ نئی سندھ اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر، پرانی سندھ اسمبلی بلڈنگ کی تزئین وآرائش اور نئے ایم پی اے ہاسٹل کی تعمیر میں مجوزہ طورپر انہیں بھاری کمیشن ملا اور وہ کمیشن انہوںنے اپنے جیب میں ڈالا لیکن بڑے صاحب کوکوئی حصہ نہیں دیا ،جس کی وجہ سے بڑے صاحب ان پر 2013ء کے عام انتخابات میں ہی ناراض ہوگئے تھے، لیکن چونکہ اس وقت ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا ایشو نیا نیا تھا، اس لیے آغا سراج درانی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی، ان کو وزارت دینے کے بجائے اسپیکر شپ دی گئی۔ تاہم 2013ء سے لے کر اب تک نیب، اینٹی کرپشن اور وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے جو بھی تحقیقات کی اس میں محکمہ بلدیات نے نہ صرف مکمل تعاون کیا بلکہ محکمہ بلدیات نے اہم ریکارڈ بھی فراہم کیا اور ہر حکم کی تعمیل بھی کی۔ پہلے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے، پھر نیب نے اور آخر میں محکمہ اینٹی کرپشن نے محکمہ بلدیات میں کی گئی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور اب محکمہ بلدیات نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ 30 جون 2012ء سے لے کر اب تک جتنی بھی بھرتیاں کی گئی ہیں وہ غیر قانونی ہیں، ایسی بھرتیوں کی محکمہ بلدیات سے اجازت بھی نہیں لی گئی تھی۔ اس لیے یونین کونسل سے لے کر میٹرو پولیٹن تک تمام بلدیاتی اداروں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ 30 جون 2012ء کے بعد کی گئی بھرتیوں کو خلاف ضابطہ قرار دے کر انہیں ملازمت سے فارغ کردیں کیونکہ اب خزانے میں ایسے ملازمین کے لیے تنخواہیں نہیں ہیں۔ اس حکم نامے میں دوسرا حکم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تمام
بلدیاتی اداروں میں نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، صرف خاکروب بھرتی کرنے کی مشروط اجازت دی گئی کہ خاکروب کی بھرتی کے لیے پہلے محکمہ بلدیات سے اجازت لینا ہوگی اور ان کی بھرتی خالصتاً ڈیلی ویجز پر ہوںگی اور ان کی تنخواہیں بلدیاتی ادارے اپنے وسائل سے ادا کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد آغا سراج درانی سخت پریشان ہوگئے ہیں ،کیونکہ اب تو نیب ریفرنس بھی بن گیا ہے جس میں محکمہ بلدیات نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 30 جون 2012ء سے لے کر 2013ء تک بھرتیاں غیر قانونی کی گئی تھیں ۔2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے لے کر اب تک محکمہ بلدیات میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئی ہیں اور نیب ریفرنس میں آغا سراج درانی سزا سے بچ نہیں سکتے اس طرح 2018ء کے عام انتظابات میں آغا سراج درانی کا حصہ لینا بھی مشکوک بن گیا ہے، اور اب بڑے صاحب نے بھی ان سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور پارٹی کے اندر بھی آغا سراج درانی کو اہمیت کم دینا شروع کی گئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات یا پارٹی انتخابات میں آغا سراج درانی کو پیچھے رکھا گیا ہے جس سے واضح ہوگیا ہے کہ آغا سراج درانی سے اب آصف علی زرداری جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ آغا سراج درانی اب قانون کے شکنجے میں آنے والے ہیں جس کے بعد وہ چند برس تک پیر مظہر الحق کی طرح عدالتوں کے چکر کاٹیں گے، مقدمات کا سامنا کریں گے اور پھر وہ ان سے آزاد ہوں گے تو پارٹی قیادت دیکھے گی کہ ان سے اب مزید کیا کام لینا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق کہانی یہ ہے کہ جب محکمہ بلدیات آغا سراج درانی دور کے رکھے گئے 14 ہزار نئے ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کرنے جارہا تھا تو اس وقت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اجازت لی گئی۔ وزیراعلیٰ نے فوری اجازت دینے کے بجائے پارٹی قیادت آصف علی زرداری اور فریال تالپور سے اجازت لی جنہوں نے فوری طورپر اجازت دیدی اور پھر وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کو حکم دیا کہ ان ملازمین کو غیر قانونی قرار دے کر برطرف کیا جائے اور پھر سیکریٹری بلدیات نے اجلاس منعقد کرکے ان ملازمین کو برطرف کردیا اور فوری طورپر صوبہ بھر کے بلدیاتی اداروں کو یہ حکم سنادیا گیا کہ وہ فوری طورپر 2012ء کے رکھے گئے ملازمین کو برطرف کردیں۔ یوں آغا سراج درانی کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ ان کے برے دن آنے والے ہیں اور حکومت سندھ ان کی کوئی مدد تو درکنار بلکہ مخالفت کرے گی۔ عدالتوں کو پہلے ہی تحریری طورپر بتادیا گیا ہے کہ آغا سراج درانی کے دور میں جتنی بھرتیاں کی گئی تھیں وہ سب غیر قانونی ہیں ۔اس طرح آغا سراج درانی کو اس طرح الگ کیا گیا ہے کہ آصف علی زرداری پر براہ راست کوئی الزام بھی نہ لگے اور آغا سراج درانی تکلیف بھی اٹھالیں۔ آغا سراج درانی کو بھی اس صورتحال کا علم ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور خاموش رہ کر حالات کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔یوں آصف علی زرداری اپنے دوستوں سے جان چھڑانے کی منصوبہ بندی پر کامیابی سے عمل پیرا ہیں اور آغا سراج درانی ان کے پرانے دوستوں میں سے آخری دوست بچے ہیں جن کو کھڈے لائن لگانے کی تیاری کرلی گئی ہے لیکن علی الاعلان ان سے اس لیے علیحدگی نہیں کی جارہی کیونکہ ذوالفقار مرزا کا تجربہ سامنے ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر