وجود

... loading ...

وجود

بڑھے ہوئے پیٹ کو ہموار کرنے کے 4 طریقے

هفته 27 مئی 2017 بڑھے ہوئے پیٹ کو ہموار کرنے کے 4 طریقے


کیا آپ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ سے پریشان ہیں ؟میں نہیں سمجھتی کہ دنیا میں ایسا کوئی فرد خاص طور پر خاتون ایسی ہوگی جو اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے بلکہ ہموار کرنے کی خواہش نہ رکھتی ہو۔ایک اندازے کے مطابق صرف امریکا اور برطانیہ میں بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے لیے لوگ ہرسال کروڑوں ڈالر خرچ کردیتے ہیں اور اس کے لیے ڈائٹنگ سمیت نہ معلوم کیا کیا جتن نہیں کرتے، لیکن اس کے با وجود بہت کم لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔مغربی ممالک میں بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے لیے اب تک کم وبیش 200 قسم کی ورزشیں ایجاد ہوچکی ہیں جو مختلف سلمنگ کلب کے مالکان اپنے گاہکوں پر آزماتے رہتے ہیں تاکہ ان کا پیٹ اور وزن کم کرسکیں۔لیکن یہ کلب پیٹ او روزن کم کرسکیں یا نہ کرسکیں، ان کی جیب کا وزن ضرور کم کردیتے ہیں ۔اسی طرح بڑھے ہوئے پیٹ اور وزن کو کم کرنے کے لیے سیکڑوں طرح کی دوائیں اور غذائیں بھی مارکیٹ میں آچکی ہیں، جو بڑھے ہوئے پیٹ اور وزن سے عاجز لوگ یکے بعد دیگرے آزماتے رہتے ہیں اور بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جنہیں یہ دوائیں راس آتی ہیں ،یعنی ان کا بڑھا ہوا پیٹ اور وزن کم ہوجاتا ہے ۔ ورنہ عام طور پر لوگ ان دوائوں اور غذائوں کے استعمال کے بعد بھی مایوس ہی نظر آتے ہیں ۔
اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے خواہاں حضرات اور خواتین کو سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ پیٹ کے مسلز یعنی پٹھے کس طرح کام کرتے ہیں اور آپ کا جسم اضافی چربی کو کس طرح جلاتا یا ضائع کرتا ہے۔اس میں سب سے پہلی بات یہ سمجھنا ہے کہ چربی اور مسلز یعنی پٹھوںمیں کیا فرق ہے ؟چربی وہ اضافی کیلوریز ہے جو مسلز یعنی پٹھوں کے نیچے اوپر یا ارد گرد جمع ہوتی رہتی ہے ۔جبکہ پٹھے فائبر یعنی جسمانی ریشوں سے بنے ہوتے ہیں اور انسان کے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں مدد دیتے ہیں اور ضرورت کے مطابق سکڑتے اور پھیلتے رہتے ہیں۔چربی کبھی بھی مسلز یعنی پٹھوں میں تبدیل نہیں ہوسکتی اور پٹھے کبھی چربی میں تبدیل نہیں ہوسکتے۔لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ آپ مسلز سے محروم ہوسکتے ہیں اور چربی میں اضافہ کرسکتے ہیں ۔زیادہ تر لوگوں کو اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
اگر آپ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرکے کمر کو پتلا کرنا چاہتی یا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو اپنے پیٹ کے پٹھوں یعنی مسلز پر جمی چربی کی تہہ کم کرنا ہوگی۔بنیادی طور پر ہم سب کا پیٹ ہموار ہوتا ہے اور جب پیٹ کے پٹھوں پر چربی چڑھتی ہے تو یہ بے ڈول ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔
اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو معمول پر لانے کا سب سے مؤثر ذریعہ یہ ہے کہ آپ طاقتور بننے کے لیے کی جانے والی ورزش اور دل کے مریضوں کو کرائی جانے والی ورزش کو ملا کرایک درمیانے درجے کی ورزش کا فارمولہ تیار کریں یا اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں ۔یہ ورزش کرتے ہوئے اپنے پیٹ پر خصوصی توجہ دیں یعنی ورزش کا اس طرح اہتمام کریں کہ پیٹ کی مناسب ورزش ہوجائے ،اپنے خون میں شکر کی مقدار مستحکم رکھنے کی کوشش کریں اس سے جسم کو جسم کی چربی کو بطور ایندھن استعمال کرنے میں آسانی ہوگی۔
اگر آپ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو ہموار یعنی اس کی اصلی شکل میں لانے کے خواہاں ہیں تو آپ کو کافی سخت ورزش کی مشق کرنا ہوگی۔یاد رکھیے کہ پیٹ کے مسلز یعنی پٹھوں کا بنیادی کام آپ کے جسم کے درمیانی حصے کو آگے پیچھے لانے میں مدد دینا ہے ،اس کے علاوہ ایسے پٹھے بھی ہوتے ہیں جو جسم کو دائیں بائیں جھکانے او رلچکانے کے کام آتے ہیں ۔اگر آپ اپنے پیٹ کے پٹھوں کو تقویت دینا چاہتے ہیں تو آپ کو درج ذیل قسم کی ورزشیں کرنی چاہئیں۔
٭ جسم کو آگے پیچھے لے جانے کی مشق۔
٭ جسم کو دائیں بائیں کرنے اور موڑنے کی مشق۔
٭پیٹ کو اندر باہر کرنے اور کھڑے ہوکر پیٹ سکیڑنے کی مشق۔
یا د رکھیے کہ پیٹ کے پٹھے یا مسلز بھی جسم کے دوسرے حصوں کے پٹھوں یا مسلز کی طرح کام کرتے ہیں۔اور انہیں بھی ہفتے میں کم ازکم 3 مرتبہ حرکت دی جانی چاہیے۔اس کے لیے آپ کو اس بات کو یقینی بنا نا چاہیے کہ آپ انہیں تیزی کے ساتھ حرکت دیں اور ہر مرتبہ زیادہ سخت طریقے سے یہ ورزش کریں ۔
2 ۔ مختصر لیکن سخت کارڈیو ورک آئوٹ یعنی ورزش کریں ایساکرنے سے آپ کے میٹابولزم میں اضافہ ہوتا ہے ۔اگر یہ ورزش درست انداز میں کی جائے تو آپ کے میٹابولز میں4-24 گھنٹے تک کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔اس کے معنی یہ ہوںگے کہ اس عرصے کے دوران آپ کے جسم میں اضافی چربی جمع نہیں ہوگی کیونکہ اضافی چربی آپ کے بڑھے ہوئے میٹابولزم کے کام آجائے گی۔اس کے علاوہ اس سے آپ کی کچھ زاید چربی جل بھی جائے گی یعنی ضائع ہوجائے گی۔
ذیل میں ایک آسان ورزش دی جارہی ہے جو ہر وقت یعنی کسی بھی وقت چلتے پھرتے، سائیکل چلاتے، تیراکی کرتے ہوئے،سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یا اسی طرح کے کاموں کے دوران کی جاسکتی ہے ۔2-5 منٹ تک آسان رفتار سے جسم کو گرمی پہنچائیں اور پھر نصف منٹ یعنی کم وبیش30 سیکنڈ تک خوب سخت محنت کریں جتنی زیادہ سخت ممکن ہوسکے۔اس کے بعد ایک منٹ تک متوازن محنت کریں ،اس کے بعد کچھ دیر تک سانس لیں۔یہ عمل 6 سے 10 مرتبہ تک دہرائیں اور اس کے بعد2 سے 5 منٹ تک سستائیں ، سانس لیں اور آرام سے بیٹھ جائیں۔
3۔خون میں شکر کی مقدار مستحکم رکھنا بہت ضروری ہے ؛۔جسم کی زاید چربی کو جلانے یا گھلانے اور چربی جمع ہونے کے عمل کوروکنے کی ان ورزشوں کے دوران خون میں شکر کی مقدار مستحکم رکھنا بہت ضروری ہے ۔جسم میں شکر کی مقدار مستحکم رکھنے کے لئے ہر 2-3 گھنٹے کے بعد کچھ کھاتی پیتی رہیں۔اس بات کا خیال رکھیں کہ جسم کو اس وقت جس چیز کی اور جتنی ضرورت ہو وہ اسے بہم پہنچائی جائے،آپ کا جسم روزانہ 24 گھنٹے کیلوریز کو جلاتا رہتا ہے تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ آپ صرف ایک یا 2 وقت کھانا کھائیں۔اپنے جسم کو ضروری ایندھن فراہم کریں اس کے لیے سبزیاں، پھل ،بادام ، بیری ، مچھلی ، مرغی بغیر چربی کا گوشت اورانڈے وغیرہ استعمال کریں۔بہت سے لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ وہ جو چیز کھارہے ہیں اس میں کتنی چربی یا چکنائی ہوگی یہ نہ سوچیں جب آپ کیلوریز جلانے کی ورزش کررہی ہیں تو اضافی چربی جلتی رہے گی اور جسم کو جتنی چربی کی ضرورت ہوگی وہ استعمال کرتا رہے گا ہا ں ایسی چیزیں جو صرف چکنائی پر ہی مبنی ہوں جیسے چیز، برگر وغیرہ ،ان کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ اس کی چکنائی پوری کی پوری جسم میں جمع ہوجاتی ہے ۔
4۔ کسی ماہر سے مشورہ لیں؛۔ بہت سے لوگوں کو انسانی جسم کے بارے میں بہت زیادہ علم نہیں ہوتا اور بہت سے لوگ تو انسانی جسم کی ساخت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ، ورزش شروع کرنے کے بعد خود اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیا آپ ورزش کے نتائج سے مطمئن ہیں اگر آپ کا جواب نفی میں ہو تو پھر کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو آپ کو روزانہ کی ورزش اور خوراک کے بارے میں صحیح مشورے دے سکے اور آپ کی درست سمت میں رہنمائی کرسکے ۔
اگر آپ واقعی اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے اور ایک ہموار اور بہترین جسم تیار کرنے کی خواہاں ہیں تو اوپر دی گئی 4 تجاویز پر عمل کریں اور بغیر کسی خرچ کے اپنے جسم کو متوازن اور خوبصورت بنالیں۔
صبا حیات


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر