وجود

... loading ...

وجود

امریکا عرب،اسلامی کانفرنس کا سبق مضبوط خارجہ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت

جمعه 26 مئی 2017 امریکا عرب،اسلامی کانفرنس کا سبق مضبوط خارجہ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز سعودی سرزمین پر کھڑے ہوکر امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران ایران کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے پر پورا زور صرف کیا جبکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کی مکمل تائید اور تصدیق کرتے ہوئے امریکا اورڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔ انہوں نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان آپ کے خیالات کی تائید کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران دہشت گردی کا مرکز ہے‘ لبنان سے لے کر عراق اور یمن تک ایران نہ صرف دہشت گردی کے لیے فنڈز فراہم کررہا ہے بلکہ وہ دہشت گردوں کی تربیت کرنے سمیت انہیں اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے۔ ریاض میں منعقدہ امریکا‘ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران پر یہ بھی الزام عاید کیا کہ ایران خطے میں افراتفری پھیلانے اور عدم استحکام لانے کے لیے انتہا پسند گروپ بنا رہا ہے۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک سے اپیل کی کہ جب تک ایرانی حکومت امن کے لیے ساتھ دینے پر رضامند نہیں ہوتی‘ اسے عالمی طور پر تنہاکردیں۔ ان کے بقول ایران اسرائیل کو تباہ کرنے اور امریکا مردہ باد کی بات کرتا ہے۔ امریکا نائن الیون اور بوسٹن حملوں جیسے واقعات کا نشانہ بنتا رہا اور یورپی اقوام نے بھی ناقابل یقین خوف برداشت کیا جبکہ افریقی ممالک حتیٰ کہ سائوتھ امریکا‘ بھارت‘ روس‘ چین اور آسٹریلیا بھی دہشت گردی کا شکار ہیں اور دہشت گردی سے متاثر ہونیوالے مسلمان خود بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان فورسز بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں دہشت گردی کاشکار ہونے والے دنیا کے مختلف ممالک کے نام لیتے ہوئے پاکستان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیںسمجھا اور کہا کہ دنیا میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ تاہم انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کیخلاف مسلم ممالک کو متحد کیا ہے اوراب اس سلسلہ میں نئے دور کا آغاز ہورہا ہے‘ وہ امریکا سے دوستی‘ محبت اور امن کا پیغام لے کر آئے ہیں اور امن ان کی پہلی ترجیح ہے۔ قبل ازیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیری تعاون سے انتہاپسندی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف متحد ہونا ہوگا۔ اسلام رواداری کا دین ہے اور شریعت کا سب سے اہم مقصد انسانی جان کا تحفظ ہے‘ بدی کی قوتوں سے لڑنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب طویل عرصے سے دہشت گردی سے متاثر ملک ہے‘ ہم نے دہشت گردی کی بہت سی کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دیگر ممالک بھی اسلامی فوجی اتحاد میں شامل ہونگے۔ عرب اور مسلمان ملکوں کے رہنما امریکی صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مضبوط خارجہ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے اورپاکستان کے لیے یہی امریکا عرب،اسلامی کانفرنس کا سبق ہے۔کیونکہ کانفرنس میں پاکستان سے مکمل بے اعتنائی،دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائن اتحادی کا عدم تذکرہ اوررقیب روسیاہ بھارت سے ہمدردری جیسے معاملات وزیر خارجہ نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کی لہر میں سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا جس نے امریکی نائن الیون کے بعد افغان دھرتی پر امریکی نیٹو فورسز کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی اتحادی افواج سے بھی زیادہ جانی اور مالی نقصانات اٹھائے ہیں جبکہ امریکی ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے تین ایئربیسز امریکا کے حوالے کرکے اسے پاکستان ہی کی سرزمین پر دہشت گردوں کے تعاقب کے نام پر ڈرون حملوں اور دوسرے زمینی و فضائی آپریشنز کا موقع فراہم کیا تو اس کے ردعمل میں بھی پاکستان کو بدترین دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان ہنوز دہشت گردی کی جنگ کے الائو میں دہک رہا ہے اور اپنی سیکورٹی فورسز کے ذریعے دہشت گردوں کیخلاف برسرپیکار ہے اور دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کے عزم پر کاربند ہے۔ اس تناظر میں بجاطور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی کسی مشترکہ حکمت عملی کے تعین کے لیے سعودب عرب کی میزبانی میں منعقد کی جانیوالی عرب امریکا اسلامی سربراہی کانفرنس میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو فوکس کیا جائیگا اور اس کے لیے کانفرنس میں شریک وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کی رائے سنی جائیگی اور انہیں دہشت گردی کے خاتمے کی ممکنہ حکمت عملی کے لیے پاکستان کے تجربات کی روشنی میں تجاویز پیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائیگا جس کے لیے وزیراعظم پاکستان مکمل تیاری بھی کرکے گئے تھے مگر یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے والے اپنے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کا نام لینا بھی گوارا نہ کیا اور قربانیوں کے حوالے سے نہ صرف بھارت کا بطور خاص تذکرہ کرکے پاکستان کے زخموں پر نمک پاشی کی بلکہ انہوں نے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے ممالک میں مصر‘ چین‘ روس اور آسٹریلیا تک کا ذکر کردیا۔ اگر کسی ملک کا نام ان کی زبان پر نہیں آیا تو وہ پاکستان تھا جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اے پی ایس پشاور‘ واہگہ بارڈر‘ گلشن اقبال پارک لاہور اور دربار سخی لال شہباز قلندر میں ہونیوالی دہشت گردی جیسے بدترین سانحات سے دوچار ہوچکا ہے اور جسے اس کا ازلی دشمن بھارت اپنے جاسوس دہشت گرد کلبھوشن اور اس قبیل کے دوسرے دہشت گردوں کے ذریعے مسلسل اپنے ہدف پر رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان بھارت کی ایسی گھنائونی سازشوں سے اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کو ایک ڈوزیئر کے ذریعے مکمل طور پر آگاہ بھی کرچکا ہے۔ اسی طرح کانفرنس میں مصر‘ ملائشیااور انڈونیشیا تک کو خطاب کا موقع فراہم کیا گیا اور نظرانداز ہوئے تو صرف وزیراعظم پاکستان۔
اس حقیقت حال کے باوجود ٹرمپ کا دہشت گردی سے متاثر ہونیوالے ممالک کے حوالے سے پاکستان کا تذکرہ نہ کرنا اور برادر سعودی عرب کی میزبانی میں منعقدہ سعودی‘ امریکا سربراہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سرگرم اور اسلامی دنیا کے پہلے ایٹمی ملک پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے ملک کی نمائندگی کے قابل بھی نہ سمجھنا ہلکے سے ہلکے الفاظ میں بھی پاکستان کی توہین سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرز تغافل میں ’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے‘ باغ تو سارا جانے ہے‘‘ والا معاملہ ہی نظر آتا ہے۔ یقیناً اس سے بڑی منافقت اور ریاکاری اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ امریکی صدر ٹرمپ کی زبان مبارک پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کے حوالے سے افغانستان‘ متحدہ عرب امارات‘ ترکی اور بحرین تک کا نام آگیا‘ اگر کسی ملک کا نام ان کی زبان پر نہ چڑھ سکا تو وہ دہشت گردی کی جنگ میں ان کا فرنٹ لائن اتحادی پاکستان تھا۔ اور تو اور‘ کانفرنس کے میزبان برادر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے بھی دہشت گردی کی
جنگ میں پاکستان کا تذکرہ کرنا مناسب نہ سمجھا اور اس کے برعکس انہوں نے ایران کو دہشت گردی کے فروغ کے لیے موردالزام ٹھہرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس سے مسلم دنیا میں لامحالہ منافرت اور کشیدگی کی ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی۔
ایران نے اسی تناظر میں ریاض کانفرنس میں اپنے فوری اور سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب اپنے ملکی‘ علاقائی اور یمن کے حوالے سے پیدا ہونیوالے مسائل کے باعث تنہائی محسوس کررہا ہے‘ جس نے اس کانفرنس کے ذریعے انتہاپسند نظریات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اس سلسلہ میں گزشتہ روز تہران میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاض سعودی سربراہ کانفرنس علاقے میں یہودی پالیسیوں اور منصوبوں کی عکاس ہے اور اس سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایران کے اس مؤقف کو یقیناً امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر سے بھی تقویت حاصل ہوئی ہے جنہوں نے دہشت گردی کے فروغ کے حوالے سے براہ راست ایران کو موردالزام ٹھہرایا اور بالخصوص بھارت کو دہشت گردی کا شکار قرار دیا۔ اس کانفرنس کے بعد اب سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے اسلامی فوجی اتحاد کے اصل مقاصد و محرکات پر بھی ازسرنو انگلیاں اٹھیں گی کیونکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ایران کو دوسرے ممالک میں مداخلت کا موردالزام ٹھہرا کر اور دہشت گردی کے فروغ کے الزامات میں بھی ایران ہی کو فوکس کرکے یہ واضح عندیہ دے دیا ہے کہ اسلامی نیٹو اتحاد کو ایران کیخلاف بروئے کار لایا جائیگا جس کے لیے انہوں نے امریکا کی سرپرستی حاصل ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ اس حوالے سے اسلامی نیٹو اتحاد میں پاکستان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھ سکتی ہیں اور اس پر ایران کیخلاف جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف حکومت پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر این او سی ملنے کے بعد اسلامی نیٹو اتحاد کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں جو گزشتہ روز سعودی‘ امریکا اسلامی سربراہی کانفرنس میں موجود بھی تھے اور اس کانفرنس کے شرکاکی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
جب کچھ عرصہ قبل جنرل راحیل شریف کے اسلامی نیٹو افواج کے سربراہ بننے کی افواہیں گرم ہوئیں تو پاکستان کے مختلف حلقوں کی جانب سے اسی تناظر میں اسلامی اتحادی افواج کے لیے جنرل راحیل شریف کی قیادت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ افواج ایران یا کسی دوسرے برادر مسلم ملک کی سلامتی کیخلاف استعمال ہوئیں تو پاکستان قطعی طور پر جانبدار ہو جائیگا اور اس کا ایٹمی ملک ہونے کے ناطے اسلامی دنیا کی قیادت والا تشخص جانبداری کے لیبل کے نیچے دفن ہو جائیگا۔ یہ صورتحال یقیناً حکومت پاکستان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی بے پناہ قربانیوں اور جاندار کردار کے باوجود اور بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گھنائونی بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرکے بھی ہم ایک جانب عرب امریکا سربراہی کانفرنس میں عالمی اور عرب قیادتوں کی بے اعتنائی کا شکار ہوئے اور اسلامی نیٹو افواج کی سربراہی کی بنیاد پر ہم پر جانبداری کا لیبل لگنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ یقیناً اس سے قوم کے ذہنوں میں مزید تجسس اور استفسارات پیدا ہونگے،ریاض میں ہونے والی امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس میں پاکستان کو جس رسوائی کاسامنا کرناپڑا اور واحد ایٹمی اسلامی ریاست کے سربراہ کے ساتھ جس طرح بے اعتناعی برتی گئی اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وزیر اعظم گزشتہ4سال کے دوران ملک کے لیے کسی کل وقتی وزیر خارجہ کا انتخاب کرنے میں ناکام رہے اور وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری کوئی واضح خارجہ پالیسی نہیں بلکہ صورتحال اور ضرورت کے مطابق ہم مختلف ممالک کے ساتھ معاملات میں پالیسی بنالیتے ہیں ،ریاض کی امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس وزیر اعظم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونی چاہیے اور انہیں وطن واپس آکر اپنی واضح خارجہ پالیسی کے اعلان کے ساتھ اپنے کسی بااعتماد ساتھی کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپنے پر غور کرناچاہیے۔وزیر اعظم نواز شریف کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ریاض میں جو کچھ ہوا پوری قوم نے اسے بری طرح محسوس کیاہے اور پوری قوم اسے اپنی اجتماعی بے عزتی تصور کرتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اپنی پہلی فرصت میں عرب امریکا اسلامی سربراہ کانفرنس کے حوالے سے اصل حقائق سے قوم کو پارلیمنٹ کے ذریعے آگاہ کریں اور قومی خارجہ پالیسیاں ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کی جائیں۔ اگر قوم کے سامنے تمام حقائق کھول کر بیان نہیں کیے جائیں گے توپھر قوم کو اپنے حکمرانوں کے کڑے احتساب اورمواخذے کا بھی مکمل حق حاصل ہوگا۔وزیر اعظم نواز شریف کو یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اگر عوام اس مسئلے پر اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر پاناما کیس اور ڈان لیکس سب کچھ دھرے کادھرا رہ جائے گا اور وزیر اعظم کے وہ بڑبولے وزیر اور ارکان پارلیمنٹ جو ہر بات پر بلند بانگ دعوے کرتے اور زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے نظر آتے ہیں ، اپنی شکل چھپانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر