وجود

... loading ...

وجود

پاک افغان سرحد پر کشیدہ حالات

جمعرات 25 مئی 2017 پاک افغان سرحد پر کشیدہ حالات


بلوچستان کی دونوں سرحدوں پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے ،پاک افغان باڈر پر چمن کا سرحدی علاقہ عتاب میں ہے کہ یہاں کے دو گاوں لقمان اور جہانگیر میں مردم شماری کے عمل میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے عملے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر فائر کھول دی گئی تھی جس کہ نتیجہ میں دو پاکستانی شہری شہید،6 بچوں اور 13 خواتین سمیت 42 افراد زخمی ہو گئے۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں 50 سے زائد افغان فوجی ہلاک 100 سے زائد زخمی4سے 5 چیک پوسٹیں تباہ ہو گئیں۔پاکستان نے افغان حکومت کو اس بارے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔5مئی 2016ءکے اس واقعہ کے بعد پاک افغان 2430 کلومیٹر لمبا بارڈر بند کردیا گیا۔دونوں ملکوں کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے سیز فائر کی کیفیت ہے۔امیگریشن سسٹم بھی مکمل طور پر معطل ہے۔
نیٹوسپلائی،پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر تجارتی سامان سے لدے ٹرک سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہیں۔چمن شہر میں اشیاءخورونوش کی قلت ہے۔آئی جی ایف سی نے چمن میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو مالی امداد کے چیک بھی دیے تاہم سرحدی دیہاتوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔دراصل چمن کے دو سرحدی گاؤں کلی لقمان اور کلی جہانگیر پاکستان اور افغانستان منقسم ہیں۔
ان کا ایک حصہ افغانستان اور ایک حصہ پاکستان میں ہے۔پاکستان نے باضابطہ طور پر افغانستان کو مردم شماری کی اطلاع دیدی تھی اور افغانستان نے 5 مئی کی صبح اس گاؤں کے گھروں پر قبضہ کر لیا اور اب اس کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے۔بلوچستان میں گاؤں کو کلی کہتے ہیں۔اب جبکہ پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ ہو چکے ہیں اور افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں گاؤں افغانستان کا حصہ ہیں جس پر بلوچستان کے کئی سیاسی رہنماؤں نے یہ بیان دیا ہے کہ اگر یہ گاؤں بلوچستان کا حصہ ہیں تو خوراک پانی،بجلی اور دیگر سہولیات پاکستان سے کیوں دی جارہی ہیں ،اس میں تمام طبقہ فکر اس امر پر متفق ہیں کہ روسی حملے کہ بعد 50 لاکھ افغانوں کو پناہ دینے والا پاکستان آج افغانوں کے لیے کیوں تلخ گوشہ یا دشمن بن گیا ہے۔تو اس کا جواب افغانستان میں موجود بھارتی ہیں جنہوں نے 15 سال سے افغانستان کو یہ سبق از بر کروا دیا ہے کہ افغانستان کی ہر مشکل کا ذمہ دار پاکستان ہے۔وہاں موجود بھارتی کمپنیاں سرمایہ کاری اور مختلف این جی اوز افغانوں کو پاکستان دشمنی کا سبق دینے میں مسلسل مصروف ہیں اور اب حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے۔مگر اس کے اثرات پاکستان بالخصوص بلوچستان پر پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان سے ملحقہ سرحد ایران ہے جس کے ایرانی فوج کے سربراہ نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں پاکستان اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے،حملے جاری رہے تو ایران انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔اس سے پہلے بھی ایرانی عہدیدار پاکستان آئے اور بعض اطلاعات کے مطابق ایک توانہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک رسائی مانگی تھی جس پر یقیناً انہیں صاف جواب مل گیا جس پر انہوں نے کہا کہ”جیش العدل“نام کے ایک دہشتگرد گروپ نے 26 اپریل کو بلوچستان سے ملحقہ ایرانی علاقے سیستھان میں پاکستانی سرحد کے قریب10 سرحدی گارڈز کو قتل کر دیا اور یہ بلوچستان میں پناہ گاہ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہاں سے ایران کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔جس پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا معلومات دیں تو کاروائی کرینگے۔سرحدی مسائل کے حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کردی گئی۔حالات ابھی تک معمول پر نہیں آسکے کہ سی پیک کے بعد بھارت نے افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران میں بھی سرمایہ کاری زیادہ کردی اور گوادر اور چاہ بہار کے مواز نے کا چکر چلا رہا ہے اور کلبھوشن کے تمام نیٹ ورک بلوچستان میں دہشت گردی کے چاہ بہار میں ہوتی رہی۔
اب بھارت ایران کو پاکستان کیخلاف کلبھوشن کا داغ مٹانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔بھارت نے دراصل بلوچستان کو دونوں سرحدوں پر گھیر لیا ہے۔اس کے دہشتگرد بلوچستان میں اپنا کام کر رہے ہیں۔اور حکومت پاکستان اپنے مسائل میں اتنی الجھی ہوئی ہے کہ وہ بلوچستان کے خلاف بھارت کے تنگ ہوتے گھیرے کو محسوس نہیں کر رہی۔پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہ ہونے سے یہ حالات اس حد تک جا پہنچے ہیں جس کا ذمہ دار کون ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔
بعض حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بھارت ایسے محاذ اس وقت کھولتا ہے جب حکمران جماعت پر ذرا سابھی برا وقت آئے تاکہ فوج کو دباو میں لایا جاسکے اور بقول ایک سیاسی مبصر کے بھارت ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے مگر اس سے پہلے وہ پاک فوج کو مختلف محاذوں پر مصروف کر کے تھکانا چاہتا ہے اور پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر پاک سرزمین پر حملے کرنا چاہتا ہے۔بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کو بھارت اور افغانستان سے جو اسلحہ دیا جاتا ہے اس کی ایک کھیپ فرنٹیرکور نے چاغی کے سرحدی علاقے برامچہ سے برآمد کی تھی۔آپریشن ردالفساد کے تحت خودکش جیکٹس،راکٹ،دستی بموں،مارٹرگولوں کی بھاری کھیپ برآمد ہوئی تھی۔ڈیرہ بگٹی میں کارروائی کے دوران 2 فراری کیمپوں کو تباہ کرکے 72 مارٹرگولے اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔
یہ رپورٹس روز آتی ہیں اور یہ بس اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے اور اس کی سرحد پر مسلمان ہمسائے بھارت کی شہ پر ہمارے خیر خواہ نہیں رہے۔کسی بھی وقت کلبھوشن کے بقایاجات کارندے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔وزیراعلیٰ زہری آج بھی پرعزم ہیں کہ پہلے دہشتگرد حاوی تھے اب ہم ان پر حاوی ہیں۔حالات پہلے سے بہتر ہیں۔
عدنان جی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر