وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں زمینوں کی بندر بانٹ۔پابندی کے باوجود وزرائے اعلیٰ الاٹمنٹ کرتے رہے

پیر 08 مئی 2017 سندھ میں زمینوں کی بندر بانٹ۔پابندی کے باوجود وزرائے اعلیٰ الاٹمنٹ کرتے رہے

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں جس شعبہ میں پیسہ کمایاگیا وہ زمینوں کی الاٹمنٹ اورناجائز قبضہ ہے ،کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک زمینوں کے سلسلے میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیاگیا‘سندھ حکومت زمینوں کی قانونی الاٹمنٹ کرے گی تو پھر اویس مظفرٹپی‘ ذوالفقار مرزا‘ نادرمگسی‘ آغا سراج درانی‘ منظور وسان‘ امیر بخش بھنبھرو‘ بابرغوری ‘چنوں ماموں‘ بشیرخاصخیلی‘ گلزار سومرو جیسے افراد کس طرح راتوں رات کروڑوں پتی بنتے

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں اگر کسی شعبہ میں پیسہ کمایاگیا ہے تو وہ زمینوں کی الاٹمنٹ‘ زمینوں پر قبضوں سے کمایاگیا ہے ،کیونکہ کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک زمینوں کے سلسلے میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیاگیا جس کے باعث غیرقانونی کام تیز ہوا ہے۔ ایک ہولناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ سندھی مسلم سوسائٹی‘ کراچی ایڈمنسٹریٹوسوسائٹی اور پی ای سی ایچ سوسائٹی کی زمین پر ایک فرضی سوسائٹی بنائی گئی جس کا نام اقبال سوسائٹی رکھاگیا، اقبال سوسائٹی کی نہ تو کوئی زمین رہی اور نہ ہی اس کی رجسٹریشن ہوئی مگر اقبال سوسائٹی کے نام پر دو ہزار سے زائد افراد کو پلاٹ الاٹ کیے گئے اور اس کے عوض تین چار ارب روپے کمائے گئے اور پھر نہ پلاٹ رہا اور نہ ہی الاٹمنٹ کرنے والے رہے۔ یہاں فرضی سوسائٹیاں‘ جعلی آبادیاں‘ یہاں قبضے کرکے راتوں رات ہاؤسنگ اسکیمیں تیار کی گئیں اور کسی نے آج تک ہمت نہیں کی کہ اتنی بڑی جعلسازی کے خلاف اقدام اٹھائے اور جعلسازوں کوکیفرکردار تک پہنچائے اور جو لوگ حکومت‘ پولیس‘ انتظامیہ اور بااثرافراد کے ساتھ مل جل کر یہ کام کرتے رہتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا ۔اب حال ہی میں نیب نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ تیار کی ہے جو اب سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ اس رپورٹ کو پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمینوں کی الاٹمنٹ پر سندھ میں1985ءسے مکمل پابندی ہے، ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں کی الاٹمنٹ کا اختیار ڈپٹی کمشنر کو ہوتا ہے۔1985ءمیں اس وقت کی حکومت نے زمینوں کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کردی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک جتنی بھی الاٹمنٹ کی گئی ہیں وہ وزرائے اعلیٰ نے کی ہیں ۔بورڈ آف ریونیو جتنی بھی سمریاں بھیجتا ہے وہ وزیراعلیٰ سندھ کو منظوری کے لیے بھیجی جاتی ہیں اور اس میں پابندی کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس پابندی کو ختم کرکے زمین الاٹ کی جائے۔ہر وزیراعلیٰ اس سمری میں زمین کی الاٹمنٹ کے لیے پابندی معطل کرکے الاٹمنٹ کردیتا ہے اور سمری منظوری ہونے کے بعد پھر پابندی بحال ہوجاتی ہے اور یہ چوہے بلی کا کھیل تا حال جاری ہے اس سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ1985ءسے لے کر آج تک کوئی بھی حکومت قانون کے مطابق زمین الاٹ نہیں کررہی ہے اور پابندی برقرار رکھنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ عام آدمی یا حقدار زمین الاٹ ہی نہ کرواسکے کیونکہ ریونیو ایکٹ کے تحت ہرڈپٹی کمشنر کھلی کچہری لگائے گا اور زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواستیں لے گا اور پھر کھلی کچہری میں وہ سب کے سامنے تمام درخواستوں کو مدنظررکھ کر زمین کی الاٹمنٹ کا اعلان کرے گا۔ ڈپٹی کمشنر تک علاقہ کے لوگوں کی رسائی بھی ہوسکتی ہے اور طریقہ بھی شفاف ہوتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور مقدمات بھی نہیں ہوتے اور پھر ڈپٹی کمشنر کے پاس اعتراضات بھی دائر کیے جاتے ہیں، وہ بھی کھلی کچہری میں سنے اور حل کیے جاتے ہیں۔ جب الاٹمنٹ وزیراعلیٰ کریں گے توپھر عام آدمی کی پہنچ بھی نہیں ہوسکتی اور پھر کھلی کچہری کی طرح شفافیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ تو من پسند الاٹمنٹ کرے گا جس سے اعتراضات بھی اٹھتے ہیں اور معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور نیب‘ محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے پاس تحقیقات چلی جاتی ہےں۔ یہ وہ معاملات ہیں جس کے باعث کراچی میں زمینوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ پراسرار ہوگیا ہے ایک طرف صوبائی حکومت قانونی راستے سے زمینیں الاٹ نہیں کررہی ہے دوسری جانب فطری طور پر آبادی بھی بڑھ رہی ہے تو پھر لوگوں کو سر چھپانے کے لیے ایسے غیرقانونی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں۔ نتیجہ میں لاکھوں افراد عدالتوں اور تحقیقات کے چکر میں پھنس گئے ہیں اس کا کیا حل ہے؟ اور کوئی بھی صوبائی حکومت آخرزمینوں کی الاٹمنٹ کے لیے قانونی راستہ کیوں نہیں اپناتی؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اگر حکومت سندھ زمینوں کی الاٹمنٹ قانونی طور پر کرے گی تو پھر اویس مظفرٹپی‘ ذوالفقار مرزا‘ نادرمگسی‘ آغا سراج
درانی‘ راشدشاہ راشدی‘ منظور وسان‘ جام سیف اللہ دھاریجو‘ امیر بخش بھنبھرو‘ بابرغوری ‘چنوں ماموں‘ بشیرخاصخیلی‘ گلزار سومرو جیسے افراد کس طرح راتوں رات کروڑوں روپے کمالیں گے اور پھر کس طرح آصف زرداری‘ الطاف حسین‘ فریال تالپر کے پاس جاکر منت سماجت کریں گے کہ ان کی سرپرستی کی جائے تاکہ وہ زمینوں پر قبضے کریں اور بھاری رقومات کماکر خود بھی رکھیں اور سرپرستوں کو بھی دیں۔ اس طرح جو پولیس افسران ہیں وہ بھی زمینوں پر قبضے کرنے اور قبضے چھڑانے میں دن رات مصروف رہتے ہیں ،کراچی میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ایسے افسر ہیں جو اب زمینوں کے قبضوں کے سلسلے میں خود ایک مافیا بن چکے ہیں۔ اس طرح کئی دوسرے پولیس افسران بھی دن رات زمینوں پرقبضوں میں ملوث ہیں ،اس وقت بورڈ آف ریونیو کے چپراسی بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں کیونکہ وہ بھی اس کارخیر میں شامل ہوگئے ہیں۔ انہیں کسی قبضہ والی زمین پر اگر ایک دو پلاٹ مل جاتے ہیں تو ان کو فروخت کرکے کروڑ دو کروڑ روپے کمالیتے ہیں اور یہ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں اور احتساب واینٹی کرپشن عدالتوں میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے 500 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن کسی کو اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اس کھیل کو بند کرے اور زمینوں کی الاٹمنٹ پر عائد پابندی ختم کرکے قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کا اعلان کردے، لیکن پھر وہ کیا کھائے گا؟ بس اس کمانے کے چکر میں لاکھوں افراد کے کروڑوں اربوں روپے پھنس چکے ہیں اور وہ عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبورہوگئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر