وجود

... loading ...

وجود

جنوبی کوریا میں امریکی تھاڈ میزائلوں کی تنصیب

جمعه 05 مئی 2017 جنوبی کوریا میں امریکی تھاڈ میزائلوں کی تنصیب

چین نے جنوبی کوریا میں امریکی میزائل دفاعی نظام کو مسترد کر تے ہوئے اسے چین کی سلامتی کے خلاف قرار دیا ‘جنوبی کوریا میں ہمارا تھاڈ دفاعی میزائل نظام اب کام کرنے کی حالت میں آ گیا،امریکی ترجمان
امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان تلخیوں میں اضافہ اور نوبت جنگ تک پہنچ جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکا کاجدید ترین میزائل نظام تھاڈ جنوبی کوریا میں نصب کرنے کے بعد فعال کردیا گیاہے ،چین نے جنوبی کوریا میں امریکی میزائل دفاعی نظام کو مسترد کر تے ہوئے اسے چین کی سلامتی کے خلاف قرار دیاہے۔
ٹرمینل ہائی آلٹی چیوڈ ایریا ڈیفنس تھاڈکو جنوبی کوریا کے مرکزی علاقے سیانگ جو کے ایک سابق گولف کورس میں گزشتہ ہفتے نصب کیا گیاتھا۔چین نے جنوبی کوریا میںا مریکا کے تھاڈ نامی متنازع دفاعی میزائل نظام کی تنصیب کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے فوجی آپریشنز کی سیکورٹی میں مداخلت قرار دیا ہے۔چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے دفاعی میزائل سسٹم کی تعیناتی کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پختہ عزم سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ ایک طرف گرماگرمی کا یہ ماحول ہے اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کی ذہانت اور استقامت کی تعریفیں شروع کردی ہیں اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سازگار حالات میں وہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملنے کو اعزاز کی بات سمجھیں گے۔گزشتہ روز ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر میرا ان سے ملنا سازگار ہوتا تو میں بالکل ان سے ملاقات کرتا۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی۔اس سے ایک روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو مشکل وقت سے اچھی طرح نمٹنے والا ‘ہوشیار’ رہنما قرار دیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی پالیسی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔صدر ٹرمپ کے تازہ ترین بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی کسی ملاقات کے ہونے کے لیے شمالی کوریا کو بہت سی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سائسر کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنا جارحانہ رویہ ختم کرے۔
ٍ گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو ان کا جواب تھا: ‘لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہیں؟ مجھے نہیں پتہ، لیکن وہ 26 یا 27 برس کے نوجوان تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا، ظاہر ہے کہ وہ بہت سخت لوگوں کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور سے جرنیلوں اور دوسرے لوگوں کا۔’
امریکی صدر کے مطابق ‘کم جونگ ان کو بہت کم عمری میں اقتدار ملا. میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں نے ان سے اقتدار چھیننے کی کوشش کی اب چاہے وہ ان کے چچا ہوں یا کوئی لیکن انہوں نے اقتدار کو اپنے پاس برقرار رکھا۔ ظاہر ہے کہ وہ بہت ہوشیار ہیں۔’اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما نے اقتدار میں آنے کے دو سال بعد اپنے چچا کو مروا دیا تھا اور شک کیا جاتا ہے کہ حال ہی میں اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کرنے کا حکم بھی انھوں نے ہی دیا تھا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے اتحادی ہیں اور وہ کم جونگ ان پر جوہری اور فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے کے لیے ‘دباؤ ڈال رہے’ ہیں۔ ٹرمپ نے کہا: ‘لیکن اب تک شاید کچھ نہیں ہوا۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدرٹرمپ کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سازگار حالات میں وہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملنے کو اعزاز کی بات سمجھیں گے۔چینی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق چین کا ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ جوہری اسلحے کی تخفیف کا حقیقت پسندانہ اور قابل عمل راستہ بات چیت اور مشاورت ہے۔امریکی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا میں اس کا تھاڈ نامی متنازع دفاعی میزائل نظام اب کام کرنے کی حالت میں آ گیا ہے۔ایک ترجمان نے کہا کہ اب اس نظام کے ذریعے شمالی کوریا کے میزائل کو روکا اور جنوبی کوریا کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔حکام نے نامہ نگاروں کو بتایا گیا ہے کہ اس نظام کو اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرنے میں ابھی چند ماہ لگ جائیں گے۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور امریکی جنگی بحری بیڑے اور آبدوز کی خطے میں موجودگی کے درمیان کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔پیر کو دو امریکی بمبار طیاروں نے جنوبی کوریا کی فضائیہ کے ساتھ مشق میں حصہ لیا جسے امریکا نے معمول کی مشق قرار دیا ہے۔تھاڈ یعنی ٹرمینل ہائی آلٹی چیوڈایریا ڈیفنس کو مرکزی علاقے سیانگ جو کے ایک پرانے گالف کورس میں گزشتہ ہفتے نصب کیا گیا جبکہ اس کے خلاف مظاہرے بھی منعقد ہوئے۔بہت سے مقامی افراد کا خیال ہے کہ اس نظام کا وہاں نصب کیا جانا حملے کو دعوت دینا ہے اور اس کے سبب وہاں کے لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ چین نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس نظام کے ریڈار کے سبب ان کے اپنے فوجی آپریشن کی سیکورٹی متاثر ہوتی ہے۔جنوبی کوریا میں مقیم امریکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’تھاڈ اب قابل استعمال ہے اور اس کے پاس شمالی کوریا کے میزائل کو روکنے اور جنوبی کوریا کے دفاع کی صلاحیت ہے۔’لیکن امریکی دفاع کے شعبے سے منسلک ایک اہلکار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس نظام کے پاس ابھی صرف بنیادی صلاحیت ہے اور اس میں رواں سال مزید پرزوں کی آمد کے بعد اضافہ ہو سکتا ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان زبانی جنگ ہوتی رہی ہے اور پیانگ یانگ اقوام متحدہ کی جانب سے میزائل کے تجربوں پر عاید پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔جنوبی کوریا میں بہت سے مقامی افراد نے تھاڈ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور وہ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔
تھاڈ کیا ہے؟
اس نظام کے ذریعے درمیانے فاصلے تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کو اس وقت مار گرایا جا سکتا ہے جب وہ اپنی پرواز کے آخری مرحلے میں ہوتا ہے۔اس نظام میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ یہ کسی بھی ٹیکنالوجی مثلاً جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔یہ نظام 200 کلومیٹر تک کے فاصلے میں کام کرتا ہے اور 150 کلومیٹر بلندی تک پراثر ہوتا ہے۔اس سے قبل امریکا نے اس نظام کو گوام اور ہوائی میں نصب کیا تھا جس کا مقصد شمالی کوریا کے ممکنہ حملوں سے بچنا تھا۔
یہ نظام کام کیسے کرتا ہے؟
جب دشمن کی جانب سے کوئی میزائل فائر کیا جاتاہے تو تھاڈ سسٹم کے ریڈار کو پتہ چل جاتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے اور کنٹرول کرتا ہے۔اس کے بعد یہ بھی ایک میزائل لانچ کرتا ہے جو کہ دشمن کے میزائل کے خلاف مزاحمت کرتا ہوا اس پر حملہ کرتا ہے۔جب دشمن کا میزائل اپنی پرواز کے آخری مرحلے میں ہوتا ہے تو یہ اسے تباہ کر دیتا ہے۔ایک وقت میں اس نظام میں استعمال ہونے والے ٹرک میں آٹھ مزاحمتی میزائل رکھے جا سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر