... loading ...

جنیوامذاکرات کے علاوہ رواں ہفتے استانہ میں سہہ فریقی بات چیت ہونی تھی ،امریکا نے بغیر وجہ بتائے شرکت سے انکار کردیا ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو پوری دنیا میں تنہا کررہے ہیں،ناقدین ۔انکار کے بعد روسی حکام اور اقوام متحدہ کے ایلچی میں مذاکرات ہونگے
مریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی اور انتہا پسندی کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کے برسراقتدار آنے کے چند ماہ کے اندر ہی امریکا پوری دنیا میں بتدریج تنہا ہوتاچلاجارہاہے اور امریکا کے سابقہ قریبی حلیف ممالک بھی اب سے کھنچتے جارہے ہیں ،یہاں تک اقوام متحدہ کے مختلف ادارے جن پر امریکا کی بالادستی قائم ہے اور امریکا کی مرضی کے بغیر اقوام متحدہ میں کسی بھی کارروائی ہونے کاتصور بھی نہیں کیا جاتاتھا اب مختلف عالمی معاملات میں امریکا کے بغیر ہی فیصلے کرنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال شام کے مسئلے پر ہونے والی مجوزہ سہہ فریقی بات چیت سے امریکا کو نکال دینے کا فیصلہ ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شام کیلئے اقوام متحدہ کے ایلچی اور مصالحت کار اسٹیفن ڈی مستورا نے شام میں امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کیلئے اب اگلے ہفتے صرف روس سے بات چیت کرنے اور اس معاملے میں امریکا کو شامل نہ کرنے کے فیصلے کااعلان کیاہے۔پہلے ان مذاکرات میں روس کے ساتھ امریکا کو بھی شامل کرنے کافیصلہ کیاگیاتھا لیکن اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہٹ دھرمی پر مبنی رویئے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ایلچی نے امریکا کو اس معاملے سے الگ رکھنے کافیصلہ کیا۔
شام کیلئے اقوام متحدہ کے ایلچی اور مصالحت کار اسٹیفن ڈی مستورا نے اعلان کیاہے کہ اب وہ اگلے ہفتے جنیوا میں روس کے نائب وزیر خارجہ گینیڈی گیٹی لوف سے مذاکرات کریں گے۔ اسٹیفن ڈی مستورا نے اخباری نمائندوں کے استفسار پر بتایا کہ سہہ فریقی مذاکرات منسوخ نہیں کئے گئے ہیں بلکہ ملتوی کئے گئے اور کسی مناسب وقت پر سہ فریقی مذاکرات کابھی اہتمام کیاجاسکتاہے۔جب ان سے سوال کیاگیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے نے ان مذاکرات سے الگ رہنے کافیصلہ کیوں کیا تو انھوںنے جواب دیا کہ آپ اس کا جواب ان ہی سے پوچھیںوہ اس کازیادہ صحیح جواب دے سکتے ہیں، اقوام متحدہ کے ایلچی کے اس جواب سے امریکی روئیے کی وجہ سے ان کے لہجے میں پیداہونے والی تلخی کااندازہ بآسانی لگایاجاسکتاہے۔
یہ بات واضح ہے کہ اقوام متحدہ نے شام میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی راہ تلاش کرنے کیلئے امریکا اور روس دونوں کوشامل کرنے کافیصلہ اس حقیقت کے پیش نظر کیاتھا کہ شام کی بشارالاسد حکومت کی حمایت روس کررہاہے اوراطلاعات کے مطابق شام کے صدر بشارالاسد کو اپنی حکومت قائم رکھنے اور باغیوں کوکچلنے کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کررہاہے ہے جبکہ امریکا شام میں بشارالاسد حکومت کے مخالفین کو مدد فراہم کررہاہے ۔یہاں یہ بات یاد رہے کہ شام کیلئے اقوام متحدہ کے ایلچی اور مصالحت کار اسٹیفن ڈی مستورا نے اس سے قبل ایک بیان میں امریکی رہنمائوں سے کہاتھا کہ وہ شام کے حوالے سے اپنی پالیسی کی زیادہ تفصیل کے ساتھ وضاحت کریں اور شام کے بارے میں اپنے خیالات کاتفصیلی اظہار کریں تاکہ امن کے عمل کو آگے بڑھانا ممکن ہوسکے۔جس کے بعد امریکی نمائندے نے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کاحل نکالنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کااعلان کیاتھالیکن بعدمیں کوئی وجہ بتائے بغیر امریکی نمائندے نے مذاکرات سے الگ رہنے کاعندیہ دیا جس کے بعد اقوام متحدہ کے سفیر کو صرف روس کے نائب وزیرخارجہ سے اس مسئلے پر مذاکرات کو محدود رکھنے پر مجبور ہوناپڑا۔
اسٹیفن ڈی مستورا نے اگلے ہفتے روس کے نائب وزیر خارجہ سے ہونے والی مجوزہ بات چیت کو شام کی صورت حال کے حوالے سے انتہائی اہم اور نازک قرار دیاہے۔اس کے ساتھ ہی اسٹیفن ڈی مستورا نے شام کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات کاچھٹا دور کرانے کے خیال پر بھی کام شروع کردیاہے۔اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات کایہ چھٹا دور اگلے ماہ متوقع ہے جس میںشام کی حکومت کے مخالف تمام دھڑوں کو شریک کئے جانے کاقوی امکان ہے۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونیوالے مذاکرات کے 5 دور ناکام ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام شام میں قیام امن کیلئے مذاکرات کے 5 دور کی ناکامی اور اس مسئلے کے حل اور شام میں امن کے قیام کیلئے سہہ فریقی مذاکرات میںشرکت سے امریکی نمائندے کے گریزکے بعد اب شام کیلئے اقوام متحدہ کے ایلچی اور مصالحت کار اسٹیفن ڈی مستورا نے اعلان کیاہے کہ اب وہ اگلے ہفتے جنیوا میں روس کے نائب وزیر خارجہ گینیڈی گیٹی لوف سے ہی مذاکرات شروع کریں گے اور ان مذاکرات میں شرکت کیلئے امریکی نمائندے کاانتظار نہیں کریں گے تاہم اگر کسی مرحلے پر امریکی نمائندے نے مذاکرات میں شرکت پر آمادگی یاخواہش ظاہر کی تو اسے بھی مذاکرات میں شریک کرلیا جائے گا۔ اسٹیفن ڈی مستورا کا کہناہے کہ وہ روسی نائب وزیرخارجہ سے استانہ میں اگلے ماہ ہونے والے امن مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیالات کے علاوہ شام میں دوبارہ جنگ بندی شروع کرنے کے امکانات پربھی بات کریں گے تاکہ جنگ کے درمیان پھنس کر رہ جانے شہریوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کاموقع مل سکے اور جنگ زدہ علاقے کے لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی بحال کرنے میں مدد مل سکے ۔اس کے علاوہ وہ شام کے نائب وزیر خارجہ سے اگلے ماہ جنیوا میں اسی موضوع پر ہونے والی گفتگو کے حوالے سے بھی بات کریں گے جس میں تجویز کے مطابق شام میں حکومت کے خلاف لڑائی میں مصروف گروپوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔اسٹیفن ڈی مستورا کاکہنا کہ اس مسئلے پر سہہ فریقی اجلاس زیادہ سود مند ثابت ہوسکتاتھا تاہم اب دوطرفہ مذاکرات پر ہی اکتفا کیاجائے گااور شام میں لڑائی بند کرانے اور لڑائی میں مصروف دھڑوں کے درمیان پھنس جانے والے عام شہریوں کو کچھ سہولتیں بہم پہنچانے کے امکانات پر غور کیاجائے گا ۔توقع کی جاتی ہے کہ اگلے ہفتے ہونے والی یہ ملاقات اور دوطرفہ مذاکرات شام میں جاری لڑائی میں وقفہ پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں گے اوراس طرح وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کیلئے تازہ ہوا کاایک جھونکا ثابت ہوں گے لیکن ان مذاکرات میں امریکا کی عدم شرکت سے عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ پر منفی اثرات ضرور مرتب ہوں گے اور اقوام متحدہ کے ایلچی کی جانب سے امریکا کو نظر انداز کرکے صرف روس کے ساتھ مذاکرات کے اس فیصلے سے پوری دنیا کو یہی پیغام جائے گا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکا عالمی برادری میں تنہائی کی راہ پر گامزن ہوگیاہے۔عالمی برادری کو جانے والا یہ تاثر امریکی تجارت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوسکتاہے اور اس صورت حال میں متعدد ممالک امریکا سے لین دین کو نظر انداز کرکے دیگر یورپی اور مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کو ترجیح میں شامل کرنے پر غور کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں ۔
تہمینہ حیات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...