وجود

... loading ...

وجود

کشیدگی کے باوجود پاکستان اوربھارت میں مذہبی سیاحت جاری

بدھ 19 اپریل 2017 کشیدگی کے باوجود پاکستان اوربھارت میں مذہبی سیاحت جاری

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی جنونیت انتہاپر پہنچ جانے کے باوجود دونوں ملک مذہبی سیاحت کی ترغیب دے کر لاکھوں روپے کا زرمبادلہ کمانے میں مصروف ہیں بیساکھی تقریبات کے لیے 13سو بھارتی زائرین حال ہی میں پاکستان آئے ،ہر سال بھارت میں 6 بڑے عرس ہوتے ہیں جن میںکم وبیش ڈیڑھ ہزار پاکستانی شرکت کرتے ہیں

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور بھارتی فوج کے بہیمانہ مظالم،بھارت کی جانب سے کشمیر میں کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں اور آزادکشمیر کے شہری علاقوں پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے بے قصور افراد کی ہلاکت کے مسلسل واقعات اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں سزائے موت سنائے جانے کے بعدپاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ جانے اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی جنونیت انتہاپر پہنچ جانے کے باوجود دونوں ملک مذہبی سیاحت کی ترغیب دے کر لاکھوں روپے کا زرمبادلہ کمانے میں مصروف ہیں،اور دونوں ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے کے شہریوں کو اپنے مذہبی مقامات کا دورہ اور زیارت کرنے اورمذہبی رسومات میں شرکت کے لیے نہ صرف یہ کہ ویزے جاری کررہی ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے زائرین کو مختلف سہولتیں فراہم کرنے میں بھی مصروف ہیں ۔
دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی زائرین کی آمدورفت کے اس سلسلے کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے کم وبیش 1300 سکھ یاتری پاکستان کے علاقے حسن ابدال میں واقع سکھوں کے قدیم مذہبی مقام گردوارہ پنجہ صاحب بیساکھی کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے اور انہوں نے پاکستان میں پاکستانی شہروں کی سیر کے دوران پاکستانی عوام کی مہمان نوازی کے لطف اٹھائے ،پاکستان آنے والے سکھ زائرین اپنے ساتھ وافر زرمبادلہ لائے تھے جو انہوںنے پاکستان میں خریداری اور سیر تفریح پر خرچ کیا اس طرح سکھوں کی یہ مذہبی تقریب پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے حصول کا ایک آسان ذریعہ بن گئی۔اسی طرح اب بھارت کے شہر سرہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانیؒ کے عرس کی تقریبات شروع ہونے والی ہیں اور پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ اس عرس میں شرکت کے لیے سرہند شریف جانے کے لیے کمر بستہ ہیں یہ لوگ بھی اپنے ساتھ خاصا زرمبادلہ لے کر جائیں گے اور اس طرح بھارتی حکومت کو کسی اہتمام کے بغیر یہ زرمبادلہ مل جائے گا۔پروگرام کے مطابق حضرت مجدد الف ثانی ؒ کا عرس رواں سال 16 نومبر کو شروع ہوگا اور عرس کی یہ تقریبات 23 نومبر تک جاری رہیں گی۔پاکستان کی مذہبی اور بین المذاہب سے متعلق امور کی وزارت نے اس عرس میں شرکت کے خواہاں پاکستانیوں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں ،یہ درخواستیں 24 اپریل تک جمع کرائی جاسکتی ہیں جس کے بعد وزارت کے حکام ان کو جمع کرکے بھارت کے متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے درخواست دہندگان کو ویزا کی فراہمی کا انتظام کریں گے اور اس طرح پاکستانی زائرین اس عرس میں شرکت کے لیے بھارت روانہ ہوسکیں گے۔اطلاعات کے مطابق اس عرس میں شرکت کے لیے 200 پاکستانیوں کو ویزے مل سکیں گے اس لیے اگر مقررہ تاریخ تک 200 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوگئیں تو پھر 19 مئی کو درخواستوں کی قرعہ اندازی ہوگی اور اس طرح 200 افراد کے لیے بھارتی ویزے کاانتظام کیاجائے گا۔
پاکستان اور بھارت کی حکومتیں ایک دوسرے کے شہریوں کو مذہبی تقریبات میں شرکت اور مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے یہ ویزے دونوں ملکوں کے درمیان عوام کی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے اور مذہبی سیاحت کے فروغ کی پالیسی کے تحت ویزے جاری کرتی ہے اور اس عمل میںحتی الامکان یہ کوشش ہوتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کو آڑے نہ آنے دیاجائے۔
پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے حکام کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ موجودہے جس کے تحت دونوں ملک ایک دوسرے کے شہریوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی اور مذہبی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرتے ہیں اور ان تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے زائرین اور یاتریوں کو زیارت اور یاترا کے حوالے سے ممکنہ سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ہی ان کے تحفظ کا بھی مناسب انتظام کرتے ہیں۔تاکہ انہیں کسی ناخوشگوار صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
ہر سال بھارت میں موجود معروف اولیائے کرام کے 6 بڑے عرس ہوتے ہیں جن میں پاکستان سے زائرین شرکت کے لیے بھارت جاتے ہیں ، مذہبی امور کی وزارت کے پاس موجود اعدادوشمار کے مطابق ان میں سے 5 عرس میں 200 کی شرح سے پاکستانیوں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں، اس طرح 5 عرس میں مجموعی طورپرایک ہزار پاکستانی زائرین شریک ہوتے ہیں اور بھارت سے تبرکات لے کر وطن واپس آتے ہیں جبکہ اجمیر شریف کے عرس میں شرکت کے لیے 500 پاکستانیوں کوویزے جاری کیے جاتے ہیں اس طرح کم وبیش ڈیڑھ ہزار پاکستانی زائرین روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے ہر سال بھارت جاتے ہیں ۔تاہم دونوں ملکوں کے درمیان زائرین اور یاتریوں کے تبادلے اور ان کوسہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے معاہدے کی موجودگی کے باوجود عین وقت پر پاکستانی زائرین کے بھارت جانے پر پابندی عاید کردی جاتی ہے اور اولیائے کرام کی درگاہوں پر حاضری دے کر روحانی اور قلبی سکون حاصل کرنے کے متمنی پاکستان دل مسوس کر رہ جاتے ہیں، دوسری جانب ہر سال سکھوں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کے لیے ہزاروں سکھ اور ہندو یاتری پاکستان آتے ہیں اور اپنی مذہبی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے انتہائی نامساعد حالات میں بھی ان کی مہمان نوازی سے کبھی معذرت نہیں کی گئی اور مخدوش حالات میں بھی ان کو پاکستان کی جانب سے نہ صرف ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کا انتظام کیاجاتاہے بلکہ ان کی حفاظت کا بھی مؤثر انتظام کیاجاتاہے ،پاکستان کی حکومت ہندو اور سکھ یاتریوں کے مقدس مقامات کے تحفظ اور ان کی یاترہ کے لیے آنے والے یاتریوں کو سہولتوں کی فراہمی اور ان کے تحفظ کے انتظامات کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں قائم کی ہوئی ہیں جن میں متعلقہ مذہب سے تعلق رکھنے والے معروف مذہبی افراد کو بھی شامل کیاگیاہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات کے مطابق انتظامات کو یقینی بناسکیں۔
عرس اور مذہبی مقامات کی یاترا کایہ سلسلہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان میل ملاپ کا ایک اہم ذریعہ ہونے کے ساتھ ہی حکومتی سطح پر رابطے قائم رکھنے کاوسیلہ ہے اور چونکہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے لوگوں کے اس تبادلے کے نتیجے میں خاصہ زرمبادلہ کمانے کاموقع ملتاہے اس لیے یہ سلسلہ دونوں ہی ملکوں کے لیے منافع کاسودا ہے۔تاہم ضرورت اس امر کی ہے عوام کے درمیان ان رابطوں وسعت دی جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان ویزا کی شرائط نرم کی جائیں تاکہ زیادہ تعداد میں لوگوں کو ایک دوسرے کے ملک آنے جانے کاموقع مل سکے اور یہ عوامی رابطے صرف مذہبی تقریبات اور رسومات تک محدود رہنے کے بجائے دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے ملکوں میں واقع اہم تاریخی مقامات کی سیر کرنے کی آرزو بھی پوری کرسکیںاور عوامی سطح پر میل ملاپ کایہ سلسلہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی کشیدگی دور کرنے اورمتنازعہ مسائل کے حل کی جانب پیش رفت میں مدد گار ثابت ہوسکے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر