وجود

... loading ...

وجود

امریکا چین کا میدان جنگ شمالی کوریابنے گا ۔۔؟؟

جمعه 14 اپریل 2017 امریکا چین کا میدان جنگ شمالی کوریابنے گا ۔۔؟؟

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور امریکا کی جانب سے اپنا بحری بیڑہ جزیرہ نما کوریا کی جانب روانہ کے

واشنگٹن نے اپناطیارہ بردار بحری بیڑہ کارل ونسن جزیر نما کوریا کی جانب روانہ کردیا جبکہ چین نے بھی ڈیڑھ لاکھ فوجی بھیج دے‘ روس کی جانب سے شام کی مکمل حمایت کے باوجود الشعیرات ائر بیس پرحملہ کرکے یہ پیغام دیاہے کہ امریکاکسی کو خاطر میں لانے کے موڈ میں نہیں

جانے کے بعد اب چین نے بھی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور امریکا کی جانب سے جارحیت کے ارتکاب کی صورت میں شمالی کوریا کادفاع کرنے کی لیے اپنے ڈیڑھ لاکھ فوجی شمالی کوریا بھیج دیے ہیں جنہیں ممکنہ طورپر دریائے یالو کے قریب تعینات کیاجائے گا۔امریکا کی جانب سے کسی بھی ملک پر حملے کے لیے استعمال کیے جانے والے کارل ونسن نامی طیارہ بردار بحری جہاز اس خطے میںبھیجے جانے کے بعداب چین کی بحریہ اور فضائیہ نے بھی شمالی کوریا پر کسی بھی امریکی حملے کاجواب دینے کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ اس خطے میں جنگ کی پوری تیاری ہوچکی ہے اور دونوں فریق کسی بھی جانب سے پہل کا انتظار کررہے ہیں۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر 7 اپریل کو شام پر میزائل حملوں کو شمالی کوریا کے لیے ایک وارننگ تصور کیاجارہاہے ، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے شام کی مکمل حمایت کے باوجود شام کے الشعیرات کیمپ پر وحشیانہ انداز میں میزائل برسا کر یہ پیغام دیاہے کہ امریکا کسی بھی ملک کے خلاف اس طرح کی کارروائی کرسکتاہے اور اس طرح کی کارروائی کرتے ہوئے اس بات کو قطعی خاطر میںنہیں لائے گا کہ امریکی ہدف کی حمایت میں کون کھڑا ہے۔
کوریا کی چوژن ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق چین نے امریکا کے کسی بھی فضائی حملے کی صورت میں زخمیوں کو فوری طبی امداد بہم پہنچانے کے لیے فوج کی میڈیکل ٹیمیں عارضی ہسپتالوں کے قیام کے تمام لوازمات اور ضروری دوائیں وغیرہ بھی دریائے یالو کے قریب پہنچادی ہیں۔مبصرین کاکہناہے کہ چین کی جانب سے تیزی کے ساتھ کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ واضح کرنا ہے کہ شمالی کوریا شام نہیں ہے اور اگر امریکا نے شمالی کوریا پر حملے کی کوشش کی تو اسے شام کی طرح میدان کھلا نہیں ملے گا بلکہ اسے شمالی کوریا پر حملہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ثابت ہوگا۔
شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چین نے شمالی کوریا جو فوج بھیجی ہے اس کے پاس امریکی حملے کی صورت میں بے گھر لوگوں کو فوری طورپر محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد بہم پہنچانے کے تمام انتظامات موجود ہیں۔
دوسری طرف شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کے مزید تجربات کے بعد امریکی بحریہ نے امریکا کا کسی بھی ملک پر حملے میں استعمال کیا جانے والا طیارہ بردار جہاز کارل ونسن جو سنگاپو ر میں لنگر انداز تھا اور اسے پروگرام کے مطابق آسٹریلیا کی جانب روانہ ہونا تھا ،اب آسٹریلیا کا دورہ ملتوی کرکے اسے شمالی کوریا کی جانب روانہ کردیا گیاہے اور امریکا کی اس دھمکی کے بعد کہ وہ پیانگ یانگ کے ایٹمی اسلحہ کے پروگرام کو بزور طاقت بند کرادے گا، چین کے ایٹمی معاملات سے متعلق اعلیٰ ترین ایلچی اورمذاکرات کار شمالی کوریا کو لاحق خطرات کے پیش نظر صورت حال کاجائزہ لینے اور جنوبی کوریا کی قیادت سے ایٹمی امور پر بات چیت کے لیے گزشتہ روز سیول پہنچ گئے ہیں۔
اس صورتحال کے ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کررہی ہیں کہ شمالی کوریا اپنے ملک کے بانی قائد کی 105 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر ہی ایٹمی اسلحہ اور میزائل کے مزید تجربات کرے گا جبکہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے مزید تجربات اس وقت کی صورتحال میں جلتی پر تیل ڈالنے اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ چڑا کر انہیںمزید مشتعل کرنے کے مترادف ثابت ہوگا۔
شمالی کوریا کے علاقے میں یہ سنگین صورت حال ایک ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے رہنما ژی جن پنگ سے گزشتہ روز ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں ان پر زور دیاتھا کہ وہ شمالی کوریا کو ایٹمی اسلحہ اور میزائل کے تجربات سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
چین کی جانب سے شمالی کوریا پرامریکا کے ممکنہ حملے کی صورت میں شمالی کوریا کا دفاع کرنے اور امریکا کے خلاف شمالی کوریا کو فوجی مدد پہنچانے کے لیے کیے جانے والے ان اقدامات کا امریکا نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے قائد ژی جن پنگ کے درمیان دوبدو ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں کیاگیا ہے، امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے اس امریکا چین سربراہ ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہاتھا کہ اگر چین نے شمالی کوریا کے مسئلے پر امریکا کے ساتھ تعاون نہ کیاتو پھر ہم اپنے طورپر اپنے پروگرام پر عمل کرنے کو پوری طرح تیار ہیں اور خود اپنی راہ بنالیں گے۔تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی اشارہ دیاتھا کہ چین نے اس معاملے میں معاونت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیاتھا ،ٹلر سن نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ ہم انہیں اس حوالے سے کارروائی کرنے کے لیے وقت دینے کوتیار ہیں۔اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے یہ بھی واضح کیاتھا کہ امریکا شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ین کی حکومت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔
ایک طرف چین شمالی کوریا کی مدد کے لیے اپنی فوجیں اورسازوسامان شمالی کوریا پہنچارہاہے تو دوسری طرف جنوبی کوریا نے بھی امریکا کے ساتھ فوجی مشقیں شروع کردی ہیں جنہیں معمول کی سالانہ فوجی مشقوں کانام دیاگیاہے لیکن عالمی مبصرین ان مشقوں کو شمالی کوریا کے خلاف حملوں کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا ایسے دورمارمیزائل تیار کرنے کی کوشش کررہاہے جو امریکا کے قلب کو نشانہ بناسکے اور جو ایٹمی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتاہو۔اس کوشش میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے وہ گزشتہ سال سے اب تک میزائلوں کے 5 تجربات کرچکا ہے۔ مصنوعی سیاروں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب شمالی کوریا اپنے چھٹے میزائل کے تجربے کی تیاری کررہا ہے جبکہ امریکی انٹیلی جنس حکام نے متنبہ کیاہے کہ پیانگ یانگ دو سال سے بھی کم عرصے میں امریکا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔
چین ،امریکا ، جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے مسئلے پر بات چیت کے لیے اپنے مستقل نمائندے مقرر کررکھے ہیں جو اس مسئلے پر وقتاً فوقتاً ملاقاتیں اور مذاکرات کرتے رہتے ہیں۔4 ملکوں کے یہ سفیر دراصل 6 ملکوں کے مذاکراتی گروپ کاحصہ ہیں جس میں شمالی کوریااور روس بھی شامل ہیں ۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر پابندی عاید کردی گئی تھی لیکن اس پربار بار لگائی جانے والی پابندیوں اوران پابندیوں میں کی جانے والی سختیوں کے باوجود اسے ایٹمی اسلحہ کی تیاری کاپروگرام ترک کرنے یا اس پر عمل کو روکنے میں مو¿ثر ثابت نہیں ہوسکاہے۔بعد ازاں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز شمالی کوریا کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی اور شام کے الشعیرات فوجی اڈے پر امریکی حملے کو اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کاایک اشارہ یا انتباہ قرار دیاجارہاہے۔
امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر مک کاسٹر نے گزشتہ روز ایک بیان میں شمالی کوریا پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے سرکش مملکت قرار دیا تھا اور اس کے رویے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جزیرہ نما کوریا کے خطے کو غیر ایٹمی خطہ بنایاجانا چاہیے۔ امریکی ٹیلی ویژن فاکس نیوز پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں انہوںنے یہ بھی بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں اس خطرے کوختم کرنے کے لیے کوئی بھی طریقہ استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی ہے۔
ادھر شمالی اور جنوبی کوریا کو متحد کرنے سے متعلق امور کے وزیر ہانگ یانگ پیو نے گزشتہ روز اپنے بیان میں اس خطے میں فوجی کارروائی کے امکانات کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہاتھا کہ اگرچہ شمالی کوریا پر کسی بھی حملے کامقصد شمالی کوریا کو ایٹمی تجربات سے روکنا ہوگا لیکن ہمارے لیے اس طرح کے حملوں کی صورت میں اپنے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ایک ایسا مسئلہ ہوگا جس نے ہمیں پریشان کرکے رکھ دیاہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ اگرچہ شمالی کوریا پر امریکا کا کوئی مختصر ساحملہ شمالی کوریا کوایٹمی تجربات سے روکنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس سے شمالی کوریا کے شہریوں کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے اور اس کے بعد ایک وسیع تر فوجی تنازع پیدا ہوجانے کے امکانات اور خدشات کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
سیول میں پالیسی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیہ کار جیمز کم کاکہناہے کہ امریکا اپنے تمام آپشن اپنے سامنے رکھتاہے جس میں انتباہی حملے اور انتباہی حملے کے ذریعے مذاکرات کا آپشن شامل ہے ۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ شمالی کوریا پرامریکا کاحملہ انتباہی ہو یا اہدافی اس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے اور اس میں جاپان اور چین کے کود پڑنے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔فرانس کی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جیمز کم کاکہناہے کہ شمالی کوریا پر ممکنہ امریکی حملے کاایک پہلو تو یہ ہے کہ اس کے ذریعے شمالی کوریا کو ایٹمی تجربات سے روکنا اور ایٹمی پروگرام ترک کرنے پرمجبور کرنا ممکن ہوسکتا ہے لیکن اس سے اس پورے خطے اور خود امریکا پر انتہائی بھیانک نتائج پڑ سکتے ہیں اور اس پورے خطے اورخود امریکا کو اس حملے کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑسکتاہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر