وجود

... loading ...

وجود

آصف زرداری کے تین ساتھی اغواء‘ ماضی اور حال کی کہانی

پیر 10 اپریل 2017 آصف زرداری کے تین ساتھی اغواء‘ ماضی اور حال کی کہانی

آصف زرداری اپنے دوستوں کو دل کھول کر نوازتے ہیں ،جب اپنی مرضی اور ضد پر آتے ہیں تو انہیں دل کھول کر برباد کرتے ہیں حضور بخش کلوڑ، آفتاب پٹھان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا، اب نواب لغاری‘ اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کو پراسرار طور پر اٹھالیاگیا ہے

یہ بات تو پاکستانی سیاست میں عام کہی اور سنی جاتی ہے کہ آصف زرداری دوستوں کے دوست ہیں لیکن اس کا دوسرا حصہ یہ بھی ہے کہ وہ دشمنوں کے دشمن بھی ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اس کی واضح مثال ہیں۔ آصف زرداری اپنے دوستوں کو دل کھول کر نوازتے ہیں اور جب اپنی مرضی اور ضد پر آتے ہیں تو انہیں دل کھول کر برباد کرتے ہیں۔ اس کی مثال انجم شاہ کی ہے جس نے طالب علمی کے زمانے سے لے کر93ءتک آصف زرداری کے ناز نخرے اٹھائے اور جب ان سے دشمنی کی تو پھر انجم شاہ کو برباد کرکے رکھ دیا۔ اویس مظفر ٹپی پر رحم کیا کہ ان سے کچھ چھین کر ان کو دبئی میں ایک فلیٹ اور ایک جنرل اسٹور دے دیا جہاں وہ اللہ اللہ کرے زندگی کی گاڑی کودھکا دے رہے ہیں۔ آصف زرداری نے دوستی‘ دشمنی کا آغاز‘ انجم شاہ سے کیا جس نے آصف زرداری کو چھوٹے بھائیوں کی طرح پالا پوسا اور جب ناراض ہوئے تو انجم شاہ پر اتنے مقدمات بنائے کہ ان کو کنگال کردیا۔88ءمیں ستارکیریو کی شکل میں آصف زرداری کے نئے فرنٹ مین سامنے آئے اور ا ن کے نام اربوں روپے کی ملکیت خریدی۔2008ءمیں جب آصف زرداری ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بنے تو سب سے پہلے ستار کیریو کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، ان سے سب کچھ چھین کر انہیں آزاد کردیا۔ پھر ریاض لال جی کو بڑی کمال مہارت سے دبئی سے کراچی لائے اور ان کے بھی اغواءکا ڈرامہ رچایا اور دوسری شام ریاض لال جی کو مواج گوٹھ سے بازیاب کرانے کا ڈرامہ کرکے قصہ ہی ختم کردیا۔ ریاض لال جی سے اگلے پچھلے حساب لے کر واپس دبئی بھیج دیاگیا اور پھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے شوگر ملز چھین لیں۔ خالد شہنشاہ نے آصف زرداری کے کہنے پر بہت بڑے کام کیے پھر ایک دن رحمان ڈکیت نے خالد شہنشاہ کو مار ڈالا۔ آگے چل کر رحمان ڈکیت کو چوہدری اسلم نے ”مقابلہ“ میں مار دیا اور چوہدری اسلم بھی پراسرار دھماکہ میں جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ اویس مظفرٹپی نے 2013ءکے عام الیکشن میں و زیراعلیٰ بننے کے لیے ٹھٹھہ سے الیکشن جیتا اس کو 20گاڑیوں کا پروٹوکول ملتا تھا اس نے کھربوں روپے کی جائیداد بناڈالی، ایک دن ان کو حفاظتی تحویل میں لے کر ان سے سب کچھ چھین لیاگیا۔بس یہ احسان کیاگیاکہ دبئی میں ان کو ایک فلیٹ اور ایک جنرل اسٹور دے دیاگیا۔ بلال شیخ چیف سیکورٹی گارڈ تھے وہ ایک دن پراسرار حملہ میں مارے گئے لیکن آج تک ان کا کیس آگے نہیں بڑھ سکا۔ محمد علی شیخ بھی اچانک اٹھالیے گئے، چار ماہ تک وہ بھی حفاظتی تحویل میں رہے سب کچھ چھین کر اس کو امریکا کا راستہ دکھادیاگیا۔ حضور بخش کلوڑ، آفتاب پٹھان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا، سب کچھ لے کرانہیں چھوڑدیاگیا اب نواب لغاری‘ اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کو چار روز میں پراسرار طور پر اٹھالیاگیا ہے۔ نواب لغاری کون ہے؟ اس بارے میں حقائق کی چھان بین کی گئی تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔30دسمبر1988ءمیں حیدر چوک حیدرآباد میں ایک درجن مسلح افراد نے شام کے وقت فائرنگ کی جس کے نتیجے میں200سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ نواب لغاری اس کیس کے ملزم تھے ،آگے چل کر نواب لغاری سے آصف زرداری کیمپ میں چلے گئے۔ اسٹیل ملز کے چیئرمین سیدسجاد حسین کے قتل کیس، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کے بیٹے عمران عزیز پر قاتلانہ حملے‘ عالم بلوچ کے قتل کیس سمیت ہائی پروفائل مقدمات میں نواب لغاری کا نام بطور ملزم سامنے آیا۔ پچھلے سال جب ڈاکٹرنثار مورائی کوگرفتار کیاگیا تو اس نے جے آئی ٹی کے سامنے ہائی پروفائل مقدمات کا ذکر کیاتو پھرکیس میں نواب لغاری کا نام سامنے آیا۔ اب ان کو اسلام آباد سے اٹھالیاگیا ہے ، عین اسی رو ز کراچی اور حیدرآباد کے درمیان اور منی گروپ میں مالی معاملات کے انچارج اتفاق لغاری کو اٹھالیاگیا۔ یہ اتفاق نہیں، طے شدہ منصوبہ بندی تھی ابھی یہ معاملہ ایک طرف ہوا ہی نہیں تھا کہ ٹنڈوالہیار کے زمیندار غلام قادر مری کو بھی حیدرآباد سے اٹھالیاگیا۔ اسی طرح آصف زرداری کے تین ساتھی چار رو ز میں اٹھالیے گئے ۔ تعجب کی بات ہے کہ بلاول ہاؤس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اس کا مطلب ہے کہ ان تینوں کے اٹھائے جانے سے آصف زرداری خاموش ہیں اور پانچ رو ز بعد خورشید شاہ اور مراد علی شاہ بول پڑے ہیں کہ تتینوں افراد کو رہا کیاجائے۔ حکومت سندھ ان افراد کی بازیابی کے لیے کوشش کررہی ہے لیکن ہماری اطلاع ہے کہ جس طرح اوپر سے پولیس پر کوئی دباؤ نہیں ہے اس لیے پولیس بھی اشفاق لغاری اور غلام قادرمری کی بازیابی کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہی ہے تاہم نواب لغاری کی اسلام آباد سے گمشدگی پر ان کی اہلیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کررکھی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر