وجود

... loading ...

وجود

ڈونلڈ ٹرمپ ۔۔ ناکامیوں کا سلسلہ جاری

پیر 10 اپریل 2017 ڈونلڈ ٹرمپ ۔۔ ناکامیوں کا سلسلہ جاری

ابھی تک امریکی صدر نائب وزیر خزانہ کے عہدے پر کسی کو نامزد نہیں کرسکے جسے ٹیکسوں میں ردوبدل کے کام کی نگرانی کرنا اورنئی حکمت عملی تیار کرنا ہے کئی ماہ گزرنے کے باوجودنئے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کاٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا

ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے انتظامی محاذ پر ان کی ناکامیوں کاسلسلہ جاری ہے ، اور انہوں نے جو انتخابی وعدے کیے تھے ابھی تک کسی پر بھی عمل شروع کرنے میںکامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ گزشتہ دنوں اوباما کے ہیلتھ کیئر قانون کو تبدیل کرنے میں ناکامی کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیاہے کہ وہ اب ٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو کرے گی، ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ترجمان سین اسپائسر نے بتایا کہ اب حکومت پہلے ٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو کرے گی اور اوباما دور میں دی گئی غیر ضروری رعایتوں کو ختم کرکے ٹیکس کے نظام کو ملک کی ضرورت اور حالت حاضرہ کے مطابق بنایاجائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود ڈونلڈ انتظامیہ امریکا کے ٹیکسوں کے نظام میں اب تک کوئی ردوبدل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
امریکا میں ٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو کوئی آسان کام نہیں ہے، کم وبیش 30 سال قبل آخری مرتبہ امریکا کے ٹیکسوں کے نظام میں ردوبدل کیاگیاتھا۔ وہ رونالڈ ریگن کا دور تھا ،صدر رونالڈ ریگن نے اپنی وزارت خزانہ کے حکام کو جنوری 1984ءمیں حکم دیاتھا کہ امریکا کے ٹیکسوں کے نظام میں جامع اور مو¿ثر تبدیلیوں کاخاکہ تیار کیاجائے اوراس کے لیے قانون سازی کی غرض سے مو¿ثر حکمت عملی وضع کی جائے، اس حکم کے بعد اس وقت کے وزارت خزانہ کے ماہرین اور ماہرین اقتصادیات ومعاشیات، ٹیکسوں کے نظام کو زیادہ مو¿ثر اور جامع بنانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ گئے تھے اور کم وبیش10 ماہ کی مشترکہ کاوشوں کے بعد ان ماہرین نے 3 جلدوں پر مشتمل کم وبیش ایک ہزار صفحات کی ایک رپورٹ پیش کی جس میں ٹیکسوں کے نظام میں ردوبدل کے ممکنہ طریقہ کار کے حوالے سے تجاویز اور مشورے دیے گئے تھے۔رونالڈ ریگن نے ماہرین کی تیار کردہ ان سفارشات ،تجاویز اور مشوروں پر غور کے بعد ٹیکسوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کی تھی ،لیکن یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وزارت خزانہ اتنا بڑا اور اہم کام کرنے کی اہل ہے اور کیا وزارت خزانہ کے افسران اورماہرین اتنا اہم کام انجام دینے کے لیے ذہنی اور جسمانی طورپر تیار ہیں ۔
امریکا کی وزارت خزانہ کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وزیر خزانہ کے نامزد کردہ 7 افسران کے سوا سیاسی طورپر تقرری حاصل کرنے والے دیگر 27 میں سے کسی بھی افسر کی ابھی تک تقرری کی پارٹنر شپ فار پبلک سروسز نامی نیشن ٹریکر کے تحت منظوری نہیں دی گئی ہے۔یہی نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی نائب وزیر خزانہ کے عہدے پر کسی کو نامزد نہیں کرسکے ہیں جسے ٹیکسوں میں ردوبدل کے اس اہم کام کی نگرانی کرنا اور اس حوالے سے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
صدر جارج بش کے دور کے پہلے وزیر خزانہ پال او نیل کاکہناہے کہ اس وقت امریکا کا حال یہ ہے کہ اس کی وزارت خزانہ کوچلانے والا کوئی فرد موجود نہیں ہے،یعنی اس گاڑی کاکوئی ڈرائیور موجود نہیں ہے۔اونیل کاکہناہے کہ میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔پال او نیل کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک وزارت خزانہ میں جو تقرریاں کی ہیں کیپٹل ہل میں اس کی پذیرائی کی گئی ہے ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گولڈ مین ساچے کے کی ایگزیکٹو جیمز ڈونوون کو وزیر خزانہ منچن کا نائب مقرر کیاہے جبکہ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے محکمہ خزانہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار افسر اور وال اسٹریٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ مالپاس بین الاقوامی امور سے متعلق معاملات کے لیے نائب کے عہدے پر تعینات کیاہے۔اسی طرح بینکوں اور ممالک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے امداد دینے کے کٹر مخالف ایک کنزرویٹو خیالات کے حامل ماہر اقتصادیات کو بین الاقوامی مالیاتی ڈویژن کا سربراہ مقرر کیاگیاہے۔لیکن ڈیموکریٹس ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عاید کررہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ تمام تقرریاں تقرریوں کے مسلمہ اصولوں اور طریقہ کار کو نظر انداز کرکے کررہے ہیں۔جبکہ وزار ت خزانہ کے 28 اہم عہدوں میں سے 21 پر تقرریاں ابھی ہونا باقی ہیں۔صدر ٹرمپ کی جانب سے وزار ت خزانہ میں تقرریوں کی اس رفتار کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتاہے کہ صدر اس سال کے آخر تک بھی وزارت خزانہ میں مطلوبہ تقرریاں نہیں کرسکیں گے۔جس کی وجہ سے وزارت خزانہ بدستور پرانے بیوروکریٹس کے ہاتھ میں ہی رہے گی اور وہی اس کو اپنی صوابدید کے مطابق چلاتے رہےں گے۔
اوباما دور میں ٹیکس پالیسی کے حوالے سے اسسٹنٹ سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ماہر اقتصادیات مارک میزور کاکہنا ہے کہ وزارت خزانہ میں ایک ایسا ذمہ دار فرد ہونا بہت ضروری ہے جو وزارت خزانہ کی جانب سے ٹیکسوں کے معاملات پر بول سکے اور اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات اوراعتراضات کاجواب دے سکے۔اب جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات کے خواہاں ہیں، وزارت خزانہ میں تقرریوں میں اس سست روی سے وزارت کاکام بہت مشکل ہوتاجائے گا۔اس وقت تک صورت حال یہ رہی ہے کہ نامزد وزیر خزانہ تنہا ہی زیادہ تر بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ایوان کی ہاؤس اینڈ ویز کمیٹی جہاں ٹیکسوں سے متعلق قانون تیار ہوتے ہیں ،کے ری پبلکن چیئرمین ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے کیون بریڈی کاکہناہے کہ وہ اب تک وزیر خزانہ منچن اور گیری ڈی کوہن کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ان کااب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر اسٹیفن کے بینن یا اسٹیفن ملر سے بہت کم ہی رابطہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ منچن نے کئی ایسے سینئر مشیر مقرر کرنے کا ارادہ ظاہر کیاہے جن کی تقرری کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی اورجو ٹیکس پالیسی اور کانگریس سے رابطے کے فرائض ادا کریں گے۔اطلاعات کے مطابق انہوں نے ان تقرریوں کے لیے بعض ایسے لوگوں کابھی انتخاب کیاہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالف حلقے سے تعلق رکھنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔
انہوں نے فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش کی صدارتی مہم کے نیشنل پالیسی ڈائریکٹر اور ایک سرمایہ کار کمپنی کے سابق صدر جسٹن موزی نچ کو بھی اپنی ٹیم کے لیے منتخب کیاہے۔جبکہ ملکی پالیسی کے لیے انہوں نے کریگ فلپ کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ کیاہے۔اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سب سے پہلے یہ فیصلہ کرناہوگا کہ ری پبلیکنز کے ایوان اور اسپیکر پال ڈی ریان کی تجویزکردہ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ تجاویز پر دستخط کردیںیاایک مستقل ٹیکس اوورہال تجویز پر زور دیں انہیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں آسان راستہ اختیار کرناہے اور براہ راست ٹیکسوں میں کٹوتی کی تجویز کوقبول کرنا ہے یا ٹیکسوں کے نظام کی مکمل تنظیم نو کے لیے انتظار کرناہے۔ صورتحال جو بھی ہو ابھی تک کی صورتحال سے یہی ظاہرہوتاہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو کے منصوبے میں اب تک ناکامی ہی سے دوچار ہیں اوران کاٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔اس طرح ٹیکسوں کے نظام کی تنظیم نو بھی ان کی ناکامیوں کی فہرست میں ایک اور ناکامی کا اضافہ ثابت ہوسکتی ہے۔
ایلن ریپ پورٹ


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر