وجود

... loading ...

وجود

گڑ: درجنوں بیماریوں کامجرب اور سستاعلاج

هفته 08 اپریل 2017 گڑ: درجنوں بیماریوں کامجرب اور سستاعلاج

نیا گْڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے،دردشقیقہ کیلیے بھی مؤثر

موجودہ دور میں لوگوں نے آسانی بلکہ تن آسانی کیلئے جدیدیت اور ماڈرن ازم کے شوق میں گھروں میں عام طورپراستعمال ہونے والی بہت سی ایسی پرانی اشیا کااستعمال بالکل ترک کردیاہے جو روزمرہ استعمال کی اشیا تھیں لیکن مجرب طور پر درجنوں امراض سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار اداکرتی ہیں،ان میں گڑجیسی ایک بیش بہا نعمت بھی شامل ہے ۔
گڑ ایک ایسی قدرتی مٹھاس ہے جو گنے کے رس کو فقط گرم کرنے سے یا پکا کر حاصل ہوتی ہے۔ گْڑ میں کیروٹین ، نکوٹین ، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو ، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ گْڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں پرانا گْڑ خشک ہے جب کہ نیا گْڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے۔ گڑ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔ قبض دور کرتا اور گیس کی تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔
شیرخوار بچوں کی مائیں جن کا دودھ بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا ہو وہ صرف اتنا کریں کہ دودھ کے ساتھ سفید زیرے کا سفوف اور گْڑ صبح و شام استعمال کریں۔ اس سے دودھ کی مقدار بڑھ جائے گی۔ حافظہ تیز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں گْڑ کے حلوے کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ لہذا وہ طلبہ جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گْڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہیے۔
گڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم کی قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔ آرتھرائٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5گرام گڑ اور 5گرام ادرک کا پاؤڈر استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف گھٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ سوجن بھی کم ہو گی۔ اسی طرح تھوڑا سا گْڑ اور بھنا ہوا ادرک گرم پانی کے ساتھ سونے سے پہلے استعمال کرنے سے دائمی زکام اور درد سے افاقہ ہوتا ہے۔
قبض، بے شمار جسمانی امراض کی جڑ ہے۔ اس سے بواسیر جیسی تکلیف دہ بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ قدرت نے گْڑ میں قبض کشا صفت بھی رکھی ہے۔ جن لوگوں کو قبض ہو، انہیں گْڑ کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ نیم کی پکی نمولی پرانے گْڑ کے ساتھ دن میں تین بار کھانے سے بواسیر جیسے مہلک مرض سے نجات مل جاتی ہے۔
پیپل کے پتے 10 گرام، دار چینی، تیزپات اور کالی مرچ 30، 30 گرام، سونٹھ 35 گرام اور ہرڑ کا سفوف 100 گرام، ان تمام اشیاکو 200 گرام گْڑ کے ساتھ اچھی طرح کوٹ کر پیسنے کے بعد 25،25 گرام کے لڈو بنالیں۔ ایک لڈوصبح اور ایک شام کے وقت گرم پانی کے ساتھ کھانے سے بواسیر سے تو چھٹکارہ ملتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ انسانی بدن کو بے شمار دوسری بیماریوں جن میں پیٹ کی گیس ، پیٹ کی گڑگڑاہٹ ، سنگرہنی اور ہاتھ پاؤں کی سوجن اور کھانسی سے بھی نجات مل جاتی ہے۔
کھانسی سے نجات کے لیے یہ نسخہ بھی مفید ہے: 10 گرام سرسوں کے خالص تیل میں 10 گرام گْڑ ملا کر صبح و شام ایک ایک چمچہ چاٹ لیں۔ پیپل کے پتے اور جوکھار 4،4 گرام ، کالی مرچ 5 سے 7 گرام ، اناردانہ 25 گرام کو ملا کر 50 گرام گْڑ میں شامل کرکے سفوف بنالیں۔ صبح و شام گرم پانی کے ساتھ5 گرام سفوف کھانے سے دائمی کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر کسی مریض کا ملیریا بخار نہ اتر رہا ہو تو کالا زیرہ اور گْڑ کا سفوف ملا کر کھلانے سے فائدہ ہوگا۔
سردیوں کے موسم میںگْڑ اور کالے تل کے لڈو بنا کر صبح و شام کھانے سے ٹھنڈک کے خلاف جسم میں بھرپور قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور کھانسی ، دمہ اور برانکائیٹس وغیرہ میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ وہ بچے جو نیند میں بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں ان کے لیے یہ نسخہ مجرب مانا گیا ہے۔ ہچکی روکنے کے لیے بھی گْڑ کارگر ثابت ہوا ہے۔ پرانا گْڑ خشک کر کے پیس لیں۔ اس میں پیسی ہوئی سونٹھ ملا کر سونگھنے سے ہچکی میں افاقہ ہوتا دیکھا گیا ہے۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں میگرین یا درد شقیقہ کا مرض عام ہوتا جا رہا ہے،جسے آدھے سر کا درد بھی کہتے ہیں۔ اس سے نجات کے لیے صبح سورج نکلنے سے پہلے اور رات کو سوتے وقت 12 گرام گْڑ کو 6 گرام گھی میں ملا کر چند دن کھائیں۔ اگر بلغم کی شکایت ہو اور بلغم بھی زیادہ بن رہا ہو توگْڑ کے ساتھ ادرک کا رس استعمال کروانے سے بلغم کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔
بزرگ و خواتین حضرات کو اکثر کمر درد کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اگر وہ 50 گرام اجوائن کے سفوف میںہم وزن گْڑ ملا لیں اور اس آمیزہ کا 5 گرام صبح اور 5 گرام شام کے وقت کھائیں تو اس سے انھیں افاقہ ہوگا۔
موٹاپے سے نجات پانے کے خواہش مند چینی کی جگہ گڑ کا استعمال کریں۔ وہ افراد جنھیں پیشاب کے قطرے آتے ہیں،گڑ اور تل کے لڈو بنا کر کھانے سے انھیں اس عارضے سے چھٹکارا مل سکتا ہے ۔گْڑ میں پکے ہوئے چاول کھانے سے بیٹھا ہوا گلا ٹھیک اور آواز سریلی ہوجاتی ہے۔
گڑ کی ان افادیت سے اب شایدہی کچھ لوگ واقف ہوں گے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تو بہت سے معمر افراد بھی گڑ کی اس افادیت پر یقین کرنے کوتیار نہیں ہوں گے لیکن کسی کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے گڑ کی یہ افادیت متاثر نہیں ہوسکتی، اس لئے گڑ کو بالکل ہی دیس نکالا دینے کے بجائے اپنے کچن اور کھانے کی ٹیبل پر تھوڑی سے جگہ دینے کی کوشش کی جائے تو پورا گھر اس کی افادیت سے مستفیض ہوسکتاہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر