وجود

... loading ...

وجود

یورپی یونین سے علیحدگی برطانوی شاہی دور کی طرف لوٹنے کے خواہاں

بدھ 05 اپریل 2017 یورپی یونین سے علیحدگی برطانوی شاہی دور کی طرف لوٹنے کے خواہاں


اب جبکہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے پر دستخط کرچکی ہیں، یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے معاملات طے کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں اور تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوگیاہے،ان تجزیوں اور قیاس آرائیوں میں یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ برطانیہ کے ممکنہ تجارتی تعلقات سر فہرست ہیں ۔تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد عالمی سطح پر عالمی سیاست میں برطانیہ کاکردار کیاہوگا؟
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے گزشتہ دنوں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے پر دستخط کردیے اور اس حوالے سے ایک خط یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ڈسک کو بھی لکھ دیا ہے جس میں ان کو مطلع کردیاہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیاہے تاہم برطانیہ یورپی یونین میں شامل ممالک کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات قائم رکھے گا اوریورپی ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون اور اشتراک کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کا یہ فیصلہ حکمران کنزرویٹو پارٹی کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ کنزرویٹو پارٹی نے آخری دم تک اس فیصلے سے گریز کی کوشش کی اور اس میں ناکامی پر ہی کنزرویٹو پارٹی کے سابق سربراہ ڈیوڈ کیمرون کو پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ دونوں ہی سے ہاتھ دھونا پڑے ، اس صورت حال میںبرطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے سامنے برطانوی عوام کی رائے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے واضح کیاہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ عالمی سطح پر زیادہ وسیع کردار ادا کرسکے گا جبکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی گروپ کا دعویٰ ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اب برطانیہ کوپوری دنیا میں اپنا وہ سابقہ کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا جس کے ذریعہ برطانیہ دنیا کے وسیع علاقے پر حکمرانی کرتارہاتھا۔
دنیا میں سرکردہ کردار ادا کرنے کے حوالے سے برطانیہ کے کردار کی سوچ بلا شبہ ایک ایسی سوچ ہے جس کی21 ویں صدی میں کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ،ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنے نظریات پر نظرثانی کرتے ہوئے آمرانہ سوچ کو ترک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
معروف مؤرخ ڈیوڈ اسٹارکے نے گزشتہ روز برطانوی چینل کے ایک پروگرام میں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے حوالے اظہار خیال کرتے ہوئے اسے شاہ ہنری ہشتم کی روم سے علیحدگی کے واقعے سے تشبیہ دی اورکہاکہ اس کے بعد ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں برطانیہ کو عروج حاصل ہوتا گیااور اس کی سرحدیں پھیلتی چلی گئیں، اس طرح یورپی یونین سے علیحدگی کو بھی بادشاہت کے ایک نئے دور کا آغاز تصور کیاجانا چاہیے۔
یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کے بعد سے یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو تبصرے اور تجزیے سامنے آرہے ہیں ان سب میں سابقہ شاہانہ سوچ نمایاں نظر آرہی ہے۔تھریسا مے نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین کے تمام ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط ومستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔تاہم یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کے مستقبل، بادشاہت کے سابقہ تابناک اور سنہرے دور کی بحالی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ کے بین الاقوامی تجارتی امور کے وزیر لیم فاکس یورپی ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی روابط کے حوالے سے جو مذاکرات کررہے ہیں اسے وہائٹ ہال کے حکام نے ’’ایمپائر2.0 ‘‘ کا نام دیا ہے۔
دوسری جانب دولت مشترکہ میں شامل ممالک کے ساتھ تجارت پر خصوصی توجہ کی پالیسی سے کئی اور سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ان میں سب سے بڑا سوال زبان اور نسل کی بنیادپر تعلقات میں ترجیح دیے جانے کے حوالے سے پیدا ہونے والے اعتراض کا ہے،یہ برطانیہ کا بہت پرانا مسئلہ رہاہے اور اسے سابقہ توسیع پسندانہ شاہی دور کی باقیات کہا جاسکتاہے۔جبکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی بادشاہت کے سابق کردار کی بحالی کے حوالے سے اپنے خیالات پر ندامت محسوس نہیں کرتے ۔
بادشاہت کے سابقہ کردار یا دنیا کے بڑے حصے پر بادشاہت کے دور کے کردار کے حوالے سے تشویش کااظہار کرنے والوں کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اب یورپی ممالک کے ساتھ مستقبل کے تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی وہی شاہانہ سوچ کارفررکھی جائے گی ۔مثال کے طورپر بھارت کے ایک معروف سیاستداں ششی تھروور نے واضح الفاظ میں ہندوستان پر برطانیہ کی 200 سالہ حکمرانی کو لوٹ مار کا دور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں ’’امپائر2.0 ‘‘ کاغبارہ زمین پر گرکر پھٹ جائے گا۔اس صورت حال میں برطانیہ کو بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے لیے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات ذہن میںرکھنا ہوگی کہ شاہی برتری قائم کرنے کی سوچ اب قابل عمل نہیں ہوگی۔
تجارت کے شعبے میں اب امریکا اور چین جیسے زبردست ممالک اپنے منصوبوںاور عزائم کے ساتھ سامنے موجود ہیں،یہ عالمی اقتصادی قوتیں نہ صرف یہ کہ برطانیہ کی ’’امپائر2.0 ‘‘ کو خاطر میں لانے کو کبھی تیار نہیں ہوں گی بلکہ ان عالمی طاقتوں اور برطانیہ کے درمیان طاقت کا عدم توازن برطانیہ کی شاہی سوچ کے لیے نقصان دِہ ثابت ہوگا۔
موجودہ صورت حال میں سنجیدگی اور دانش کا تقاضہ یہی ہے کہ برطانیہ کے عوام کو سابقہ شاہی دور کی عظمت کاخواب دکھانے سے گریز کیاجائے اور انہیں اب حقائق کو سمجھنے کاموقع دینے کے ساتھ ہی اس فیصلے کے مثبت پہلوئوںکے ساتھ ہی منفی پہلوئوں سے بھی آگاہ کرنے اور انہیںذہنی طورپر اس کاسامنا کرنے کے لیے تیارکرنا چاہیے ،تاکہ بعد میں انہیں مایوسی کاسامنا نہ کرنا پڑے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی سیاستداں خاص طورپر یورپی یونین سے علیحدگی کی بڑھ چڑھ کر وکالت کرنے والے حلقے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں، یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے پر عملدرآمدکا کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں،تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اس مرحلے پر بالادستی اور حکمرانی اور تسلط کی سوچ بحیثیت مجموعی برطانیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اسٹین نیل


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر