... loading ...

اب جبکہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے پر دستخط کرچکی ہیں، یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے معاملات طے کرنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں اور تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوگیاہے،ان تجزیوں اور قیاس آرائیوں میں یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ برطانیہ کے ممکنہ تجارتی تعلقات سر فہرست ہیں ۔تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد عالمی سطح پر عالمی سیاست میں برطانیہ کاکردار کیاہوگا؟
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے گزشتہ دنوں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے پر دستخط کردیے اور اس حوالے سے ایک خط یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ڈسک کو بھی لکھ دیا ہے جس میں ان کو مطلع کردیاہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیاہے تاہم برطانیہ یورپی یونین میں شامل ممالک کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات قائم رکھے گا اوریورپی ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون اور اشتراک کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کا یہ فیصلہ حکمران کنزرویٹو پارٹی کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ کنزرویٹو پارٹی نے آخری دم تک اس فیصلے سے گریز کی کوشش کی اور اس میں ناکامی پر ہی کنزرویٹو پارٹی کے سابق سربراہ ڈیوڈ کیمرون کو پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ دونوں ہی سے ہاتھ دھونا پڑے ، اس صورت حال میںبرطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے سامنے برطانوی عوام کی رائے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے واضح کیاہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ عالمی سطح پر زیادہ وسیع کردار ادا کرسکے گا جبکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی گروپ کا دعویٰ ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اب برطانیہ کوپوری دنیا میں اپنا وہ سابقہ کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا جس کے ذریعہ برطانیہ دنیا کے وسیع علاقے پر حکمرانی کرتارہاتھا۔
دنیا میں سرکردہ کردار ادا کرنے کے حوالے سے برطانیہ کے کردار کی سوچ بلا شبہ ایک ایسی سوچ ہے جس کی21 ویں صدی میں کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ،ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنے نظریات پر نظرثانی کرتے ہوئے آمرانہ سوچ کو ترک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
معروف مؤرخ ڈیوڈ اسٹارکے نے گزشتہ روز برطانوی چینل کے ایک پروگرام میں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے حوالے اظہار خیال کرتے ہوئے اسے شاہ ہنری ہشتم کی روم سے علیحدگی کے واقعے سے تشبیہ دی اورکہاکہ اس کے بعد ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں برطانیہ کو عروج حاصل ہوتا گیااور اس کی سرحدیں پھیلتی چلی گئیں، اس طرح یورپی یونین سے علیحدگی کو بھی بادشاہت کے ایک نئے دور کا آغاز تصور کیاجانا چاہیے۔
یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کے بعد سے یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو تبصرے اور تجزیے سامنے آرہے ہیں ان سب میں سابقہ شاہانہ سوچ نمایاں نظر آرہی ہے۔تھریسا مے نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین کے تمام ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط ومستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔تاہم یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کے مستقبل، بادشاہت کے سابقہ تابناک اور سنہرے دور کی بحالی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ کے بین الاقوامی تجارتی امور کے وزیر لیم فاکس یورپی ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی روابط کے حوالے سے جو مذاکرات کررہے ہیں اسے وہائٹ ہال کے حکام نے ’’ایمپائر2.0 ‘‘ کا نام دیا ہے۔
دوسری جانب دولت مشترکہ میں شامل ممالک کے ساتھ تجارت پر خصوصی توجہ کی پالیسی سے کئی اور سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ان میں سب سے بڑا سوال زبان اور نسل کی بنیادپر تعلقات میں ترجیح دیے جانے کے حوالے سے پیدا ہونے والے اعتراض کا ہے،یہ برطانیہ کا بہت پرانا مسئلہ رہاہے اور اسے سابقہ توسیع پسندانہ شاہی دور کی باقیات کہا جاسکتاہے۔جبکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی بادشاہت کے سابق کردار کی بحالی کے حوالے سے اپنے خیالات پر ندامت محسوس نہیں کرتے ۔
بادشاہت کے سابقہ کردار یا دنیا کے بڑے حصے پر بادشاہت کے دور کے کردار کے حوالے سے تشویش کااظہار کرنے والوں کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اب یورپی ممالک کے ساتھ مستقبل کے تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی وہی شاہانہ سوچ کارفررکھی جائے گی ۔مثال کے طورپر بھارت کے ایک معروف سیاستداں ششی تھروور نے واضح الفاظ میں ہندوستان پر برطانیہ کی 200 سالہ حکمرانی کو لوٹ مار کا دور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں ’’امپائر2.0 ‘‘ کاغبارہ زمین پر گرکر پھٹ جائے گا۔اس صورت حال میں برطانیہ کو بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے لیے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات ذہن میںرکھنا ہوگی کہ شاہی برتری قائم کرنے کی سوچ اب قابل عمل نہیں ہوگی۔
تجارت کے شعبے میں اب امریکا اور چین جیسے زبردست ممالک اپنے منصوبوںاور عزائم کے ساتھ سامنے موجود ہیں،یہ عالمی اقتصادی قوتیں نہ صرف یہ کہ برطانیہ کی ’’امپائر2.0 ‘‘ کو خاطر میں لانے کو کبھی تیار نہیں ہوں گی بلکہ ان عالمی طاقتوں اور برطانیہ کے درمیان طاقت کا عدم توازن برطانیہ کی شاہی سوچ کے لیے نقصان دِہ ثابت ہوگا۔
موجودہ صورت حال میں سنجیدگی اور دانش کا تقاضہ یہی ہے کہ برطانیہ کے عوام کو سابقہ شاہی دور کی عظمت کاخواب دکھانے سے گریز کیاجائے اور انہیں اب حقائق کو سمجھنے کاموقع دینے کے ساتھ ہی اس فیصلے کے مثبت پہلوئوںکے ساتھ ہی منفی پہلوئوں سے بھی آگاہ کرنے اور انہیںذہنی طورپر اس کاسامنا کرنے کے لیے تیارکرنا چاہیے ،تاکہ بعد میں انہیں مایوسی کاسامنا نہ کرنا پڑے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی سیاستداں خاص طورپر یورپی یونین سے علیحدگی کی بڑھ چڑھ کر وکالت کرنے والے حلقے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں، یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے پر عملدرآمدکا کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں،تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اس مرحلے پر بالادستی اور حکمرانی اور تسلط کی سوچ بحیثیت مجموعی برطانیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اسٹین نیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...