وجود

... loading ...

وجود

سعودی قیادت میں فوجی اتحاد ،قدم قدم پراحتیاط کی ضرورت

پیر 03 اپریل 2017 سعودی قیادت میں فوجی اتحاد ،قدم قدم پراحتیاط کی ضرورت


دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سعودی قیادت میں قائم دہشت گردی کے خلاف مشترکہ فوج کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے حوالے سے حکومت پاکستان کی جانب سے دی گئی اجازت کے حوالے سے ملک کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات پر دفتر خارجہ کی جانب سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے انسداد دہشت گردی اتحاد کا حصہ ہے تاہم فوجی اتحاد کے قواعد کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔
دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میںنفیس زکریا نے متعدد سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اتحادی افواج کی کمان سنبھالنے کے معاملے کا جواب وزیر دفاع پہلے ہی دے چکے ہیں جبکہ پارلیمنٹ میں بھی اس ایشو پر بحث ہوچکی ہے اس لیے وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد دہشت گردی کیخلاف بنایا گیا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ پاکستان بھارتی حمایت یافتہ اور اس کی مالی معاونت سے جاری دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف ریٹائرمنٹ کے بعد اب ایک سویلین ہیں اس لیے ان سے متعلق معاملات دفتر خارجہ کے زمرے میں نہیں آتے۔ انہیں سعودی عرب کے جنرل (ر) راحیل سے رابطوں کا علم نہیں۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہم سعودی اتحاد کا حصہ ہیں تاہم اتحاد کے خدوخال ابھی طے ہونے ہیں۔ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ جنرل (ر) راحیل شریف سعودی اتحاد کی سرپرستی کے لیے جارہے ہیں۔
مسلم بھائی چارگی یا اخوت کے جذبے کی بنیاد پر استوار پاکستا ن اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں جبکہ حرمین شریفین کے ناتے سعودی سرزمین ہمارے لیے ہمیشہ مقدس و محترم رہی ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے ہر مسلمان کٹ مرنے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے کیونکہ ان مقدس مقامات کا احترام اور حفاظت ہمارے دینی فرائض میں شامل ہے۔ ماضی میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جب بعض برگشتہ عناصر کی جانب سے خانہ کعبہ پر بدطینتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چڑھائی کی گئی اور حرمین شریفین میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی مذموم حرکت کی گئی تو پاکستان نے سعودی عرب کی پکار پر لبیک کہا اور افواج پاکستان کے مشاق دستوں نے خانہ کعبہ کو ان برگشتہ عناصر کے نرغے سے چھڑانے کا فریضہ ادا کیا۔ اور اسی طرح حرمین شریفین میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے بھی افواج پاکستان وہاں خدمات انجام دیتی رہی ہیں جبکہ امن و امان کنٹرول کرنے کی مؤثر کارروائیوں کے لیے افواج پاکستان نے سعودی افواج کو تربیت بھی دی ہے جو پاک سعودی مثالی تعلقات کی گواہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے بھی ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کی امداد و معاونت کی ہے جو پاک سعودی بے لوث دوستی ہی کا شاہکار ہے۔ تاہم نئے فوجی اتحاد کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور اس کی وجہ سے اس کی مجوزہ کارکردگی کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کاتقاضہ ہے کہ اس اتحاد کے زیر انتظام کی جانے والی کارروائیوں میں احتیاط برتی جائے اور پاک فوج کو کسی ایسے آپریشن میں شریک کرنے سے گریز کیاجائے جس پردنیا کے کسی اور ملک خاص طورپر مسلم ملک کو اعتراض یا تحفظات ہوں، تاکہ مسلم دنیا میں پاکستان کی غیر جانبداری کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حرمین شریفین کی مقدس مٹی ہر مسلمان کی آنکھوں کا سرمہ ہے جس میں برگشتہ عناصر کی پراگندہ سوچ کی آمیزش کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ اس تناظر میں اگر پراگندہ سوچ کے حامل دہشت گردوں اوران کے سرپرستوں و سہولت کاروں کی جانب سے حرم پاک کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی مذموم حرکت کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان اور پوری مسلم امہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر حرم پاک کی حفاظت کے لیے آگے آئے گی۔ دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنے کے لیے سعودی قیادت میں 34 مسلم ممالک کا فوجی اتحاد یقیناً مسلم بھائی چارگی کے اسی تصور کے تحت وجود میں آیا ہے جو مسلم دنیا میں دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن کرے تو اس میں پاک فوج کے کردار پر کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے نہ مسلم اخوتو ہم آہنگی سے متضاد کوئی سوچ پیدا ہو سکتی ہے۔
جہاں تک برادر مسلم ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین یمن کی جنگ کے حوالے سے اختلاف کاتعلق ہے تو اس حوالے سے کسی ایک کو جارح اور دوسرے کو مظلوم قرار دینے کے معاملے میں مسلم ممالک میں اختلاف رائے موجود ہے۔ اسی طرح سعودی عرب اور ایران کی جانب سے فرقہ ورانہ کشیدگی بڑھانے کا باعث بننے والی بعض انتہا پسند تنظیموں اور گروہوں کی اخلاقی اور مالی سرپرستی سے بھی مسلم ممالک بالخصوص پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے چنانچہ اس تناظر میں دہشت گردی کے تدارک کے لیے سعودی قیادت میں مسلم دنیا کا فوجی اتحاد تشکیل پانے پر تحفظات کا اظہار فطری امر ہوگا کہ اس فوجی اتحاد کے ذریعے دہشت گردوں کیخلاف بلاامتیاز اور بے لاگ کارروائی کیسے ہو پائے گی۔
دوسری جانب یمن کی جنگ میں سعودی عرب اور ایران کی باہمی چپقلش کے باعث بالخصوص ایران کو یہ تحفظات ہیں کہ سعودی قیادت میں قائم کی جانیوالی اتحادی افواج اس کیخلاف بھی استعمال ہونگی اور یمن میں بھی سعودی مقاصد کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اسی بنیاد پر ایران اس فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوا۔ چنانچہ ممکنہ طور پر اتحادی افواج کے ایران‘ یمن یا کسی اور مسلم ملک کیخلاف کسی اقدام سے مسلم امہ کا اتحاد و یکجہتی پارہ پارہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ سال سعودی عرب کی جانب سے 34 رکنی مسلم فوجی اتحاد کی تشکیل کا اعلان کیا گیا اور پاکستان کے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کا سعودی عرب ہی کی جانب سے اعلان ہوا تو اس وقت بھی سعودی ایران چپقلش کے حوالے سے ہی پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا اور بالآخر یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی زیربحث آیا جس پر حکومت کی جانب سے پالیسی بیان جاری کیا گیا کہ پاکستان یمن جنگ میں فریق نہیں ہے جبکہ وہ برادر مسلم ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمہ کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی بیان میں حرمین شریفین کے مقامات مقدسہ کے تحفظ کے لیے جانیں نچھاور کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ اس پالیسی بیان کے باعث سعودی عرب اور مسلم خلیجی ممالک کی پاکستان کے ساتھ سردمہری کی فضا بھی قائم ہوئی تاہم پاکستان نے ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے اپنے اصولوں اور علاقائی و عالمی تعلقات باہمی کے معاملہ میں اپنی قومی پالیسی پر کسی قسم کی مفاہمت سے گریز کیا۔ اسی طرح جب جنرل راحیل شریف کی آرمی چیف کے منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے اتحادی افواج کی قیادت سنبھالنے کی اطلاعات زیرگردش آئیں تو اس وقت بھی اسی تناظر میں جنرل راحیل شریف پر انگلیاں اٹھیں کہ کیا وہ اتحادی افواج کے سربراہ کی حیثیت سے یمن اور ایران پر چڑھائی کرینگے اور اس صورت میں پاکستان کی پوزیشن کیا ہوگی۔ یہ معاملہ بھی پارلیمنٹ میں زیربحث آیا اور حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ جنرل راحیل نے سعودی عرب میں ملازمت کے لیے آئین کے تقاضوں کے تحت حکومت سے کوئی این او سی نہیں لیا۔ چنانچہ ان کا اتحادی افواج کی قیادت سنبھالنے کا معاملہ دب گیا۔
اب وزیر دفاع خواجہ آصف نے خود اس امر کی تصدیق کردی ہے کہ جنرل راحیل شریف کو اتحادی افواج کی قیادت کے لیے حکومت کی جانب سے باضابطہ این او سی جاری کردیا گیا ہے اس کے بعد جنرل راحیل کے منصب کے قواعد و ضوابط اور ان کی تنخواہ و مراعات کا پیکیج بھی سامنے آگیا۔ ابھی اس معاملہ میں مختلف حلقوں میں چہ مگوئیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اب دفتر خارجہ کی جانب سے سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج میں پاکستان کی شمولیت کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔ اس لیے اب اتحادی افواج میں پاکستان کے ممکنہ کردار کا موضوع بحث بننا بھی فطری امر ہوگا۔ اگرپاکستان اس جذبہ کے تحت متذکرہ فوجی اتحاد کا حصہ بنا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے سیکورٹی فورسز کے جاری آپریشن کو کمک ملے گی جس سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی ہو جائیگا تو یہ ملکی اور قومی مفادات کے ساتھ جڑا ہوا مثبت فیصلہ ہے بصورت دیگر اس فیصلہ پر پاکستان کے خارجہ تعلقات کے حوالے سے تحفظات پیدا ہونگے تو پاکستان کے لیے اس کی قومی خارجہ پالیسی کے معاملہ میں مشکلات پیدا ہونگی۔ موجودہ صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ سعودی قیادت میں قائم ہونیوالے فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے معاملہ پر پارلیمنٹ میں سیرحاصل بحث کرائی جائے اور پھر تمام مضمرات کا جائزہ لے کراتفاقِ رائے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے۔ ہمیں بہرصورت اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت کی پاسداری کرنی ہے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر