... loading ...

ملک بھر میں ایسا ماحول تیار ہونا شروع ہوگیا ہے کہ جیسے لگتا ہے کہ عام انتخابات کی ابھی سے تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ تبھی تو تینوں صوبوں سندھ‘ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں سیاسی جلسے جلوس شروع ہوگئے ہیں البتہ بلوچستان میں ابھی انتخابات کا ٹیمپو نہیں بن سکا ہے۔ نواز شریف نے ٹھٹھہ کے بعد اب حیدرآباد کا رخ کیا ، اس کے بعد ان کا رخ سکھر اور لاڑکانہ کی جانب ہوگا۔ لگتا ہے کہ نواز شریف کو کسی نے سمجھایا ہے کہ اگر ملک میں پاپولر لیڈر بننا ہے تو پھر سندھ اور خیبرپختونخوا کا رخ کرنا ہوگا اور وہاں توجہ دینا ہوگی۔ وہاں کے عوام کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا اور پھر جب اکثریت ملے گی تب یہ تاثر پیدا ہوگا کہ اب مسلم لیگ (ن) حقیقی معنوں میں قومی پارٹی بن گئی ہے اور تمام صوبوں کو نمائندگی ملی ہے کیونکہ اس وقت صرف دو وفاقی وزراءکا تعلق سندھ سے ہے جبکہ ایک وفاقی وزیر حکیم بلوچ مستعفی ہوکرپی پی کے پلیٹ فارم سے دوبارہ ضمنی الیکشن لڑکر رکن قومی اسمبلی بن چکے ہیں۔ لیاقت جتوئی اور غوث علی شاہ پہلے ہی مسلم لیگ (ن) سے علیحدہ ہوکر بیٹھ گئے ہیں اس لیے اب ان کو سندھ پر توجہ دینا ہوگی ان کے سندھ بھر میں جلسے سیاسی ماحول میں مثبت تبدیلی قرار دی جارہی ہے، اگر ان کے جلسے جلوس اس طرح برقرار رہے تو 2018 ءکے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سندھ اور خیبرپختونخوا سے اچھی خاصی تعداد میں نشستیں لے سکتی ہے۔
دوسری جانب آصف علی زرداری نے پنجاب کا رخ کرلیاہے۔ وہ لاہور‘ ملتان میں جاکر پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے ملے ہیں اور پھر وہاں جو خطاب کیا ہے اس سے مسلم لیگ (ن) مشتعل ہوگئی ہے ۔آصف زرداری کا یہ کہنا ایک لطیفہ ہوگا کہ حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت ٹھیکوں میں کمیشن لیتی ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو آصف زرداری نے سندھ میں کمیشن کلچر کو اب ختم کردیا ہے،کیونکہ اب تو پورا ٹھیکہ ہی فروخت ہوجاتا ہے۔ اِدھر ٹھیکے کا اعلان ہوا اُدھر حکومت نے ٹھیکے کی رقم جاری کردی اور ادھر ٹھیکیدار اور حکومت سندھ نے مل بانٹ کر پیسے لے لیے اور ٹھیکہ جائے بھاڑ میں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تو آصف زرداری نے طنزیہ کہا کہ دیکھو پاگلوں کو؟ اب بھی ٹھیکوں پر کمیشن لیتے ہیں ،ہم کو دیکھو ہم ٹھیکہ ہی ہائی جیک کرلیتے ہیں، نہ رہے بانس نہ بجے گی بانسری۔ اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے برجستہ جواب دیا کہ ہم پر تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، ان کو سوائے ندامت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی پنجاب کے دورے کیے ہیں۔ لاہور سے فیصل آباد تک ریلی نکالی مگر اس کے باوجود بھی وہ مزید جلسے جلوسوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ دوسری جانب یوسف رضا گیلانی بھی پنجاب میں سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ اس وقت ملتان ڈویژن‘ بہاولپور ڈویژن میں پارٹی کارکنوں‘ رہنماؤں کو سرگرم کرنے میں مصروف ہیں۔ پی پی نے اگر پنجاب میں زیادہ جلسے جلوس کیے تو اس کو سرائیکی بیلٹ میں کچھ کامیابی مل سکتی ہے مگر جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں مقبولیت کم ملے گی۔
ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی سندھ‘ پنجاب کے دورے شروع کردیے ہیں۔ عمران خان کی کوشش ہے کہ وہ سندھ اور پنجاب میں اپنی پارٹی کو مضبوط کریں لیکن عمران خان کی سندھ کے حوالے سے پالیسی کمزور ہے، ان کے پاس نادر اکمل لغاری جیسا بردبار رہنما تھا جو پڑھا لکھا اور سنجیدہ تھا مگر عمران خان نے ان کو گنوا دیا اور نادر اکمل لغاری نے تحریک انصاف کو چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ یوں ایک اچھے رہنما سے تحریک انصاف محروم ہوگئی لیکن وہ سندھ اور پنجاب کے دورے کریں گے تو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں مگر اس کے لیے بھی عمران خان کو ہوم ورک کرنا پڑے گا، مؤثر پالیسی بنانا ہوگی۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو پھر ان کو سندھ سے کم ہی نشستیں مل سکیں گی۔ عام انتخابات میں کم از کم ڈیڑھ سال باقی ہے لیکن ابھی سے الیکشن کی تیاریاں بتا رہی ہیں کہ تینوں مقبول لیڈر الیکشن کی قبل از وقت تیاری کرچکے ہیں۔ دیکھا جائے تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کا تحریک انصاف سے ہی مقابلہ ہوگا۔ پی پی کے لیے ایک بڑا امتحان سر پر آگیا ہے کیونکہ پورے سندھ کے سیاسی مخالفین کو پی پی میں لایا گیا ہے اب الیکشن میں سندھ میں کرپشن‘ بیڈ گورننس اور رہنماؤں پر الزامات کے باعث کئی لیڈر پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں جانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور آصف زرداری چاہے کتنی باتیں کیوں نہ کریں عام الیکشن میں ان کو 2013 ءسے بھی کم سیٹیں ملیں گی۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...