وجود

... loading ...

وجود

پیٹرولیم صارفین پر ظلم‘دیگر ممالک کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ قیمتیں ادا کرنے پر مجبور

جمعرات 30 مارچ 2017 پیٹرولیم صارفین پر ظلم‘دیگر ممالک کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ قیمتیں ادا کرنے پر مجبور


ایک ایسے وقت جب پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں روبہ زوال ہیں اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی کمی کے سبب تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک معاشی انحطاط کا شکار ہیں اور معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اپنے اخراجات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، پاکستان میں حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام کو منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسیوں،ڈیوٹیز اور سرچارجز میں اضافے کے ذریعے عوام کو مسلسل زیر بار کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتی ہے۔
پاکستان میں تیل کی منصوعات پر نت نئے ٹیکسوں ،ڈیوٹیز اور سرچارجز کے نفاذ اور ان کی شرح میں بے انتہا اضافہ کیے جانے کی وجہ سے عوام کو پوری دنیا کے مقابلے میں تیل کی 38 فیصد زیادہ قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے جس کے نتیجے میںکار ، بھاری گاڑیوں ، صنعتوںاور زرعی مشینری استعمال کرنے والوں پربوجھ بڑھ رہاہے جس کی وجہ سے کرایوں ، نقل وحمل پرآنے والے اخراجات اور اس سب کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتاچلاجارہاہے۔جبکہ حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں روزبروز اضافے کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے ناقابل برداشت بوجھ سے لاپروا پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے اپنی آمدنی میں کمی پوری کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔حکومت دراصل اپنے غیر ضروری اخراجات اور کرپشن سے قومی خزانے پر پڑنے والے بے جا بوجھ کو کم کرنے کے لیے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام کو منتقل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات میں سب سے زیادہ ڈیزل استعمال ہوتاہے کیونکہ بھاری گاڑیوں اور زرعی اور صنعتی مشینری عام طورپر ڈیزل سے ہی چلتی ہیں۔ٹرانسپورٹر بھی خاص طورپر بھاری گاڑیاں چلانے والے بھی ڈیزل پر ہی انحصار کرتے ہیں ،ڈیزل کی قیمتوں میں زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوتاہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوتاہے اور عوام کو کم قیمت پر اجناس ، پھل اور سبزیاں فراہم کرنا آسان نہیں رہتا۔ ایک طرف زرعی مشینری ڈیزل سے چلتی ہے اور اس سے زرعی پیدا وار کی لاگت بڑھتی ہے، دوسری طرف ٹرانسپورٹر بھی ڈیزل پر ہی اکتفا کرتے ہیں جس کی وجہ سے کرائے میں اضافہ ہوتا ہے اورزرعی پیداوار کو کھیتوں سے منڈیوں تک پہنچانے کے اخراجات میں اضافہ ہوتاہے اور زرعی پیداوار کی قیمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے منفی اثرات کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ آئل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے جو رپورٹ تیار کرکے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی ہے اس میں واضح طورپر لکھا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میںتیل استعمال کرنے والے صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور انہیں ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس کی سب سے زیادہ شرح سے ادائیگی پر مجبور ہونا پڑا۔
اوگرا کی رپورٹ کے مطابق 2015-16 ءکے دوران پاکستان میں تیل کے صارفین نے ایک لیٹر ڈیزل پر 29.57 روپے جنرل سیلز ٹیکس ادا کیا،حکومت نے تیل کے صارفین سے ایک لیٹر ڈیزل پر 29.57 روپے جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان سے ہر لیٹر پر 6 روپے کی شرح سے پیٹرولیم لیوی بھی وصول کی۔اسی طرح پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو جن میں غریب اسکوٹر اور رکشہ والو ں کی اکثریت ہے فی لیٹر پیٹرول پر 15.22 روپے جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیاگیا۔مٹی کاتیل استعمال کرنے والوں کو فی لیٹر مٹی کے تیل یعنی کیروسین آئیل پر13.18 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل استعمال کرنے والوں کو12.21 روپے فی لیٹر جنرل سیلز ٹیکس اد ا کرنا پڑا۔پیٹرول ،ڈیزل اور کیروسین آئل استعمال کرنے والوں سے وصول کی جانے والی یہ رقم اپنی نوعیت کے اعتبار سے پاکستان کی پوری تاریخ کی سب سے زیادہ رقم ہے، یعنی اب تک پاکستان میں برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے عوام کی بے بسی سے اس طرح فائدہ اٹھانے اور اتنی بھاری شرح سے ڈیوٹیز اور لیویز وصول کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔
اس صورت حال پر اخبارات میں شور مچنے اورعوام کی جانب سے شدید ردعمل اور کئی ضمنی انتخابات سامنے آجانے کی وجہ سے حکومت نے بعد میںڈیزل پر وصول کیے جانے والے ٹیکس کی شرح کم کرکے19.39 روپے کردیا۔رواں مالی سال کے دوران پیٹرول پر وصول کیے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح10.71 روپے رکھی گئی جبکہ کیروسین پر جی ایس ٹی کی شرح2.83 روپے اورکیروسین آئل پر جی ایس ٹی کی شرح2.83 روپے مقر ر کی گئی۔
سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بالترتیب16.96 روپے،16.45 روپے اور15.71 روپے اور14.71 روپے تھی۔یہ ایک واضح امر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست صارفین اور بحیثیت مجموعی پورے ملک کے عوام پر پڑتاہے، پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر تمام ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی کمیابی کی صورت میں سامنے آتاہے۔
اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جب سردیوں میں پنجاب کے بعض علاقوں میں گیس کی فراہمی بند کی جاتی ہے تو گاڑیاں چلانے والے اور ٹرانسپورٹرز کو سی این جی کے بجائے پیٹرول کے استعمال پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹرول کی طلب میں بے انتہا اضافہ ہوجاتاہے اور حکومت کو پیٹرول پر ڈیوٹی ٹیکسوں اور جی ایس ٹی کی مد میں بھاری رقم ملنا شروع ہوجاتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات سے حکومت کو ہونے والی آمدنی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق حکومت ہر ماہ پیٹرولیم اور ڈیزل کے صارفین سے جی ایس ٹی کی مد میں 25 ارب روپے اورپیٹرولیم پر لیوی کی مد میں10 ارب روپے وصول کررہی ہے،یعنی صرف پیٹرولیم کی فروخت سے حکومت عوام سے ہر ماہ کم وبیش35 ارب روپے کی خطیر رقم وصول کررہی ہے، جو ملک کے کسی اور شعبے سے ممکن نہیں ہے۔
اب جبکہ عام انتخابات قریب ہیں اور انتخابی صف بندیا ں شروع ہورہی ہیں توقع کی جاتی ہے کہ حکومت پیٹرولیم اور ڈیزل کے صارفین پر جی ایس ٹی اور لیویز کے بوجھ میں مناسب حد تک کمی کرنے پر غور کرے گی تاکہ حکومت کے مخالفین اسے عوام کے سامنے حکمراں پارٹی کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر