وجود

... loading ...

وجود

جاپان میں جنگوں کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے

جمعرات 30 مارچ 2017 جاپان میں جنگوں کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے


جاپان میں فوجی تیاریوں کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ٹوکیو میں پارلیمنٹ ہاؤس کاگھیراؤ کرلیا۔جاپانی عوام نے پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوکر جنگی تیاریوںسے متعلق قانون کے خلاف شدیداحتجاج کیا اور جاپانی فوج جنگ کے لیے کسی اور ملک بھیجنے کی شدید مخالفت کی اور جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کے نعرے لگائے۔کامن ڈریمز کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں جاپانی فوج دوسرے ملکوں کے تنازعات میں دھکیلنے کے حوالے سے جاپانی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والا نیا سیکورٹی قانون دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کی جانب سے کسی بھی ملک کے تنازع میں ٹانگ نہ اڑانے کی بنیادی پالیسی کی نفی ہے ۔گزشتہ ستمبر میں جاپان کی پارلیمنٹ سے منظور کرایا جانے ” وار لیجس لیشن “ نامی یہ بل دراصل مختلف قوانین کا مجموعہ ہے،اس بل کے تحت جاپان کے آئین کی دفعہ 9 کی از سرنو تشریح کی گئی ہے،جاپان کے آئین کی دفعہ 9 کے تحت جو جنگ عظیم دوم کے بعد جاپان کے آئین میں شامل کی گئی تھی کسی دوسرے ملک یابین الاقوامی تنازعات طے کرانے کے لیے جنگ اور اس طرح کے تنازعات کے حوالے سے جاپان کی فوج کسی اور ملک بھیجنے کی ممانعت کی گئی تھی۔جبکہ اس دفعہ کی از سرنو تشریح یا ترمیم کے ذریعہ اب جاپان کی حکومت کو اپنی فوج کسی بھی ملک کے تنازعات طے کرانے کے لیے بیرون ملک بھیجنے کااختیار دیا گیاہے۔
جاپان کے وزیر اعظم شنزو اَیبے نے آئین کی دفعہ 9 میں اس ترمیم پر زور دیاتھاجس کے ساتھ جاپان کی فوج کو جو ملکی دفاع کی فوج یعنی ”سیلف ڈیفنس“ فوج کہلاتی ہے بیرون ملک بھیجنے اور ایسی صورت میں بھی جب بیرون ملک کسی تنازع سے جاپان پر براہ راست حملے کاکوئی امکان نہ ہو بیرون ملک بھیجنے کا اختیار دیاگیاہے۔
جاپان کے معروف اور کثیرالاشاعت اخبار اساہی شمبھون نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھاہے کہ پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے نئے قانون کے تحت جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کو دنیا میں کسی بھی جگہ امریکہ اور دیگر ممالک کو بھرپور مدد فراہم کرنے کاپابند بنایاگیا ہے۔
یہ قانون منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے موقع گزشتہ سال ستمبر میں بھی جاپانی عوام نے سڑکوں پر نکل کر اس قانون کے خلاف زبردست مظاہرہ کیاتھا اور جاپانی پارلیمنٹ کو گھیر لیاتھا ،جاپان کے اخبار مینی چی کے مطابق گزشتہ روز اس بل کی مخالفت میں کم وبیش 37 ہزار افرا د ٹوکیو کی سڑکوں پر نکل آئے وہ جلوس کی شکل میں پارلیمنٹ کی عمارت پہنچے اور ارکان پارلیمنٹ پر اس بل کے خلاف اپنے شدید جذبات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی، اخبار کے مطابق یہ مظاہرے صرف ٹوکیو تک محدود نہیں تھے بلکہ جاپان کے کم وبیش 35 شہروں میں لوگوں نے اسی طرح سڑکوں پر نکل کر جاپان کے اہم سرکاری اداروں کے سامنے جمع ہوکر شدید احتجاج کیا۔اخبار کے مطابق جاپان میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے مظاہرین نعرے لگارہے تھے ،وزیر اعظم شنزو ایبے کی حکومت کو برطرف کرو ،ہم جنگ نہیں چاہتے، ہمیں جنگ کے حامیوں کو معاف نہیں کرسکتے۔
آر ٹی ڈاٹ کام نے رپورٹ دی ہے کہ گزشتہ اختتام ہفتہ ہائی اسکولوں کے ہزاروں طلبہ نے بھی ٹوکیو کی سڑکوں پرنکل کرجنگ کے خلاف نعرے لگائے تھے ، طلبہ نعرے لگارہے تھے ہم جنگ نہیں چاہتے ہمیں ایک پر امن مستقبل کی ضرورت ہے۔امن ہی پرامن مستقبل کی ضمانت ہے۔
جاپان کی آن لائن کمنٹری نے اپنی رپورٹ میں اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ جاپان کی حکومت کی جانب سے یہ جارحانہ طرز جاپان کے پڑوسی ممالک چین اور شمالی کوریا کی جنگی تیاریوں کی پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کی صورت حال کا نتیجہ ہے ،سرکاری ژنہوا نیوز ایجنسی نے وزیر اعظم شنزو ایبے کو جنگی جنونی قرار دیتے ہوئے لکھاہے کہ جاپان کے وزیراعظم امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اس خطے کے امن کوخطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ژنہوا نیوز ایجنسی نے اپنے ادارتی تبصرے میں لکھاہے کہ جاپان کی پارلیمنٹ سے منظور کرائے جانے والے اس متنازعہ بل کاواحد مقصدامریکہ کے کندھے پر سوار ہوکر ایشیا کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کی تکمیل کے لیے کام کرنا ہے جس سے جاپان نہ صرف اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ علاقائی تنازعات میں بلکہ دیگر ایسے علاقائی معاملات میں بھی اور زیادہ الجھ جائے گا جن سے جاپان کادور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
ژنہوا نے اپنے تبصرے میں لکھاہے کہ شنزو ایبے کی سفارتکاری کی اس حکمت عملی کے تحت پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے بل کے تحت اب جاپان اپنے اورامریکہ کے پڑوسی اور دوست ممالک کو اسلحہ بھی فراہم کرسکے گا اور علاقائی ممالک کو دفاعی ٹیکنالوجی منتقل بھی کرسکے گا جس سے علاقائی جغرافیائی اور سیاسی توازن میں بگاڑ پیدا ہوگااورخطے میں اسلحہ کی ایک نئی دوڑ شروع ہوجائے گی۔
ژنہوا نے اپنے تبصرے میں لکھاہے کہ شنزو ایبے اس طرح کے اقدامات کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ علاقائی امن واستحکام میں مدد دینے جارہے ہیں لیکن اس سے ایک دفعہ پھر یہ ثابت ہوگیا کہ جاپان خطے میں گڑبڑ پھیلانے میں مصروف ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ جاپان ایشیا اوربحرالکاہل کے علاقے میں علاقائی معاملات میں دخل اندازی کرکے امریکہ کا پٹھو اور دم چھلا ہونے کاثبوت دے رہا ہے۔
گزشتہ دنوںجب شمالی کوریا نے اپنے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیاتھا اسی دوران جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے گزشتہ دنوں جاپان کی ایوان بالا کی بجٹ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بذات خود یہ اعتراف کیاتھا کہ جاپان اور امریکہ کے درمیان اطلاعات کے زیادہ تبادلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعاون موجود ہے اور اس بل کی منظوری سے امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر