وجود

... loading ...

وجود

قصہ آئی جی سندھ پولیس کے آئس کریم کھانے کا

جمعه 24 مارچ 2017 قصہ آئی جی سندھ پولیس کے آئس کریم کھانے کا

یہ کہاوت مشہور ہے کہ جو انسان کسی کو عزت دیتا ہے وہ تین چیزیں ثابت کرتا ہے ،ایک یہ کہ وہ خود باعزت ہے ، دوسرا یہ کہ اس میں کتنا ظرف ہے اورتیسرا اس کی پرورش اور خاندانی پس منظر کیا ہے۔ لیکن جو ایسا نہ کرے وہ اسکی عزت خود بھی نہیں کی جاتی ۔زندگی کے ہر شعبے میں ہر انسان کو دونوں طرح کے لوگوں سے پالا پڑتا ہے اور یہ بات صرف کسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے،خیال یہ ہے کہ زیادہ تر دوسری طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ، مگر انسان بھی کیا کرے؟ وہ اس طرح کے لوگوں سے کس طرح جان چھڑائے؟ یہ بھی مشکل امر ہے۔
ایسی ہی صورتحال حال ہی میں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے ساتھ پیش آئی جب وہ شہداد پور ٹریننگ سینٹر گئے اور وہاں کا دورہ کیا ۔نئے تربیت حاصل کرنے والے ریکروٹس کی کارکردگی دیکھی اور ٹریننگ سینٹر کے اعلیٰ افسران کو ہدایات بھی دیں اور پھر وہ وہاں سے آئس کریم کھانے کے لیے مٹیاری چلے گئے۔ پروٹوکول کے تحت جس بھی ضلع میں آئی جی پولیس جاتاہے ،وہاں کے ایس ایس پی‘ ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوکو حاضر ہونا پڑتا ہے اوروہ آئی جی پولیس کو پروٹوکول فراہم کرتے ہیں ۔ان کو وائرلیس اور آئی جی سندھ پولیس کے اسٹاف افسر کی جانب سے اطلاع فراہم کی جاتی ہے کہ آئی جی پولیس ان کے ضلع میں کس کس جگہ جانے والے ہیں۔قواعد کے مطابق یہ اطلاع ضلع مٹیاری کے ایس ایس پی امداد شاہ کو بھی فراہم کردی گئی تھی تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایس ایس پی مٹیاری امداد شاہ نہ صرف خود پروٹوکول میں نہیں گئے بلکہ الٹا انہوں نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو بھی منع کردیا کہ یہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کا نجی دورہ ہے اس میں پروٹوکول دینے یا سیکورٹی فراہم کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ، آئی جی سندھ پولیس کے ساتھ ان کا اپنا بھی اسکواڈ ساتھ ہوتا ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او پروٹوکول پر گئے تو میں اس کے خلاف کارروائی کروں گا۔
واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی مٹیاری امداد شاہ کو اتنا غرور تکبر اس لیے ہے کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے قریبی رشتہ دار ہیں مگر ان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ضلع میںآئے مہمان اعلیٰ افسرکو عزت وتکریم کے طور پر پروٹوکول دیتے تویہ آئی جی پولیس کی نہیںبلکہ خود کے لیے عزت کی بات ہوتی ۔ اگر آج امداد شاہ اپنے قرابت دار مراد علی شاہ کی وجہ سے موج مستی کررہے ہیں تو یاد رکھنا چاہیے کہ کل مراد علی شاہ جب وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے اور وہ خود موجودہ رینک سے سینئر بن گئے تب اگر ان کو کسی جونیئر افسر نے پروٹوکول نہ دیا تو اس صورت میں وہ کیا کریں گے؟
آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ جب مٹیاری پہنچے اور آئس کریم کا آرڈر دیا تو ایس ایس پی مٹیاری اور ماتحت افسران کو نہ دیکھ کر ایک لمحے کے لیے پریشان ضرور ہوگئے لیکن فوراً ہی اس خیال کو رفع دفع کیا اور آئس کریم کھائی ،صوبے میں انکی نیک نامی کے سبب انہیں وہاں دیکھتے ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا، سینکڑوں لوگ آئے اور ان سے ہاتھ ملاتے رہے ،ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے اور ان کو کھانے کی دعوتیں دیتے رہے ۔
یہ منظر اگر ایس ایس پی مٹیاری امداد شاہ دیکھتے تو ان کی آنکھیں کھل جاتیں کہ اﷲ تعالیٰ کس طرح عزت سے نوازتا ہے، اتنی عزت تو ان کو خود مٹیاری میں رہتے اور ڈیوٹی دیتے ہوئے نہیں ملی ہوگی جتنی آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ کو باہر سے جاکر چند لمحوں میں ملی۔ اس معاملے کے باوجود آئی جی پولیس نے اپنی انا کو موضوع بنایا نہ کسی سے شکوہ شکایت کی۔
یہ بات الگ ہے کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی قیادت نے صوبائی محکموں کی بندر بانٹ کردی ہے اور ایس ایس پی مٹیاری جس عزیز کے بل پر اکڑ رہے تھے وہ خود اب برائے نام وزیراعلیٰ بن چکے ہیں ۔درجنوں افراد اس وقت متبادل وزیراعلیٰ بن چکے ہیں ،ایسی سنگین صورتحال ہوگئی ہے کہ کئی محکموں کے سیکریٹریز سے وزیراعلیٰ بات نہیں کرسکتے اور ان کو کوئی حکم نہیں دے سکتے ۔لیکن ایسی صورتحال میں بھی چیف سیکریٹری رضوان میمن اور آئی
جی پولیس اے ڈی خواجہ وہ افسران ہیں جو وزیراعلیٰ سندھ کو مکمل پروٹوکول دیتے ہیں، ان کو وہی عزت واحترام دیتے ہیں جو وزیراعلیٰ کا حق ہے۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے کہ وزیراعلیٰ کو ان کی حقیقی عزت ملنی چاہئے۔ ایس ایس پی مٹیاری نے جو کارنامہ انجام دیا ، اس پر تاحال وزیراعلیٰ سندھ نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی انہوں نے اس ضمن میں آئی جی پولیس سے رابطہ کرکے ایس ایس پی مٹیاری جو انکے عزیز بھی ہیں ،ان کے غیر سنجیدہ رویے پر ان کی دلجوئی کی ہے۔ یوں آئی جی پولیس کا مٹیاری میں آئس کریم کھانا ایک خراب یاد ضرور چھوڑ گیا ہے لیکن یہ ایک ایسی خراب مثال ہے جو مکافات عمل کی شکل میں واپس ضرور لوٹے گی۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود پیر 29 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

خوابوں کا مقدمہ وجود پیر 29 جون 2026
خوابوں کا مقدمہ

بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر