... loading ...
کہتے ہیں کہ طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے باقی سب فنا ہے۔ لیکن وقت کے طاقتور افراد کبھی کبھار خود کو زمین کا خدا سمجھنے لگتے ہیں‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ رسی کھینچتا ہے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں اور پھر وہ اس وقت پچھتاتے ہیں جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ 2008ء کے بعد جب پی پی کی باگ ڈور آصف زرداری کے ہاتھ میں آئی ہے تب سے کچھ لوگوں کے وارے نیارے ہوگئے ہیں ۔ آصف زرداری خود توخیر سے کھرب پتی بن چکے ہیں لیکن ان کے قریبی رشتہ دار اور دوست بھی اب کروڑ پتی کلب سے نکل کر ارب پتی کلب میں شامل ہوچکے ہیں،دودھ بیچنے والے اب ارب پتی ہوگئے ہیں۔ ان میں آصف زرداری کے ایک بہنوئی ڈی ایم جی افسر اور سندھ میں لمبے عرصے تک سیکریٹری تعلیم رہنے والے ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو بھی شامل ہیں۔ فضل اللہ پیچوہو کا تعلق سکھر شہر سے ہے اور ان کے والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ان کا گھر بھی 80 سے 90 گز پر مشتمل تھا۔ فضل اللہ پیچوہو نے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ،انہی دنوں ان کی آصف زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا سے دعا سلام ہوئی اور بعد ازاں ان کی ڈاکٹر عذرا سے شادی ہوگئی اور پھر آصف زرادی کی کرم نوازیوں کے طفیل دولت وثروت نے انکے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔یوں ایک پیش امام کا بیٹا فضل اللہ پیچوہو ارب پتی کلب سے نکل کر کھرب پتی کلب کے رکن بن چکے ہیں۔ انہوں نے جس طرح سندھ کی تعلیم کا بیڑہ غرق کیا، تاریخ میں ایسی مثال ملنا مشکل ہے۔ فضل اللہ پیچوہو نے دو افسران سید ذاکر حسین اور ریحان بلوچ کو فرنٹ مین بناکر رکھا ہے۔یہ دونوں افسران براہِ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی ہوئے تھے ۔اب سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 102 افسران کو ملازمت سے برطرف کیا جائے جن کو براہِ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیا گیا تھا ،اس فہرست میں ریحان بلوچ اور سید ذاکر حسین بھی شامل ہیں۔ فضل اللہ پیچوہو نے ریحان بلوچ کو 20 منصوبوں کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بنائے رکھا حالانکہ اس کی قابلیت یہ ہے کہ وہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان بھی پاس نہ کرسکا اور براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بن بیٹھا ۔فضل اللہ پیچوہو کے دور میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے کھربوں روپے تعلیم کی ترقی کے لئے دیے مگر وہ رقم کہیں خرچ نہیں ہوسکی بلکہ فضل اللہ پیچوہو نے کاغذی کارروائی کرکے یہ رقم اپنی جیب میں رکھ لی۔ اگر ایمانداری سے تحقیقات کی جائے تو ایسے درجنوں میگا اسکینڈل سامنے آئیں گے جس میں فضل اللہ پیچوہو براہِ راست ملوث ہیں۔ ایک بڑا اسکینڈل ابھی سامنے آیا ہے جس سے نہ صرف فضل اللہ پیچوہو کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں بلکہ آصف زرداری اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی سخت پریشان ہوگئے ہیں۔ ہوا کچھ یوں ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا ایک وفد پاکستان آیا اور حکومت سندھ سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران سندھ میں تعلیم کی ترقی کے لیے ایک کھرب روپے (ایک سو ارب روپے) دیئے گئے تھے ،اس کا حساب دیا جائے کہ وہ کہاں خرچ کئے گئے ہیں؟ اور پھر یہ بتایا جائے کہ ایک کھرب روپے اب کس طرح واپس کئے جائیں گے؟ وفد نے کراچی کے علاقہ گڈاپ کے ایک اسکول کا دورہ کیا جہاں وفد کو بتایا گیا گڈاپ کے اسکولوں کو پانچ برسوں میں نہ تو فرنیچر ملا ہے اور نہ ہی اسکولوں کے لئے دوسرا سامان میسر ہے۔ ہر اسکول کو ماہانہ 1500 روپے اور سالانہ 22000 روپے کے فنڈزدینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے جو آسان اقساط پر ایک کھرب روپے کا قرض دیا تھا ،اس میں پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو ایک وقت کا کھانا فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا لیکن افسوس کہ یہ رقم کہیں بھی اصل مقصد کے لیے خرچ نہ ہوسکی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے حکومت سندھ کو طعنہ دیا کہ سندھ کے کسی اسکول کی بھی عمارت و سہولیات کشمیر کے دوردراز ضلع راولا کوٹ جیسی بھی نہیں ہے۔
ایشیائی بینک کا وفد تو واپس چلا گیا ہے لیکن فضل اللہ پیچوہو کا سکون برباد ہوگیا ہے کیونکہ یہ رقم تو اس نے ہی حاصل کی لیکن کسی بھی جگہ اسکے اصل مقاصد کے لیے خرچ نہیں کی۔ اب فضل اللہ پیچوہو آصف زرداری اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی منت سماجت کررہے ہیں کہ کسی طرح ان کو بچایا جائے اور وہ اگر پھنس گئے تو یہ حکومت سندھ اور پی پی کی قیادت کی بدنامی ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی پی یا حکومت سندھ ان کو کس طرح بچاتے ہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...