وجود

... loading ...

وجود

100ارب ہڑپ، ایشیائی بینک نے حساب مانگ لیا

هفته 18 مارچ 2017 100ارب ہڑپ، ایشیائی بینک نے حساب مانگ لیا

کہتے ہیں کہ طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے باقی سب فنا ہے۔ لیکن وقت کے طاقتور افراد کبھی کبھار خود کو زمین کا خدا سمجھنے لگتے ہیں‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ رسی کھینچتا ہے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں اور پھر وہ اس وقت پچھتاتے ہیں جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ 2008ء کے بعد جب پی پی کی باگ ڈور آصف زرداری کے ہاتھ میں آئی ہے تب سے کچھ لوگوں کے وارے نیارے ہوگئے ہیں ۔ آصف زرداری خود توخیر سے کھرب پتی بن چکے ہیں لیکن ان کے قریبی رشتہ دار اور دوست بھی اب کروڑ پتی کلب سے نکل کر ارب پتی کلب میں شامل ہوچکے ہیں،دودھ بیچنے والے اب ارب پتی ہوگئے ہیں۔ ان میں آصف زرداری کے ایک بہنوئی ڈی ایم جی افسر اور سندھ میں لمبے عرصے تک سیکریٹری تعلیم رہنے والے ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو بھی شامل ہیں۔ فضل اللہ پیچوہو کا تعلق سکھر شہر سے ہے اور ان کے والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ان کا گھر بھی 80 سے 90 گز پر مشتمل تھا۔ فضل اللہ پیچوہو نے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ،انہی دنوں ان کی آصف زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا سے دعا سلام ہوئی اور بعد ازاں ان کی ڈاکٹر عذرا سے شادی ہوگئی اور پھر آصف زرادی کی کرم نوازیوں کے طفیل دولت وثروت نے انکے گھر کا راستہ دیکھ لیا۔یوں ایک پیش امام کا بیٹا فضل اللہ پیچوہو ارب پتی کلب سے نکل کر کھرب پتی کلب کے رکن بن چکے ہیں۔ انہوں نے جس طرح سندھ کی تعلیم کا بیڑہ غرق کیا، تاریخ میں ایسی مثال ملنا مشکل ہے۔ فضل اللہ پیچوہو نے دو افسران سید ذاکر حسین اور ریحان بلوچ کو فرنٹ مین بناکر رکھا ہے۔یہ دونوں افسران براہِ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی ہوئے تھے ۔اب سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 102 افسران کو ملازمت سے برطرف کیا جائے جن کو براہِ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیا گیا تھا ،اس فہرست میں ریحان بلوچ اور سید ذاکر حسین بھی شامل ہیں۔ فضل اللہ پیچوہو نے ریحان بلوچ کو 20 منصوبوں کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بنائے رکھا حالانکہ اس کی قابلیت یہ ہے کہ وہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان بھی پاس نہ کرسکا اور براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بن بیٹھا ۔فضل اللہ پیچوہو کے دور میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے کھربوں روپے تعلیم کی ترقی کے لئے دیے مگر وہ رقم کہیں خرچ نہیں ہوسکی بلکہ فضل اللہ پیچوہو نے کاغذی کارروائی کرکے یہ رقم اپنی جیب میں رکھ لی۔ اگر ایمانداری سے تحقیقات کی جائے تو ایسے درجنوں میگا اسکینڈل سامنے آئیں گے جس میں فضل اللہ پیچوہو براہِ راست ملوث ہیں۔ ایک بڑا اسکینڈل ابھی سامنے آیا ہے جس سے نہ صرف فضل اللہ پیچوہو کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں بلکہ آصف زرداری اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی سخت پریشان ہوگئے ہیں۔ ہوا کچھ یوں ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا ایک وفد پاکستان آیا اور حکومت سندھ سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران سندھ میں تعلیم کی ترقی کے لیے ایک کھرب روپے (ایک سو ارب روپے) دیئے گئے تھے ،اس کا حساب دیا جائے کہ وہ کہاں خرچ کئے گئے ہیں؟ اور پھر یہ بتایا جائے کہ ایک کھرب روپے اب کس طرح واپس کئے جائیں گے؟ وفد نے کراچی کے علاقہ گڈاپ کے ایک اسکول کا دورہ کیا جہاں وفد کو بتایا گیا گڈاپ کے اسکولوں کو پانچ برسوں میں نہ تو فرنیچر ملا ہے اور نہ ہی اسکولوں کے لئے دوسرا سامان میسر ہے۔ ہر اسکول کو ماہانہ 1500 روپے اور سالانہ 22000 روپے کے فنڈزدینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے جو آسان اقساط پر ایک کھرب روپے کا قرض دیا تھا ،اس میں پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو ایک وقت کا کھانا فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا لیکن افسوس کہ یہ رقم کہیں بھی اصل مقصد کے لیے خرچ نہ ہوسکی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے حکومت سندھ کو طعنہ دیا کہ سندھ کے کسی اسکول کی بھی عمارت و سہولیات کشمیر کے دوردراز ضلع راولا کوٹ جیسی بھی نہیں ہے۔
ایشیائی بینک کا وفد تو واپس چلا گیا ہے لیکن فضل اللہ پیچوہو کا سکون برباد ہوگیا ہے کیونکہ یہ رقم تو اس نے ہی حاصل کی لیکن کسی بھی جگہ اسکے اصل مقاصد کے لیے خرچ نہیں کی۔ اب فضل اللہ پیچوہو آصف زرداری اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی منت سماجت کررہے ہیں کہ کسی طرح ان کو بچایا جائے اور وہ اگر پھنس گئے تو یہ حکومت سندھ اور پی پی کی قیادت کی بدنامی ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی پی یا حکومت سندھ ان کو کس طرح بچاتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

مضامین
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود هفته 24 جنوری 2026
سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر