وجود

... loading ...

وجود

بھارت کے ریاستی انتخابات:بی جے پی کوتقویت

منگل 14 مارچ 2017 بھارت کے ریاستی انتخابات:بی جے پی کوتقویت

5 ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں جن کے مطابق مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کو اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی نتائج کو اپنی پالیسیوں کی عوام کی جانب سے توثیق قرار دیا ہے ، اس کامیابی کے بعد اب بی جے پی مودی لہر کے دوش پر سوار ہو کر دونوں ریاستوں میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔ان انتخابات میں عوامی مقبولیت کے زعم میں انتخابی اکھاڑے میں اترنے والے بھارتی فلمی ستاروں کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گیا،لیکن انتخابی نتائج نے زیادہ تر فنکاروں کو مایوس کیا کیونکہ بھارتی عوام نے یہ ثابت کیا کہ اگرچہ آج کے دور کے بھارتی سیاستدان بھی اداکاروں سے کم نہیں اور وہ عوام کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اداکاری کابہترین مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں لیکن پردہ سیمیں پر اداکاری’ اورسیاسی اکھاڑے کی اداکاری میں بہت فرق ہے ،فلمی اور ٹی وی ڈراموں کے ستارے اسٹیج پر رٹے رٹائے جملے ادا کرکے عوام سے داد وصول کرلیتے ہیںجبکہ سیاستدانوں کو عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اداکاری کے ساتھ اور بھی کئی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں ، اس کا اندازہ بھارتی صوبوں کے انتخابی نتائج سے لگایا جاسکتا ہے ۔
تازہ ترین انتخابی نتائج کے مطابق ’’کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی’ تلسی‘، بی جے پی کی بہت مضبوط امیدوار ہونے کے باوجود ہار گئیں. شتروگھن سنہا، ہیمامالنی، پریش راول، کرن کھیر اور منوج تیواری جیت گئے جبکہ راکھی ساونت کو صرف ’’11‘‘ ووٹ ملے۔ٹائمز آف انڈیا نے انتخابات میں کامیابی اور ناکامی حاصل کرنے والے فنکاروں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ آپ بھی اس فہرست کی مدد سے اپنی پسند کے فنکار یا فنکارہ کی قسمت کا فیصلہ پڑھ سکتے ہیں،انتخابات میں ڈریم گرل ہیمامالنیکو 3 لاکھ 5 ہزار567 ووٹ ملے۔ وہ متھرا سے بی جے پی کی نشست پر انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ٹوئیٹر پر دیے گئے پیغام کے مطابق انہیں خود بھی اتنے زیادہ ووٹ ملنے کی توقع نہیں تھی۔
کرن کھیر سینئر اداکارہ ہیں۔ وہ دو جگہ سے انتخاب لڑ رہی تھیں۔ چندی گڑھ کی نشست پر ان کا مقابلہ ایک اور فنکارہ گل پانگ سے تھا جو پہلی مرتبہ عام آدمی پارٹی کی طرف سے کھڑی ہوئیں تھیں لیکن کرن کھیر نے انہیں ہرا دیا۔ کرن کے شوہر نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’اچھے دن آگئے۔۔۔جے ہو۔۔۔‘‘
پاریش راول فلموں میں خطرناک ولن کے ساتھ ساتھ کامیڈی بھی کرتے رہے ہیں۔ وہ احمد آباد گجرات سے انتخاب لڑرہے تھے، کامیابی نے ان کے قدم چومے اور اب وہ بہت جلد آپ کو انڈین پارلیمنٹ میں بھی نظر آئیں گے۔
منوج تیواری متنازع ٹی وی شو ’’بگ باس‘‘ کے ذریعے گھر گھر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے اور اسی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے نارتھ ایسٹ دہلی کی نشست پر انتخاب لڑا اور آخر کار کامیاب قرار پائے۔
شتروگھن سنہا تمام فنکاروں میں اس حوالے سے خوش قسمت رہے کہ بالی ووڈ کے بعد سیاست نے بھی انہیں خوب شہرت اور نیک نامی بخشی ہے۔ شتروگھن سنہا ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے انتخاب لڑ رہے تھے۔ کامیابی ان کا مقدر ٹھہری۔
ان انتخابات کا سب سے بڑا سیٹ بیک یہ رہا کہ سمیرتی ایرانی جو بی جے پی کی بہت مضبوط امیدوار تھیں وہ یہ انتخابات ہار گئی ہیں۔ اگرچہ کانگریس کو بی جے پی نے اکثر جگہوں پر چاروں شانے چت کیا ہے لیکن اس بار سمیرتی نے راہول گاندھی کے مقابلے میں امیٹھی سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا، امیٹھی سے کانگریس سالہاسال سے جیتتی آئی ہے اور اس بار بھی یہی ہوا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سمیرتی نے غلط حلقے کا انتخاب کیا ورنہ بی جے پی کی بہت سرگرم اور با اثر کارکن ہیں۔
راکھی ساونت کو بھارتی سیاست میں کتنا پسند کیا جاتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں سب کچھ کرنے کے باوجود صرف ’’گیارہ ووٹ‘‘ ملے، جی ہاں گیارہ ووٹ۔ اس تعداد کو لیکر سوشل میڈیاپر بھی نئے نئے لطیفے بنائے جارہے ہیں۔
راج ببر سینئر اداکار ہیں، کانگریس کی طرف سے انتخاب لڑ رہے تھے لیکن ان کے حلقے غازی آباد (اترپردیش) والوں نے انہیں اس بار سیاست سے دور رہنے پر مجبور کر دیا۔ سیدھے لفظوں میں کہیں تو ان کی جماعت کانگریس کے ساتھ ساتھ راج ببر کو بھی بھارتی جنتا نے اس بار الوداع کہہ دیا۔
جیا پرادا فلموں میں کامیابی کے ساتھ ساتھ ماضی کے انتخابات میں بھی کامیابی سمیٹتی رہی ہیں لیکن اس بار انہیں بھی بری طرح شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔جیا پرادا کی طرح ہی فلم میکر پرکاش جھا کو بھی عوام نے پسند نہیں کیا۔ وہ بہار سے انتخاب ہار گئے۔ اس سے قبل وہ 2009ء کے انتخاب میں بھی کھڑے ہوچکے ہیں لیکن اُس بار بھی انہیں شکست کا ہی منہ دیکھنا پڑا تھا۔
موسیقار بپی لہری ہر جگہ اپنے گلے میں پڑے ڈھیر سارے زیورات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں لیکن بھارتی عوام کی اکثریت غریب ہے لہٰذا انہیں روٹی کے مقابلے میں سونا متاثر نہیں کرسکا۔ مہیش منجریکر اور راکھی ساونت ریاست مہاراشٹر کے ایک ہی حلقے سے انتخاب لڑ رہے تھے اور راکھی ساونت کی طرح ہی مہیش بھی بری طرح الیکشن ہار گئے۔ایکٹر روی شنکر نے جون پور اترپردیش کے حلقے سے انتخاب لڑا لیکن سب کوششیں کرنے کے باوجود ہار گئے۔
یو پی میں 403 نشستوں میںبی جے پی کو 325 نشستیں ملی ہیں جبکہ حکومت سازی کے لیے 202 کی ضرورت تھی۔ سماج وادی اور کانگریس اتحاد کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ اسے صرف 54سیٹیں ملی ہیں۔ بی ایس پی کو 19 اور دیگر کو چار سیٹیں ملی ہیں۔اتراکھنڈ کی 70 نشستوں میں بی جے پی کو 57 اور کانگریس کو11 سیٹیں ملی ہیں۔ یہاں کانگریس برسراقتدار تھی۔ وزیر اعلیٰ ہریش راوت دو حلقوں سے لڑ رہے تھے، دونوں سے ہار گئے۔ یہاں حکومت سازی کے لیے36 سیٹوں کی ضرورت ہے۔
پنجاب میں برسراقتدار اکالی بی جے پی اتحاد کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ10 سال سے حکومت کر رہا تھا۔ 117 رکنی اسمبلی میں کانگریس کو 77 اور اتحاد کو 18 سیٹیں ملی ہیں۔ پہلی بار میدان میں اتری عام آدمی پارٹی کو 20سیٹیں ملی ہیں۔ وہ حکومت سازی کا دعویٰ کر رہی تھی۔ یہاں حکومت بنانے کے لیے59سیٹوں کی ضرورت تھی۔ پنجاب میں10سال بعد کانگریس پھر اقتدار میں لوٹ آئی ہے۔
گوا اور منی پور میں معلق اسمبلی وجود میں آئی ہے، کانگریس اور بی جے پی میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ گوا میں بی جے پی برسراقتدار تھی۔ یہاں 40 سیٹوں میں اسے 14 سیٹیں اور کانگریس کو 19 سیٹیں ملی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے 21 کی ضرورت ہے۔
منی پور میں کانگریس حکومت کر رہی تھی، یہاں اسے 26 اور بی جے پی کو 21 سیٹیں ملی ہیں۔ یہاں حکومت سازی کے لیے 31 کی ضرورت ہے۔ منی پور میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ بوبی سنگھ 15سال سے حکومت کر رہے ہیں۔ وہ پھر کامیاب ہوئے ہیں۔
بی جے پی کے صدر امیت شا نے ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ بی جے پی 4 ریاستوں میں حکومت بنائے گی۔ انہوں نے اس شاندار کامیابی کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کے سر باندھا۔کانگریس اور سماجودای پارٹی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ شکست کا تجزیہ کرے گی اور پارٹی میں اب سخت فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو استعفیٰ دے رہے ہیں۔ یو پی میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا اس کا فیصلہجلد کردیا جائے گا۔بی ایس پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کر کے بے ایمانی کی گئی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے شکایت کرنے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔
مقامی تجزیہ کار ان نتائجکو نریندر مودی کی قیادت پر عوامی اعتماد کو ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کے انتہائی متنازع فیصلے نوٹ بندی کو عوامی حمایت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان نتائج سے 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو زبردست مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ بی جے پی جو راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہے، اب اکثریت میں آجائے گی اور متنازعہ بلوں کو منظور کرانا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر