وجود

... loading ...

وجود

اعظم بستی میں ساڑھے5 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہسپتال کون مکمل کرائے گا؟

پیر 06 مارچ 2017 اعظم بستی میں ساڑھے5 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہسپتال کون مکمل کرائے گا؟

کراچی کے نواحی علاقے اعظم بستی اور گردونواح کے لوگوں کوعلاج معالجے کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی50 بستروں کے ہسپتال کی عمارت گزشتہ 9 سال سے اپنی حالت پر نوحہ کناں ہے اور ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملے کے ارکان عارضی انتظامات کے تحت قریب ہی واقع ایک چھوٹے سے اسکول میں لوگوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں ۔لیکن سندھ کا محکمہ صحت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔سندھ کے محکمہ صحت کے حکام کا اس حوالے سے موقف یہ ہے کہ انھوں نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت اختیارات کی منتقلی کے قانون کے مطابق یہ عمارت اور ہسپتال بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سپرد کردیاتھا۔ اب یہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ہسپتال کیلئے ضروری سہولتیں فراہم کرے اور اسے اس علاقے کے عوام کی سہولتوں میں اضافے کاذریعہ بنائے ، اسے بلدیہ عظمیٰ کے سپرد کردینے کے بعد سندھ کے محکمہ صحت سے اس کاکوئی تعلق نہیں رہا، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کے ارباب اختیار اس حوالے سے نہ تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار نظر آتے ہیں اور نہ ہی ان ذمہ داریوں سے اغماض برتنے کی کوئی ٹھوس وجہ ہی بتانے کو تیار ہیں، جب اس حوالے سے ان سے کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ ایک رٹا رٹایا جملہ کہ بلدیہ کے پاس فنڈز نہیں ہیں ،روزمرہ کے کام چلانا ہی مشکل ہورہاہے ایسے میں ہسپتال کی ضروریات کیسے پوری کی جاسکتی ہیں،جب فنڈز ملیں گے تو اس پر توجہ دیں گے دہرا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے جو تفصیلات دستیاب ہوئی ہیں اس کے مطابق اعظم بستی میںلوگوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی سرکاری ڈسپنسری قائم تھی ،9 سال قبل یعنی 2008 میں حکومت سندھ نے اس سہولت میں توسیع کرکے اس ڈسپنسری کو 50 بستروں کے ہسپتال میں تبدیل کرنے کامنصوبہ بنایااور اس کے لیے باقاعدہ فنڈز کی منظوری دی گئی جس کے نتیجے میں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے اس ہسپتال کی عمارت مکمل ہوگئی۔ اسی دوران 2013 میں اختیارات کی منتقلی کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ منظور کرلیاگیا اور اس ایکٹ کے تحت محکمہ صحت نے ہسپتال کی یہ عمارت اس وقت اس میں موجود سازوسامان کے ساتھ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو منتقل کردی۔چونکہ ہسپتال تعمیر کرنے کے لیے ڈسپنسری کو جس قریبی عمارت میں منتقل کیاگیاتھا اس کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے اس لئے اب اس ڈسپنسری یا ہسپتال کا عملہ قریبی واقع ایک اسکول میں عارضی انتظام کے تحت لوگوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے میں کوشاں نظر آتاہے لیکن بلدیہ عظمیٰ کراچی اس ہسپتال کو پوری طرح فعال بنا کر علاقے اور گردونواح کے لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار نظر نہیں آتی۔
اس حوالے سے جب ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ سروسز کے حکام سے بات چیت کی گئی تو ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس عمارت کا تخمینہ 5 کروڑ70 لاکھ لگایاگیاتھا جس میں 5 کروڑ 20 لاکھ روپے اس پر خرچ کیے جاچکے ہیں لیکن فنڈز کی بروقت عدم فراہمی کی وجہ سے اس کی تخمینی لاگت دگنی ہوچکی ہے۔اب چونکہ یہ قانونی طورپر بلدیہ عظمیٰ کی ملکیت ہے اس لئے سندھ کامحکمہ صحت اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکتا ،اگر بلدیہ عظمیٰ کراچی اس کی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتی تو اسے یہ عمارت اور اس کاسازوسامان سندھ کے محکمہ صحت کو واپس کردینا چاہئے تاکہ محکمہ سندھ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرسکے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ذرائع سے معلوم ہواہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اس ہسپتال کیلئے ہر سال اپنے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت رقم مختص کرتی ہے لیکن یہ فنڈز جاری نہیں کیے جاتے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ڈائریکٹرپلاننگ اور ترقیات محمود بیگ کاکہناہے کہ اس عمارت میں تعمیرات کاکام اسی وقت شروع ہوسکتاہے جب بلدیہ عظمیٰ کراچی کاانجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اس کی ریکیوزیشن دے جب تک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ریکوزیشن نہیں دی جاتی کوئی تعمیراتی کام شروع ہی نہیں کیاجاسکتا۔
علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ علاقے میں ہسپتال کی عمارت کی تعمیر دیکھ کر لوگوں کو یک گونہ سکون ملاتھا کہ اب انھیں اپنے گھر کے قریب ہی علاج معالجے کی سہولتیں میسر آنے لگیں گی لیکن ہسپتال کی عمارت کا اس طرح بیکار کھڑا رہنا علاقے کے لوگوں کے لیے سوہانِ روح بنا ہواہے کیونکہ انھیں علاج معالجے کی سہولتوں کے لیے بدستور دور دراز کے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتاہے جہاں آنے جانے میں کرائے کی مد ہی میں خاصی رقم خرچ ہوجاتی ہے جبکہ مریضوں کو دور دراز لے جانے کی صعوبت علیحدہ اٹھانا پڑتی ہے، علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ میئر کراچی کو،جو کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے ، اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور 9 سال سے ارباب اختیار کی نظر کرم کی محتاج اس ہسپتال کی عمارت کو مکمل کرواکر علاقے کی وسیع آبادی کے دل جیتنے کی کوشش کریں۔
اعظم بستی میں واقع اس اربن ہیلتھ سینٹر کی موجودہ انچارج ڈاکٹر یاسمین کاکہنا ہے کہ ہم اسکول کی جس عمارت میں عارضی طورپر ڈسپنسری چلارہے ہیں یہاں ہمیں جگہ کی کمی کاسامنا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں نہ تو فیملی پلاننگ کا کوئی شعبہ کام کرسکتاہے اور نہ ہی فزیو تھراپی کا ،ان کا کہناہے کہ ہم نے اسکول انتطامیہ سے درخواست کی ہے کہ ہمیں کم از کم ایک کمرہ اور دیدیں تاکہ ہم اس میں فیملی پلاننگ کی سہولت لوگوں کوپہنچاسکیں۔ ڈاکٹر یاسمین نے بتایا کہ اس اربن ہیلتھ سینٹر میں پہلے 150 افراد پر مشتمل عملہ تھا لیکن اب عملے کی تعداد کم ہوکر صرف 80 رہ گئی ہے، ہسپتال میں کوئی پیڈیاٹرک کاشعبہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی ڈاکٹر کی خدمات حاصل ہیں،ہسپتال میں مرد مریضوں کے علاج معالجے کے لیے کوئی مرد ڈاکٹر نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ علاقے میں بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی کی وجہ سے ہسپتال کو ایک جنریٹر کی شدید ضرورت ہے تاکہ الٹرا سائونڈ وغیرہ کی سہولتیں مریضوں کو فراہم کی جاسکیں لیکن یہ سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو اور خود ہمیں امراض کی تشخیص میں دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہسپتال کی خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ اسکول میں ہسپتال چلانے کی وجہ سے اسکول میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں اور اس سے ڈاکٹر بھی پوری توجہ سے مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں حکام بالا کو اس پر فوری اور ترجیحی بنیاد پر توجہ دینی چاہئے اور اس مسئلے کو اولین فرصت میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر