... loading ...
امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ روز ارکان کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ داعش کو کرہ ارض سے ختم کرکے دم لیں گے۔امیگریشن پر کنٹرول کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ملازمتوں کے مواقع میں اضافے، سیکورٹی اور ملک میں قانون کی پاسداری کی صورت حال کو بہتر بنا کر حقیقی معنوں میں امیگریشن کے مسئلے کی اصلاح ممکن ہے۔کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں انھوںنے نفرت پر مبنی جرائم کی شدید مذمت کی ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب امیدیں اپنی گرفت مضبوط کررہی ہیںجس سے اب امریکا کی عظمت کاایک نیا باب کھلنے جارہاہے۔انھوں نے یہودیوں کے قبرستان میں گزشتہ روز بعض عناصر کی جانب سے کی جانے والی توڑ پھوڑ اورکنیسا میں ہونے والے نفرت انگیز حملے جس میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہوگیاتھا کے واقعے کی بھی مذمت کی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک ایساملک ہے جو متفقہ طورپر نفرت اور برائیوں کی مذمت کرتاہے ، انھوںنے امریکا کی اصل روح کی تجدید کا بھی دعویٰ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہونے ٹرانس پیسیفک تجارتی معاہدے سے علیحدگی کے حوالے سے اپنے فیصلے کا بھی ذکرکیا اور اس کے ساتھ ہی امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے اپنے ارادے کا بھی اعادہ کیا۔انھوں نے کہا کہ امیگریشن سے متعلق سخت قوانین پر عملدرآمد سے ہی ہم امریکی باشندوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرسکیں گے اور ان کی اجرتوں میں اضافہ کرسکیں گے ۔اس طرح بیروزگاروں کو روزگار ملے گا اور حکومت کو سالانہ اربوں ڈالر کی بچت ہوگی ،اس طرح ہماری برادری یعنی امریکی عوام ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوسکیں گے۔
داعش کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے جب یہ کہا کہ ہم نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یعنی داعش کا پوری دنیا سے خاتمہ کردیں گے تو ارکان کانگریس نے پرجوش انداز میں تالیاں بجاکر ان کے اس عزم کا خیر مقدم کیا۔لیکن سب سے زیادہ تالیاں اس وقت بجیںاور ارکان کانگریس نے کھڑے ہوکر ان کی تعظیم کی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امریکی کمانڈو کی بیوہ کو خراج تحسین پیش کیا جو یمن میں القاعدہ کے خلاف حالیہ امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگیاتھا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے ارکان پر زور دیا کہ وہ سابق صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر کے پروگرام کا متبادل پروگرام پیش کریں ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر امریکا کی دوسری سب سے بڑی جماعت یعنی ڈیموکریٹس کو ملک کی بھلائی اور ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی جملے پر ری پبلکن ارکان کھڑے ہوکر تالیا ں بجارہے ہوتے تھے تو ڈیموکریٹ ارکان اپنی نشستوں پر بیٹھے رہتے تھے اور وہ تالیاں بجانے والوں کاساتھ نہیں دے رہے تھے۔
ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس میں داعش کا پوری دنیا سے صفایا کرنے کا دعویٰ کررہے تھے اور دوسری جانب افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل نکلسن کا کہناہے کہ داعش پہلے سے زیادہ مضبوط ہورہی ہے اور اب داعش نے ازبک اور پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر ایک غیر رسمی اتحاد بنالیاہے۔جنرل نکلسن کاکہناہے کہ ازبک افغان اور پاکستانی طالبان کا داعش کے ساتھ اتحاد امریکا کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔جنرل نکلسن نے اس خطرے اور داعش کے اس گٹھ جوڑ کا ذکر امریکا کے کومبیٹنگ ٹیرر ازم سینٹر میں امریکی فوجی ادارے کو دی گئی ایک بریفنگ نما انٹرویو میں کیا۔ جنرل نکلسن کا کہناتھا کہ داعش ایک شدت پسند تنظیم ہے جو طالبان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور طالبان حقانی نیٹ ورک ،لشکر طیبہ اور القاعدہ فی البرصغیر کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ان پانچ تنظیموں کاایک غیر رسمی اتحاد ہے اور ضرورت کے وقت یہ ایک دوسری کی ہر طرح مالی اور فوجی مدد کرتے ہیں۔جو امریکا کے لئے تشویشناک بات ہے۔ انھوںنے اس بات پربھی زور دیا کہ داعش اور القاعدہ کے مقاصد کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کابنیادی مقصد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کونشانہ بنانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کو ہم نے بھی سرفرہست رکھاہواہے۔دیگر انتہا تنظیموں پر بھی ہمیں تشویش ہے لیکن یہ تنظیمیں خاص خطے تک محدود ہیں، مثال کے طورپر القاعدہ برصغیر کی کارروائیوں کا محور اسی خطے تک محدود ہے ،بہت سی تنظیمیں صرف پاکستان یا افغانستان میں کارروائیاں کرتی ہیں اور ان کی کارروائیاں ایک خاص علاقے تک محدود ہیں۔جبکہ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے جنگجو افغانستان میں آکر بھی لڑتے ہیں۔جنرل نکلسن نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیاہے ان میں سے 20 تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں جبکہ ایسا دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور جنرل نکلسن کے ساتھ ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی دہشت گردی کو اس عہد کاایک چیلنج قرار دیتے ہوئے اس چیلنج کامقابلہ کرنے کیلئے ایک پوری نسل کی جانب سے عزم وہمت کی ضرورت کااظہار کیاہے۔جرمنی کے شہرمیونخ میں سیکورٹی کے حوالے سے ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں نظم وضبط کو نئے معنی پہنائے جارہے ہیںاور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے سود مند ،پریشان کن یا تباہ کن بناتے ہیں۔انھوں نے اس موقع پرپاکستان کی جانب سے افغان سرحد کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا بھی ذکر کیا اورکہا کہ اس سے ثابت ہوتاہے کہ دہشت گرد اچھا یابرا نہیں ہوتا اس میں کوئی تمیز نہیں برتی جانی چاہئے۔جب تک یہ تفریق اور تقسیم کی جاتی رہے گی ہم مرتے رہیں گے اور ہارتے رہیں گے ۔
اشرف غنی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں جاری جنگ اور تخریبی کارروائیاں خانہ جنگی نہیں ہے بلکہ یہ منشیات فروشوں کی جنگ ہے یہ دہشت گردوں کی جنگ ہے اور یہ ریاستوں کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ ہے۔انھوں نے یقین ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ میں ہم کامیاب ہوں گے اور ہمیں اس میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی کیونکہ ہماری نئی نسل کی زندگی اور خوشحالی کا انحصار اس جنگ میں فتح کے حصول پر ہی ہے۔
امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے اس موقع پریورپی ممالک کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف سے قطعی برعکس موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکا اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے نیٹو کے اخراجات کے حوالے سے یورپی ممالک کو ان کی ذمہ داریوں کااحسا س دلاتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک مشترکہ دفاع کا پوراخرچ برداشت نہیں کررہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، افغانستان کے صدر اشرف غنی اور امریکی جنرل نکلسن کے بیانات سے واضح ہوتاہے کہ داعش اور القاعدہ کے خطرات نے ان کو بری طرح جکڑ رکھاہے اور امریکا کسی بھی قیمت پر داعش سے چھٹکارا پانے کا خواہاں ہے، جبکہ افغان صدر نے داعش اور القاعدہ کے وجود سے ہی انکار کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو منشیات فروشوں کی جنگ قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کااظہار کیاہے ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پورے خطے میں افغانستان ہی وہ جگہ ہے جو دہشت گردوں کی نرسری کاکردار ادا کررہاہے دہشت گردوں نے افغانستان میں اپنا وسیع نیٹ ورک اور تربیت گاہیں قائم کررکھی ہیں جہاں سے تربیت حاصل کرنے والے دہشت گرد نہ صرف یہ کہ افغانستان میں امن کو تہہ وبالا کررہے ہیں بلکہ پاکستان میں کارروائیاں کرکے پاکستانی عوام کا جینا دوبھر کئے ہوئے ہیں امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس حقیقت کاادراک کرتے ہوئے افغان حکمرانوں کو حقائق سے آنکھیں چرانے کی روش ترک کرکے حقائق کا ادراک کرنے کی تلقین کرنی چاہئے اور اس صورت حال کے تدارک کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مشورہ دینا چاہئے تاکہ ان دونوں پڑوسی ممالک میں حقیقی معنوں میں امن وسکون قائم ہوسکے اوردونوں ملکوں کے عوام بے فکری اور احساس تحفظ کے ساتھ اپنی معاشی سرگرمیوں پر توجہ دے سکیں۔
امید کی جاتی ہے کہ امریکا اور دیگر یورپی ممالک افغان حکمرانوں کو بے سروپا تصورات کے پیچھے چلنے اورپاکستان سے بلاوجہ کی مخاصمت کاسلسلہ ترک کرکے پاکستان کے ساتھ مل کر مسائل پر قابو پانے کی کوششیں کرنے کی ضرورت کاقائل کرنے کی کوشش کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...