وجود

... loading ...

وجود

سندھ گورنمنٹ:چوردروازے سے بنے سرکاری افسران کی اصل محکموں میں واپسی

جمعرات 23 فروری 2017 سندھ گورنمنٹ:چوردروازے سے بنے سرکاری افسران کی اصل محکموں میں واپسی

ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے سیاست کو عوام کی جڑوں تک پہنچایا مگر یہ خراب کریڈٹ بھی بھٹو کو ہی جاتا ہے کہ انہوں نے اداروں کا وقار ختم کیا۔ سرکاری افسران کی عزت و احترام میںکمی،ذوالفقار بھٹو کے دور میں نوڈیرو کے رہائشی پنجل خان ایک باورچی تھے، بھٹو نے اس کو اے ایس آئی بھرتی کیا اور چند برسوں میں اس کو ڈی آئی جی کا چارج دلایا۔اس طرح سے اصل میں اداروں پر وار کیاجاتا ہے کیونکہ براہ راست افسر بھرتی کرنے سے محنتی نوجوانوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ بھٹو کے بعد ضیاء الحق کے دور میں براہ راست بھرتیوں کا سلسلہ جاری رہا مگر زیادہ افراد کو براہ راست افسر نہ لگایاگیا۔ تاہم پیرپگارا کے معتمدینِ خاص خان محمد مہر،غلام حیدر منگریو، چراغ الدین ہنگورو سمیت کئی افراد کو براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیا گیا۔ پھر 88 ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو 100 سے زائد افراد کو براہ راست اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی بھرتی کیاگیا۔ پھر جام صادق کی حکومت آئی ،اس نے بھی دل کھول کر براہ راست افسران بھرتی کیے۔ عبداللہ شاہ، لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم، علی محمدمہر اور قائم علی شاہ کے دوسرے اور تیسرے دور میں200 سے زائد افراد کو براہ راست ڈی ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیا گیا۔ مخدوم امین فہیم کے دو بیٹے، سابق صوبائی وزیر ظفر لغاری کا ایک بیٹا، موجودہ وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کو بھی براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیاگیا۔ جب سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر توجہ دی تو اب کہیں جا کر حکومت سندھ نے 102 افسران کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی ہے کہ ان افراد کو مختلف وزرائے اعلیٰ نے رولز 9-Aاستعمال کرکے براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیا۔ اب ان میں سے اکثر افسران تو سیکریٹری بن چکے ہیں، آفتاب کھتری کو تو ریٹائرڈ ہوئے بھی پانچ سال ہوچکے ہیں ،اب بتایا جائے کہ کیا عوام نے اس لیے ووٹ دیے تھے کہ ایم پی اے ، ایم این اے اور سینیٹر اپنی اولادوں کو براہ راست افسران بھرتی کرائیں۔ گھوٹکی کے ایم پی اے احمد علی پتافی کے بیٹے عبدالقیوم پتافی کو ڈی ایس پی، گھوٹکی کے رکن سندھ اسمبلی جام سیف اللہ دھاریجو کے بھائی ظفر اللہ دھاریجو کو ڈی ایس پی، بھٹو اسٹیٹ کی زمینیں سنبھالنے والے خاندان کے فرد الطاف لغاری کو ڈی ایس پی بھرتی کیا گیا اور آج وہ ایس ایس پی بنے بیٹھے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان کی اہلیت اور قابلیت کیا تھی؟کیا یہی کہ وہ ایم پی اے، ایم این اے کے بیٹے ہیں؟
جو نوجوان دن رات محنت کرتے ہیں، پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرتے ہیں وہ صرف چند مارکس پر گھر بیٹھنے پر مجبورہو جاتے ہیں یا پھر ان کا میرٹ نہیں بن پاتا مگر ایم پی اے ، ایم این اے کے بیٹوںکی موجیں ہیں کہ ان کے لئے میرٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ تو سب اقربا پروری کی وجہ سے مفت میںاسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی بن جاتے ہیں اور پھر وہ ترقی پاتے پاتے کمشنر، سیکریٹری اور ڈی آئی جی بن جاتے ہیں، ان کے لیے ترقی کی راہیں بھی کھلی رہتی ہیں۔سپریم کورٹ پچھلے 8 سال سے یہ مقدمہ سن رہی ہے مگر حکومت سندھ کی دیدہ دلیری دیکھنے کے قابل ہے کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہورہی کہ ایک مرتبہ ان افسران سے جان چھڑالے ،آٹھ سال سے سپریم کورٹ متواتر احکامات دے رہی ہے اور حکومت سندھ اس پر عمل کرنے سے گریز کررہی ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ تین چیف سیکریٹریز نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدر آمد کیا تو ان کا تبادلہ کردیا گیا۔ اب اس مرتبہ سپریم کورٹ نے ذرا سختی سے حکم جاری کیا ہے تو چیف سیکریٹری رضوان میمن نے بھی ان افسران پر واضح کیا ہے کہ اب حکومت سندھ ان کا عدالتوں میں دفاع نہیں کرے گی ،بہتر ہوگا کہ وہ خود جاکر عدالتوں میں اپنا کیس پیش کریں اور عدالتیں جو حکم دیں گی حکومت سندھ اس پر عمل کرے گی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شرقی کراچی محمد خان رند کو بدھ کی شام عہدے سے ہٹا کر واپس سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں گریڈ 16 میں بھیج دیا۔ اس طرح باقی افسران کی اصل محکموں میں واپسی بھی اب شروع ہوجائے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے جس طرح اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق اپنی مرضی سے کلرک یا نان گزیٹیڈ ملازمین کو براہ راست اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کرایا اس سے میرٹ کا قتل عام کیاگیا۔ بھلا ہو سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جنہوں نے قانون وانصاف کا بول بالا کیا اور چور دروازے سے افسر بننے والوں کو اصل محکموں میں واپس بھیجا۔ایسے اقدامات ہوتے رہے تو کم ازکم اب سندھ میں میرٹ پر وان تو چڑھے گا!!!


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر