وجود

... loading ...

وجود

لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ،سندھ حکومت ناکام ‘وزیراعلیٰ نامراد

پیر 20 فروری 2017 لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ،سندھ حکومت ناکام ‘وزیراعلیٰ نامراد

لعل شہبازقلندر کے مزار پر حملے کے سہولت کاروں کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ سیہون شریف دھماکوں کی تفتیش میں تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تاہم ایک سیاسی جماعت کے چند اکابرین نے انتہائی شرمناک انداز سے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وفاقی حکومت پر الزام تراشی کی، وہ سیکورٹی جیسے حساس معاملات پرسیاست نہیں کرنا چاہتے لیکن بے سرو پا الزامات کاسلسلہ جاری رہا توچند دنوں میں تمام صورت حال قوم کے سامنے رکھ دیں گے۔اس ضمن میں تفتیشی ادارے دھماکے کے مقام سے ملنے والے سامان کی فارنزک جانچ پڑتال میں مصروف ہیں، کیمروں کی ناقص کوالٹی کے باعث اب تک سی سی ٹی وی فوٹیج سے کوئی بھی مدد نہیں مل سکی ہے ۔ دھماکے کی جگہ سے ملنے والے سامان اور دیگر موادکی فارنزک جانچ پڑتال سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے ماہرین کر رہے ہیں۔سیہون شریف میں سو سے زائد غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ درگاہ لعل شہباز قلندر پر خودکش حملہ آور کے ساتھ بھی تین سہولت کار تھے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کوتاہی ہوئی ہے لیکن نوعیت کا پتا چلارہے ہیں، درگاہ پرحملے کے وقت بھی پولیس موجود تھی، ایک پولیس افسر بھی شہید ہوا، واقعے کی تفتیش سی ٹی ڈی کررہی ہے، سہولت کاروں تک جلد پہنچ جائیں گے۔
ایس ایس پی جامشورو کا کہنا تھا کہ حملے کی جگہ کی جیو فینسنگ کی جاچکی ہے، جگہ کو دھونے سے پہلے تمام ادارے شواہد اکٹھے کرچکے تھے، سی ٹی ڈی واقعے کی تفتیش کررہی ہے، جلد دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔ انچارج سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب کا کہناہے کہ ممکنہ طور پر حملہ آور مرد تھا،دھماکا مزار کے اندر ہوا،صحن میں ہوتا تو جانی نقصان اور زیادہ ہوسکتا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کرلیے، سی سی ٹی وی ویڈیو سے بھی تحقیقات میں مدد لی جائے گی ۔کراچی سے تقریبا 280کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حضرت لعل شہبازقلندر کی درگاہ پر ہونے والے دھماکے نے حکومتی انتظامات کی قلعی کھول دی ۔واضح رہے کہ سیہون وزیر اعلی سندھ کا آبائی حلقہ بھی ہے۔ اسی علاقے سے ان کے والد بھی منتخب ہوکر وزیراعلی بنتے رہے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس جگہ اب تک کوئی بڑا اسپتال نہیں بنایا گیا ۔گو کہ ہر سال یہاں لاکھوں کی تعداد میں زائرین حاضری دینے آتے ہیں اور خاص طور پر گرمیوں کے دنوں میں ہر سال یہاں اسپتالوں کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کئی اموات ہوتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مزار پر خودکش دھماکا ہونے کے بعد ایک گھنٹے تک مزار کے احاطے میں ریسکیوآپریشن شروع نہ کیا جاسکا ۔ تعلقہ اسپتال سیہون مزار سے آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن یہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے ۔ کاغذوں میں تو یہ اسپتال ڈیڑھ سو بستروں اور سات ایمبولینسوں سے لیس ہے مگر افسوس کہ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور شہید ہونے والوں کو ذاتی گاڑیوں ، رکشوں اور ٹیکسیوں میں اسپتال منتقل کرتے رہے ۔ستم ظریفی یہ کہ انہیں طبی امداد دینے کیلئے تعلقہ اسپتال میں فوری طور پر ڈاکٹرز بھی میسر نہیں تھے ۔ عینی شاہدین کے مطابق جب زخمیوں کو اسپتال پہنچایاگیا تو اسپتال کا عملہ نہ ہونے کے برابر تھا۔اسپتال میں تعینات 7سے8ڈاکٹروں کو اسپتال پہنچنے میں تاخیر کے باعث زخمیوں کو مشکلات ہوئیں۔ ڈاکٹروں کی کمی کے ساتھ پیرا میڈیکل اسٹاف اور ادویات کی قلت نے بھی متاثرین کا امتحان لیا۔ اتنی بڑی تعداد میں زخمیوں کیلئے بستروں کی موجودگی بھی سوالیہ نشان بنی۔ بیشتر زخمیوں کو اسپتال کے فرش پر لٹا کر طبی امداد دی گئی۔مختلف این جی اوز اور ایدھی کی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کرلاشوں اور زخمیوں کو سندھ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے نے مجموعی طور پر سندھ حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ سندھ حکومت کرپشن کی دلدل میں گردن گردن دھنسی ہوئی ہے۔اور عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کرنے سے مکمل بے پروا ہوچکی ہے۔ سیہون وزیراعلیٰ سندھ کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود مکمل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کے بعد یہاں زخمیوں کو طبی امداد دینے تک کی سہولتیں مہیا نہیں ہوسکی تھیں۔ جس نے عوام کو احتجاج پر مجبورکیا۔ ناقص حفاطتی انتظامات کے باعث اب یہ بات مکمل سامنے آ چکی ہے کہ دراصل سندھ حکومت عوام کی حفاظت کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ اس حوالے سے اب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پر بھی عوام کااعتماد اُٹھتا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ جب قائم علی شاہ کی جگہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب سے سرفراز ہوئے تو اُنہیں ابتدا میںاچھی نظروں سے دیکھا جاتا رہا۔ مگر ہر گزرتے دن اُنہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ بھی پیپلزپارٹی کے روایتی کلچر سے کچھ مختلف کردار نہیں رکھتے۔ چنانچہ اُن کی ناکامیاں اب ہر محاذ پر سامنے آنے لگی ہیں۔


متعلقہ خبریں


پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر