وجود

... loading ...

وجود

پیپلزپارٹی نے عورت کے تقدس کا جنازہ نکال دیا

جمعرات 26 جنوری 2017 پیپلزپارٹی نے عورت کے تقدس کا جنازہ نکال دیا

سندھ اسمبلی کے گزشتہ دنوں اجلاس میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر امداد پتافی نے مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی کو صرف بل پڑھنے پرکہا کہ’’ موسم ہے عاشقانہ ،اور وہ چیمبر میں آجائیں تواس کا جواب دوں گا‘‘۔
مقام افسوس یہ ہے کہ اس موقع پرسیکولر ازم اور خواتین حقوق کے علمبردار پی پی کے ارکان سندھ اسمبلی اورقائم مقام اسپیکر جو خود بھی خاتون ہیں ، خاموش رہیں۔اس واقعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ واقعی اب بینظیربھٹو مرگئی چکی ہیں اور انکے ساتھ ہی ان کا فلسفہ و نظریہ بھی مرچکا کیونکہ وہ اگر زندہ ہوتیں تواولاً امداد پتافی جیسے غیر سنجیدہ ایم پی اے کووزارت بھی نہ دیتیں اوراگروزارت ملتی بھی تواس واہیات جملے پراسی وقت اس کوبرطرف کردیتیں۔سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بینظیربھٹو واقعی عورت کے احترام کی علمبردار تھیں، 1988ء میں جب پی پی کی حکومت تھی تواس وقت کراچی میں سہراب گوٹھ کے پاس ڈاکٹرفوزیہ بھٹو کی لاش ملی ، تحقیقات سے پتہ چلاکہ اس واقعے میں پی پی سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی رحیم بخش جمالی ملوث ہیں ، بینظیربھٹو وزیراعظم تھیں ،انہوں نے فوری طورپر ایم پی اے رحیم بخش جمالی کوگرفتار کرایا۔ پھربے نظیر نے اُس وقت پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنما (اور اب ن لیگی ) رانا ثناء اﷲ کو ایک مرتبہ نواز شریف ،کلثوم نواز،کیپٹن (ر) صفدر اورمریم صفدر کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال پر پارٹی سے نکال دیاتھا۔ اس طرح جب راحیلہ ٹوانہ ،منیر ا شاکرکوجام صادق دور میں گرفتار کیاگیااورشہلا رضا کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے تو بینظیر کا سکون برباد ہوگیا، ملکی سطح پر اتنی آواز اٹھائی کہ اس وقت کے صدرغلام اسحاق خان کو اپنے داماد عرفان اﷲ مروت کوروکنا پڑا کہ اب وہ پی پی کی خواتین کے خلاف کارروائی نہ کریں۔اس طرح جب بزرگ مسلم لیگی رہنما سردار شوکت کی بیٹی وینا حیات کے گھرپرپولیس نے چھاپہ مارا اور ان کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی تو بینظیربھٹو احتجاج کے لئے کھڑی ہوگئیں اوراس وقت جام صادق کوپیچھے ہٹنے پرمجبورکیا۔ بینظیربھٹونے اپنے دوسرے دورمیں تہمینہ دولتانہ سے پی پی رہنمائوں کی بدسلوکی پرسخت ناراض ہوگئیں بیگم عابدہ حسین نے کئی مرتبہ بینظیربھٹو سے الجھیں مگر کبھی بھی بیگم عابدہ حسین کوانتقام کا نشانہ نہ بنایا۔
بینظیر بھٹو اس دنیا سے رخصت ہوگئیں تو ہرکوئی یہی سمجھنے لگا کہ اب بھی اس پارٹی میں عورتوں کا احترام برقراررہے گا، ارباب رحیم کی وزارت اعلیٰ کے دورمیں جب سرکاری رکن ایشور لال نے پی پی کی رکن شازیہ مری کوچٹ بھیجی کہ آج آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟تواس وقت مراد علی شاہ، مکیش کمار چائولہ نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایشورلال پرحملہ کرکے اس کوخون میں نہلادیا۔ مگریہ سب باتیں بینظیرکی زندگی تک تھیں ۔ بینظیر چلی گئیں توایک نئی پی پی سامنے آئی،2008ء میں جب پی پی کی حکومت بنی تواس وقت پی آئی اے کی ایک ڈاکٹر ناجیا بھٹو کواس کے شوہر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ نے قتل کردیا۔ میڈیا میں خبریں آئیں لیکن اس وقت بینظیر بھٹو تونہ تھیں کہ وہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ کواس طرح گرفتار کراتیںجس طر ح انہوںنے رحیم بخش جمالی کوگرفتار کرایاتھا۔ سید غلام مرتضیٰ شاہ چونکہ ضلع خیرپور سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے اس وقت کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے مکمل طورپر ان کوتحفظ دیا۔یوں ڈاکٹر ناجیا بھٹو کا خون آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کے دورمیں ضائع ہوگیا اوراب توقصہ پارینہ بھی بن گیا ہے۔
سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں جب امداد پتافی نے تھرڈ کلاس زبان استعمال کی توصحافتی حلقوں میں امداد پتافی کا ماضی قریب سامنے آگیا۔ جب ذوالفقار مرزا وزیر داخلہ تھے تو امداد پتافی جیسے لوگ ان کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتے تھے، جب ذوالفقار مرزا لندن جارہے تھے تواس وقت شرجیل میمن اورامداد پتافی اس کے ساتھ گئے، بعد میں پارٹی نے ان کوشوکاز نوٹس جاری کیا اوریوں معاملہ ختم ہوگیا ۔پھرشرجیل میمن تواویس مظفر ٹپی اورفریال تالپور سے معافی مانگ کر آصف زرداری کے قریب ہوگئے۔ شرجیل میمن کے دورمیں امداد پتافی ایک مرتبہ پھر ولن کے اس روپ میں قائم ودائم رہے جیسا کردار ذوالفقار مرزا کے وقت ادا کیاتھا۔پھر شرجیل بیرون ملک چلے گئے لیکن امداد پتافی نے اس کی خدمت گزاری جاری رکھی اورجب قائم علی شاہ تبدیل ہونے اورمراد علی شاہ متوقع وزیراعلیٰ کے طورپر سامنے آئے توایک مرتبہ پھر امداد پتافی نے تیسری مرتبہ خوشامدی بن کراپنی خدمات پیش کیں۔ مراد علی شاہ اورشرجیل میمن کی سفارش پرامداد پتافی کووزارت ملی جسے اس کو اپنی خوشامد کا صلہ مل گیا ۔
امداد پتافی نے جس طرح مقدس ایوان میں ایک عورت کے تقدس کوپامال کیا اس پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہے کہ بینظیرکے قتل کے ساتھ ہی ان کا نظریہ ،فلسفہ، شان ،شوکت بھی اب ختم ہوگئیـ۔واقعے کے وقت وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی مسکراتے رہے، انہوں نے بھی وہ کردارادا نہ کیا جوانہوں نے شازیہ مری کے لیے ادا کیاتھا۔ امداد پتافی کوواقعے کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا میں بری طرح لعنت ملامت کا سامنا کرناپڑا جس کے بعدانہوں نے دوپٹہ اٹھاکر نصرت سحر عباسی کے سرپررکھ دیا اورمجبوراًبہن بنالیا مگرواقعے سے یہ ثابت ہوگیا کہ پی پی پی کا سیکولر ازم ،مساوات اور خواتین کے حقوق و عزت و احترام کا نعرہ کھوکھلا ہے اور حقیقت میں پی پی رہنمائوں کے روپ میں دراصل وڈیرہ شاہی زندہ ہے جس کی نظر میں عورت کی حیثیت ہمیشہ حقیر اور کم تر ہے ۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر