وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کی صدارت کا آغاز دنیا بھر میں غیر یقینی کا ماحول

اتوار 22 جنوری 2017 ٹرمپ کی صدارت کا آغاز دنیا بھر میں غیر یقینی کا ماحول

بالآخر ڈونلڈٹرمپ نے امریکا کے صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کاحلف اٹھا لیا اور اس طرح اب امریکا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیاہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے ،اور دنیا کا کوئی بھی رہنما یہاں تک کہ امریکا کے قریبی اور دیرینہ اتحادی بھی یہ پیشگوئی کرنے سے قاصر ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرصدارت امریکی خارجہ پالیسی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، امریکا کے کتنے دیرینہ اتحادی امریکی اتحادی کی حیثیت سے اپنی حیثیت برقرار رکھ سکیں گے اور کتنے اتحادیوں کانام حلیفوں کی صف سے نکل کر حریفوں میں آجائے گا۔
نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کی پروقار اور رنگارنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر امریکا کو متحد اور ایک عظیم ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے دور صدارت میں امریکا کو متوقع طورپر درپیش چیلنجوں کے ساتھ ہی ورثے میں ملنے والے بعض مسائل کا بھی ذکر کیا لیکن چین اور روس کے بارے میں اپنی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی،جبکہ اس وقت پوری دنیا چین کے ساتھ امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا ہے ،اور خود چین کی قیادت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع سرکش خارجہ پالیسی کی حرارت محسوس کر رہی ہے۔ یہ تشویش اور چینی قیادت میں پائی جانے والی بے چینی بلاوجہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل ہی بطور منتخب صدر، عالمی رہنمائوں کو کی جانے والی ٹیلی فون کالز میں سے ایک تائیوان کے صدر کو بھی کی تھی۔ جبکہ گزشتہ تمام سابقہ امریکی حکومتیں، چاہے وہ ری پبلکن ہوں یا ڈیموکریٹس، 1979 سے ’ون چائنا‘ کی پالیسی پر قائم رہی ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران کئی تلخیوں کے باوجود بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی مضبوط ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس اب ڈونلڈٹرمپ کے تائیوان کی جانب پرتپاک رویوں اور اشاروں سے ایک بار پھر ’ٹو چائناز’ کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہ بات بیجنگ کے لیے بھی شدید غصے کا باعث بنی ہے اور اس کے یقینی طور پر زبردست علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔ چین نے منتخب صدر پر آگ سے کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ کے پاس پھر اپنی طاقت دکھانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچے گا۔
دوسری جانب ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ چین انھیں بتائے کہ کیا کرنا ہے۔ ’’مجھے نہیں معلوم کہ کیوں ہم ون چائنا پالیسی کے پابند رہیں۔‘‘چین کے سرکاری میڈیا نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں خارجہ امور کی بابت ’’انکساری سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘گزشتہ دنوں ٹرمپ نے فاکس نیوز سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر چین، امریکا کو تجارت سمیت دیگر امور میں رعایت نہیں دیتا تو وہ نہیں سمجھتے کہ ’’ون چائنا پالیسی کو جاری رکھا جانا چاہیے۔‘‘اس پر پیر کو ایک چینی اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ایک تبصرے میں نو منتخب امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرمپ کی طرف سے اس پالیسی کو اقتصادی مذاکرات کے لیے استعمال کرنے کی سوچ ’’ناپختگی‘‘ کو ظاہر کرتی ہے۔
’’ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ جب تک ان کے پاس قوت ہے وہ ہر چیز کی قیمت لگا سکتے ہیں اور خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔ اگر امریکی آئین کی قیمت لگا دی جائے تو کیا امریکی عوام اپنے ملک کے آئین کو بیچیں گے اور سعودی عرب یا سنگاپور کا سیاسی نظام نافذ کر لیں گے؟‘‘
تبصرے میں مزید کہا گیا کہ اگر ٹرمپ تائیوان کی آزادی یا اسلحے کی فروخت کی حمایت کرتے ہیں تو پھر چین ’’بین الاقوامی امور میں واشنگٹن کے ساتھ شراکت داری کا جواز نہیں رکھتا‘‘، اور پھر چین امریکا کے مخالفین کے لیے فوجی اور دیگر امداد کی پیشکش کر سکتا ہے۔
اپنے انٹرویو میںڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ تائیوان کی صدر سائی انگ ون کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کا دفاع کیا جو کہ 1979ء کے بعد سے کسی بھی امریکی صدر یا نو منتخب صدر کا تائیوانی رہنما سے پہلا رابطہ تھا۔ امریکا بھی تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کرتا آیا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ چین انھیں بتائے کہ کیا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیوں ہم ون چائنا پالیسی کے پابند رہیں جب تک کہ ہم چین کے ساتھ تجارت سمیت دیگر چیزوں پر ڈیل نہیں کرتے۔ٹرمپ نے چین کی طرف سے اپنی کرنسی کی پالیسی، بحیرہ جنوبی چین میں عسکری تعمیرات اور شمالی کوریا پر جوہری تجربات کی بنا پر عائد پابندیوں میں رکاوٹ ڈالنے پر تنقید کی۔
ابھی ڈونلڈ ٹرمپ اور تائیوان کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت پر ہی بحث جاری تھی کہ ایک او ر خبر نے جلتی پر مزید تیل ڈالنے کا کام کیاہے۔یہ خبر کسی اور نے نہیں بلکہ خود بھارتی میڈیا نے جاری کی ہے، بھارتی اخبار بزنس اسٹینڈرڈ نے انکشاف کیا ہے کہ بحیرہ عرب میں چینی آبدوزوں کی جاسوسی کے لیے بھارت اور امریکا ایک ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔پاکستان کے انگریزی روزنامے کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی اخباربزنس اسٹینڈرڈ لکھتا ہے کہ ایڈمرل ہیرس نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بھارتی اور امریکی نیوی افواج ساتھ مل کر بحیرہ ہند میں چینی بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔آبدوزوں کا سراغ لگانے میں بھارتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے بوئنگ پی 81 نامی ملٹی مشن میری ٹائم ایئرکرافٹ کی فروخت کو کلیئر کیا گیا۔یاد رہے کہ بوئنگ پی 81 آبدوز تلاش کرنے والا دنیا کا سب سے بہترین ایئرکرافٹ ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق ایڈمرل کی جانب سے اعتراف کیا گیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر اس کی سراغ رسانی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ بہت زیادہ لیکن بحر ہند میں چینی میری ٹائم کی نقل و حرکت کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے بحر ہند میں چینی آبدوز کی موجودگی کو ایک واضح مسئلہ قرار دیا۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ آبدوز کے خلاف کارروائیاں مالابار میں ہونے والی مشقوں کا حصہ ہیں جس میں ہر سال امریکا، بھارت اور جاپان حصہ لیتے ہیں۔نئی دہلی میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈمرل ہیرس کا کہنا تھا کہ ان مشقوں کی مدد سے آبدوزوں، کشتیوں اور ان جیسی دیگر چیزوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔امریکی پیسیفک کمانڈ (یو ایس پی اے سی او ایم) کے سربراہ کے مطابق اس وقت کوئی چیز چین کو اپنا کیرئیر طیارہ بحر ہند میں داخل کرنے سے نہیں روک سکتی۔اخبار کے مطابق چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جارحیت امریکا اور بھارتی نیوی کو ساتھ کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔اخبار کا مزید کہنا تھا کہ ہوائی میں اپنے ہیڈ کوارٹرز سے کام کرنے والے امریکی ملٹری فور اسٹار ایڈمرل چین کے واحد ایئرکرافٹ کیریئر لیاؤننگ کو صلاحیتوں کے لحاظ سے امریکی کیریئر سے کم قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے خیال سے بھارتی نیوی چین کے کیرئیر ڈیک سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر