وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم ،بھارت میں خدمات

بدھ 18 جنوری 2017 پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم ،بھارت میں خدمات

پاکستان دنیا میں ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں اقلیتوں کو آئین میں حقوق کی ضمانت اور اظہار کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ملک بھر میں کسی عیسائی‘ ہندو‘ سکھ ‘ پارسی کو کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر تعصب کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ اقلیتی برادری نے بھی ملک و قوم کی ایسی ہی خدمت کی ہے جیسے مسلمانوں نے کی ہے۔ جسٹس( ر) دراب پٹیل‘ جسٹس (ر) رانا بھگوان داس‘ سوبھوگیان چندانی‘ رانا چندر سنگھ‘ پی کے شاہانی سمیت ایسے درجنوں نام ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں ناقابل بیان کارنامے سر انجام دیے۔ جسٹس(ر) دراب پٹیل ان چار ججوں میں شامل تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کی مخالفت کی‘ اسی طرح جسٹس(ر ) رانا بھگوان داس نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال نہ کرنے کا دبائو مسترد کردیا۔ سوبھوگیان چندانی بائیں بازو کی سیاست کرتے تھے اور مرتے دم تک اپنے اس نظریہ سیمنحرف نہ ہوئے۔
سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں صوفی ازم کی وجہ سے اقلیتی برادری کے ساتھ پیار و محبت کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے‘ تعلیم‘ ملازمت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اقلیتی برادری کو کبھی کوئی تعصب کا نشانہ نہیں بنایا گیا ،آج بھی وکلاء‘ ڈاکٹروں‘ اساتذہ وافسران میں اقلیتی برادری کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کا اپنے شعبہ میں اچھا نام بھی ہے۔ صحت کا شعبہ ہندو برادری کا پسندیدہ شعبہ ہے اور اکثر ہندو لڑکے اور لڑکیاں ڈاکٹر بننے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘ ہندو لڑکے جب ڈاکٹر بن جاتے ہیں تو وہ سرکاری ملازمت بھی کرلیتے ہیں اور بیرون ممالک بھی چلے جاتے ہیں لیکن ہندو لڑکیاں ڈاکٹر بن کر کہاں جاتی ہیں؟ اس کا کسی کے پاس جواب نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی محکمہ صحت‘ حکومت سندھ اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے سب سو گئے ہیں کہ ان کو پتاہی نہیں کہ ہندو لیڈی ڈاکٹر ڈگریاں لینے کے بعد کہاں غائب ہو جاتی ہیں؟
ایک غیر سرکاری اندازے کے مطابق ہر سال 50سے 60 ہندو لڑکیاں ڈاکٹر بن کر نکلتی ہیں ،اگر دس سال کا جائزہ لیا جائے تو کم از کم 500ہندو لیڈی ڈاکٹرز تو موجود ہونی چاہییں مگر یہ سب کہاں ہیں؟ آج تک کسی سرکاری‘ نیم سرکاری ادارے‘ نجی شعبہ ‘ صحافیوں‘ دانشوروں نے اس بات پرتشویش کا اظہار ہی نہیں کیا کہ ہندو لیڈی ڈاکٹرز ڈگری تو لے لیتی ہیں مگر پھر وہ کہاں غائب ہو جاتی ہیں؟ ان کا کوئی اتا پتہ نہیں ہوتا۔
’’جرأت‘‘ نے اس ضمن میں جب تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ 80فیصد ہندو لیڈی ڈاکٹرز شادی کرکے بھارت چلی جاتی ہیں اور باقی دس سے پندرہ فیصد ہندو لیڈی ڈاکٹرز بیرون ممالک جا کر ملازمت کرتی ہیں اور چار پانچ فیصد ہندو لیڈی ڈاکٹرز یا تو کسی نجی اسپتال میں ملازمت کرتی ہیں یا پھر وہ اپنا ہی کلینک کھول لیتی ہیںجبکہ ایک فیصد ہندو لیڈی ڈاکٹرز ایسی ہیں جو کسی اہم صوبائی یا وفاقی ادارے میں ملازمت کرلیتی ہیں۔
حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ جب کسی ڈاکٹر کو ملازمت دی جاتی ہے تو اس کے لیے پہلی شرط یہ رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے آبائی ضلع میں دو یا تین سال نوکری کرکے اس کے بعد اس کو کسی دوسرے ضلع میں تبادلہ کیا جائیگا‘ اگر مسلح افواج میں ملازمت ملتی ہے تو اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ اس کو ایک مخصوص مدت تک کے لیے لازماً ملازمت کرنی ہے اگر اس طے شدہ مدت سے پہلے کوئی ملازمت چھوڑے گا تو اس کو باقاعدہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔عوام کو خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں داخل ہونے والوں پر حکومت کو اچھے خاصے اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں، تو کیا میڈیکل جیسی اہم فیلڈ کے لیے کوئی قانون نہیں ہونا چاہیے کہ اگر کوئی میڈیکل میں داخلہ لے گا تو اس کو ڈگری کے بعد مخصوص مدت تک کے لیے اپنے صوبہ میں ملازمت کرنا لازم ہو‘ یہ ہمارے اداروں کی غفلت اور نا اہلی ہے کہ میڈیکل میں میرٹ پر داخلہ لیتے وقت کسی سے کوئی ضمانت نہیں لی جاتی اور پھر وہی ڈگری ہولڈر ہمارے صوبہ ، ہمارے ملک سے ڈگری لے کر بھارت یا دیگر ممالک میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں ۔اگر ان ہندو لیڈی ڈاکٹرز کو سندھ میں یا ملک کے کسی دوسرے حصے میں ملازمت نہیں کرنی تو ان کو میڈیکل میں داخلہ بھی نہیں لینا چاہیے اور ان کی جگہ ان کو داخلہ ملنا چاہیے جو چند مارکس کی کمی کی وجہ سے ویٹنگ لسٹ پر رہ جاتے ہیں۔ بھارت کو کیا پریشانی ہے جب ان کو بیٹھے بٹھائے ایم بی بی ایس ڈاکٹر حاصل ہو جاتے ہیں جن پر سرمایہ پاکستان کا لگا ہوتا ہے ۔ ان کو تو فائدہ ہوتا ہے مگر جو پاکستان اور صوبہ سندھ کا نقصان ہورہا ہے اس کے ازالہ کے لیے کسی نے بھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس حساس مسئلے پر کوئی باضابطہ طریقہ کار طے کرنا ہوگا ورنہ عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ اس ملک کا کوئی خیر خواہ نہیں ہے اور ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہے۔ حکمرانوں کو خواب خرگوش سے اٹھانے والا بھی شاید اب کوئی نہیں ہے ،اسی لیے تو ہندو لیڈی ڈاکٹرز دیدہ دلیری سے سندھ سے ڈگری لے کر بھارت میں خدمات سر انجام دیتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر