... loading ...
پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈی فیکٹو سربراہ آصف علی زرداری بھی بالآخر 18 ماہ بعد وطن واپس آگئے ،لیکن ان کی آمد سے قبل جو فضا بنائی اور ماحول تیار کیاگیاتھا ، صورتحال اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔اس سے قبل آصف زرداری اپنی ایک اشتعال انگیز تقریر کے بعد خاموشی سے بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے ،ان کی روانگی کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسی وقت یہ رائے قائم کرلی گئی تھی کہ اب آصف زرداری کم از کم جنرل (ر)راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ تک وطن واپس نہیں آئیں گے ، اس طرح لوگوں کایہ خیال درست ثابت ہوا اور آصف زرداری جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ تک بڑے اطمینان وسکون سے دبئی میں بیٹھے موسم اور سیاست دونوں کے مزے لیتے رہے، اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد انھوں نے وطن واپسی کے لیے پر تولنا شروع کردیے تھے۔
آصف زرداری کی وطن واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں گرماگرمی کاماحول تیار کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور خود پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کی جانب سے یہ تاثر دیاجاتارہاکہ آصف زرداری وطن واپس آتے ہی موجودہ حکومت اور خاص طورپر وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف طبل جنگ بجادیں گے اور کراچی اورلاہور کی سڑکوں پر دمادم مست قلندر شروع ہوجائے گا، موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آئے ہوئے عوام کو یہ امید بندھ چلی تھی کہ اگر آصف زرداری موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہ ہوئے تو کم ازکم نواز شریف کو قبل از وقت انتخابا ت کرانے اور موجودہ عوام دشمن پالیسیاں ترک کرکے عوام کے مسائل پر توجہ دینے پر مجبور کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے،ان کی آمد سے قبل بلاول بھٹو نے نواز شریف کو 27 دسمبر تک اپنے پیش کردہ 4 نکات منظور کرنے کاالٹی میٹم دے رکھا تھااور واضح طورپر اعلان کیا تھا کہ اگر 27 دسمبر تک ان کے پیش کردہ 4نکات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ اپنی والدہ کی برسی کے موقع پر سڑکوں پر آکر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے اور دمادم مست قلندر کرنے کے لائحہ عمل کا اعلان کردیں گے۔اس لیے عام طورپر تاثر یہی تھا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اس موقع پر کسی تحریک کا اعلان کردیا جائے گا اور اس طرح گڑھی خدا بخش کا جلسہ اس حکومت کے خلاف تحریک کانقطہ آغاز ثابت ہوگا، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد،کے مصداق کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔آصف زرداری وطن واپس آئے ،انھوں نے اپنی اہلیہ بے نظیر بھٹو کی 9ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش میں اپنے ہونہار بیٹے کے ساتھ ایک بڑا جلسہ بھی کیا لیکن کسی کو ان کے لہجے میں اس گھن گرج کاشائبہ تک نظر نہیں آیا ،ان کی آمد سے قبل عوام کو جس کی توقع دلائی جارہی تھی۔اس طرح آصف زرداری کی آمد سے پاکستان کی سیاست میں جس ہلچل کی امید کی جارہی تھی وہ آصف زرداری کی جانب سے ضمنی الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جانے کی خواہش کے اظہار کے ساتھ ہی دم توڑ گئی،کیونکہ ان کے اسمبلی میں جاکر پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کے اعلان سے یہ ثابت ہوگیاکہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک چلاکر نواز شریف کے لیے مسائل کھڑے کرنے اور ان کوقبل از وقت الیکشن کرانے پر مجبور کرنے کاکوئی ارادہ نہیں رکھتی۔گڑھی خدا بخش کے بظاہر بڑے لیکن پھسپھسے جلسے کے بعد خود پیپلزپارٹی کے بعض رہنمائوں نے زرداری کے لب ولہجے کی نرمی پر تعجب کااظہار کیاجب کہ آصف زرداری کے قریبی حلقوں کاکہناہے کہ یہ بھی آصف زرداری کی ایک چال تھی۔ان کاکہناتھا کہ حکومت اور مقتدر طبقوں کے نمائندگان کے ساتھ زرداری پس پردہ طویل مذاکرات کے بعد بعض یقین دہانیاں حاصل کرنے اور بعض یقین دہانیاں کرانے کے بعد پاکستان آئے ہیں تاکہ یہاں رہ کر بظاہر بکھرتی اور سکڑتی ہوئی پارٹی کو دوبارہ مجتمع اور فعال کرسکیں۔ زرداری کے قریبی حلقوں کا یہ بھی کہناہے کہ آصف زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما خود بھی فوری طورپر حکومت کی بساط لپیٹنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس طرح اگر فوری طورپر قبل از وقت انتخابات کااعلان کردیاگیا تو پیپلز پارٹی کو ایک دفعہ پھر پہلے سے بھی زیادہ شرمناک ناکامی کاسامنا کرنا پڑسکتاہے۔جس سے پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوجائے اور ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت کی حیثیت سے اس کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔
18 ماہ کی طویل غیر حاضری کے بعدوطن واپسی اور پارٹی کے اہم رہنمائوں کی جانب سے کیے گئے ان اعلانات کے باوجود کہ آصف زرداری وطن واپسی پر سیاست کی بساط پلٹ دیں گے ،ان کے دھیمے اور مفاہمانہ لب ولہجے سے ان قیاس آرائیوںاور زرداری کے قریبی حلقوں کی جانب سے کی جانے والی مذکورہ باتوں کوتقویت ملی ہے اوریہ صاف ظاہرہورہاہے کہ آصف زرداری باقاعدہ ایک معاہدے کے تحت واپس آئے ہیں اور ان کی وطن واپسی سے قبل ہی ان کی حکومت کے ساتھ ڈیل ہوچکی ہے بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ وہ بظاہر حکومت پرتنقید کے باوجود درپردہ حکومت کی حمایت کریں گے اور اس طرح پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت اور شریف برادران کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے اور پاناما کے مسئلے کو بنیاد بناکرانھیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوششوں کوناکام بنانے کے لیے اپوزیشن کوتقسیم کرکے نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔
سیاسی حلقے بھی اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی فوری طورپر کم از کم سندھ سے باہر کہیں بھی انتخابی دنگل میں اترنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ زرداری نے فوری طورپر حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک چلانے کا اعلان کرنے کے بجائے اسمبلی میں جاکر پارلیمانی سیاست کرنے کا اعلان کیاہے ،زرداری کی اس حکمت عملی سے انھیں دو فائدے حاصل ہوں گے ،ایک طرف وہ رکن اسمبلی اور ان کابیٹا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے حکومت کو مناسب پروٹوکول اور سیکورٹی فراہم کرنے پر مجبور کرسکیں گے اور سرکاری خرچ پر اطمینان سے بیٹھ کر پارٹی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے اور دوسری طرف انھیں 2018 میں ہونے والے مجوزہ انتخابات کے لیے پارٹی کو منظم کرنے اوراپنے کارکنوں کو فعال کرنے کاموقع مل سکے گا ،اس طرح ڈیڑھ سال بعد جب وہ انتخابی دنگل میں اتریں گے تو ان کے پاس اس وقت سے زیادہ بھرپور طاقت موجود ہوگی اور وہ اسمبلیوں میںکم از کم ایک مضبوط حزب اختلاف کی حیثیت حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔
جہاں تک وزیر اعظم نواز شریف کا تعلق ہے تو اس امر سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ زرداری کی وطن آمد کے بعد متوقع سیاسی ہلچل نے ان کی پریشانیوں میں ضرور اضافہ کیاہے اور پاناما کامسئلہ دبانا یا اس پر کارروائی موخر کرانے میں ناکامی کے بعد اب انھیں اپنا تخت ہر لحظہ زیادہ سے زیادہ کمزور ہوتا نظر آرہاہے یہی وجہ ہے کہ انھوںنے اپنی سابقہ ’’میں نہ مانوں‘‘ اور جو میں کہوں وہی صحیح کی روش تبدیل کرنا شروع کردی ہے اور اپوزیشن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طریقوں سے رابطوں کاسلسلہ شروع کردیاہے جس کا اندازہ نواز شریف کی جانب سے سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتوں اور مفاہمت کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی خدمات حاصل کیے جانے اور انھیں علی الاعلان اپوزیشن سے مفاہمت کی کوششیں کرنے کی ہدایت سے کیاجاسکتاہے، اب یہ الگ بات ہے کہ انھوںنے جس شخصیت کو مفاہمت کرانے یعنی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ثالثی کی ذمہ داری سونپی ہے وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتاہے اور اپوزیشن کی جماعتیں اس کی باتوں پر کس حد تک اعتبار کرتی ہیں کیونکہ جو شخص خود اپنی پارٹی کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے اورملک کے مقتدر علمائے کرام کو پارٹی چھوڑ کر اپنا الگ دھڑا بنانے سے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکاہواور خود اپنے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ مفاہمت میں ناکام رہاہو وہ نواز شریف اور ایک مشتعل اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کرانے میںکیاکردار ادا کرسکے گا ،اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔تاہم اس پوری صورتحال سے یہ ثابت ہوتاہے کہ آئندہ چند دنوں میں فیصلہ ہوجائے گا کہ پاکستان پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف تحریک چلائے یا کچھ لو اور کچھ دو کی مفاہمت کی پالیسی پر کاربند رہے ،اگلے چند ماہ حکومت کے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہوں گے اور حکومت کے لیے اپوزیشن کی جانب سے تحریکوں اور عوامی احتجاجوں کی نئی لہر سے نمٹنا آسان کام نہیں ہوگا۔
ایسی صورت میں نواز شریف اور ان کے بعض بڑ بولے اوربھڑک مارنے کی بے مثال شہرت رکھنے والے ساتھیوں کو اپنی پرانی روش ترک کرکے زیادہ سنجیدہ رویہ اختیار کرنے اور معاملات کو طاقت کے زور پر طے کرنے یادبانے کے بجائے افہام و تفہیم کا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر حکومت اور خود نواز شریف کو اس کے منفی نتائج سے خود کو محفوظ رکھنا شایدممکن نہ ہوسکے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...