وجود

... loading ...

وجود

نیوکلیئر سپلائر گروپامریکا کی بھارت نوازی ،پاکستان کاراستا مسدود کرنے کی کوشش

جمعه 30 دسمبر 2016 نیوکلیئر سپلائر گروپامریکا کی بھارت نوازی ،پاکستان کاراستا مسدود کرنے کی کوشش

 

امریکا نے بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کارکن بنوانے کے لیے چوردروازہ پیدا کرلیاہے اورامریکی حکام کے اشارے پر این ایس جی کے سابق چیئرمین جو تنظیم کے موجودہ چیئر مین کی جگہ قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے،انہوں نے ایک نیا مسودہ تیار کیا ہے جس کا مقصد بھارت کو اس تنظیم کا رکن بنانے کی راہ ہموار کرنا اوراس میں پاکستان کی شمولیت کی راہ کو مزید کٹھن بناکر پاکستان کی رکنیت کو ناممکن بنانا ہے، امریکی تنظیم آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن (اے سی اے) نے بھی اس مسودے کی مخالفت کرتے ہوئے اس خدشے کی تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں نئے ارکان کی شمولیت کے لیے تیار کردہ ڈرافٹ بھارت کی شمولیت کی راہ ہموار کرتا ہے مگر اس سے پاکستان کی شرکت کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن (اے سی اے) واشنگٹن کی جانب سے اس حوالے سے بھی خبردار کیا گیا کہ رکنیت کے قوانین آسان کرنے سے عدم پھیلائو کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ این ایس جی کے سابق چیئرمین رافیل ماریانو گروسی نے دو صفحوں پر مشتمل دستاویز تیار کی ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ غیر این پی ٹی ممالک جیسے کہ بھارت اور پاکستان کس طرح گروپ کی رکنیت حاصل کرسکتے ہیں۔
رافیل ماریانونے یہ مسودہ یاڈرافٹ ایک ایسے وقت تیار کیاہے جب وہ این ایس جی کے موجودہ چیئرمین سونگ یونگ وان کی جگہ قائم مقام چیئرمین مقرر تھے جبکہ اصولی اور اخلاقی اعتبار سے عارضی طورپر کسی ادارے کی سربراہی سنبھالنے والا فرد صرف ضروری روزمرہ کے معاملات ہی نمٹانے پر اکتفا کرتاہے اور کوئی ایساکام نہیں کرتا جو کسی بھی طرح متنازع ہو یاجس سے متعلقہ تنظیم یاادارے پر کسی بھی طرح جانبداری کاالزام لگ سکتاہو لیکن رافیل ماریانو نے تمام اخلاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض امریکا کی مبینہ خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی متنازع دستاویز تیار کردی جبکہ اب ان کی تیار کردہ دستاویزات نیم سرکاری اہمیت کی حامل بن گئی ہیں۔تاہم ایک جگہ رافیل ماریانو کی ڈرافٹ کردہ دستاویز میں بھارت کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ رکن بننے کی صورت میں غیر این پی ٹی رکن ملک کو دوسرے غیر رکن ملک کی شمولیت کے امکانات کو روکنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اے سی اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیرل کمبال کاکہناہے کہ پاکستان کے پاس اب بھی رافیل ماریانو کے فارمولے پر اعتراض کی گنجائش موجود ہے۔ڈیرل کمبال کے مطابق اس دستاویز کے تحت پاکستان کو رکنیت کے حصول کے لیے ان تمام شرائط کو پورا کرنا ہوگا جو بھارت کو کرنی ہیں لیکن این ایس جی ممالک کے ساتھ سول نیوکلیئر تجارت کا حصہ بننے کے لیے پاکستان کو استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے علیحدہ سے بھی شرائط پورے کرنے ہونگے۔ واضح رہے کہ 48 ملکوں پر مشتمل این ایس جی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کی تنظیم ہے جسے 1975 میں قائم کیا گیا تھا، انہیں برسوں کے دوران بھارت نے پہلی بار اپنے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کیا تھا، اس تجربے میں کینیڈا اور امریکا کی جانب سے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ پلوٹونیئم کا استعمال کیا گیا تھا۔
این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے کے موجودہ قوانین کے مطابق اس ملک کو جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد ہی وہ اس خصوصی کلب کا حصہ بن سکتے ہیں اوربھارت ان ممالک میں شامل ہے جس نے تاحال اس پر دستخط نہیں کیے۔اگرچہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی)میں غیر این پی ٹی (معاہدہ جوہری عدم پھیلائو) ممالک کی رکنیت کے لیے باضابطہ اصول مقرر کیے جانے کے لیے رکن ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت پاکستان کے لیے حوصلہ افزا بات ہے لیکن امریکا اور بعض دوسرے مغربی ممالک کی جانب سے بھارت کو اس تنظیم کارکن بنانے کی پے درپے کوششیں پاکستان کے لیے باعث تشویش بھی ہیںکیونکہ عالمی قوتوں کی جانب سے چھوٹے ممالک پر بڑھتا ہوا دبائو بھارت کی خلافِ ضابطہ شمولیت کا راستہ صاف کردے گا۔
جنوبی ایشیا میں ڈیفنس، ڈیٹرنس اور اسٹیبلٹی پر منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران دفتر خارجہ میں تخفیفِ اسلحہ کے ڈائریکٹر جنرل کامران اختر کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک ایسے ہیں جو مستثنیٰ قرار دیے جانے کے بجائے مروجہ اصول کے مطابق چلنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، تاہم اب بھی چھوٹے ممالک پر دبائو ڈالے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔اس ورکشاپ کا انعقاد اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک سینٹر آف انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (سی آئی ایس ایس) اور لندن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی جانب سے کیا گیا تھا۔
این ایس جی ارکان گزشتہ مہینے ویانا اجلاس میں غیر این پی ٹی ممالک کی رکنیت سے متعلق اتفاقِ رائے قائم کرنے میں کامیاب نہیںہوسکے تھے۔اجلاس میں چند ممالک کی جانب سے این پی ٹی کے اصولوں پر عمل کرنے اور ایک بلاک کی جانب سے بھارت کو فوری اس تنظیم کاحصہ بنانے کی خواہش کی وجہ سے این ایس جی کے ارکان دو دھڑوں میں تقسیم رہے۔این ایس جی میں غیر این پی ٹی ممالک کی رکنیت کے لیے معیار کی تشکیل اور چین کے تجویز کردہ دو مراحل پر مبنی حکمت عملی پر حمایت بڑھتی جارہی ہے۔نئے ارکان کی شمولیت کے حوالے سے چین کی تجویز ہے کہ پہلے معیار کا تعین کیا جائے اور پھر رکنیت کے لیے درخواستیں طلب کی جائیں۔کامران اختر کے مطابق انہیں امید ہے کہ این ایس جی ممالک رکنیت کے لیے استثنیٰ قرار دیے جانے والے آپشن کا انتخاب نہیں کریں گے لیکن اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کو دھکیلے جانے کے مترادف ہوگا بلکہ جوہری اسلحہ نہ رکھنے والے دیگر ممالک بھی اس پر ایسا محسوس کرسکتے ہیں کہ انہیں جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے غیر منصفانہ طور پر روکا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اب این ایس جی ممالک پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ کیاوہ چاہتے ہیں کہ گروپ سیاسی اور کمرشل مفاد کے مطابق چلے یا وہ جوہری عدم پھیلائو کے مقصد کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کی درخواست کو بھارت کے برابر نہیں لیا گیا تو اس سے جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک استحکام کمزور ہوگا۔آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنیٹ افیئرز (اے سی ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل خالد بنوری کے مطابق پاکستان امن کے لیے جگہ پیدا کرنا چاہتا ہے، پاکستان کے ہتھیار خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔دفترِ خارجہ کی ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ این ایس جی میں غیر این پی ٹی ممالک کی رکنیت کا معاملہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام سے جڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر این پی ٹی ممالک کی رکنیت کے حوالے سے آج این ایس جی ایک بار پھر دوراہے پر کھڑا ہے، اس مقام پر این ایس جی کا منصفانہ اور غیر امتیازی فیصلہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام اور عالمی جوہری عدم پھیلائو کی کوششوں کے لیے اہم ثابت ہوگا۔انہوں نے اس بات کو بھی دہرایا کہ این ایس جی نے 2008 میں بھی بھارت کو استثنیٰ کی بنیاد پر این ایس جی میں شمولیت کے لیے موزوں امیدوار قرار دے کر عدم پھیلائو کے اصول پر کاربند رہنے کے موقع کو کھودیا تھا۔ ان کے مطابق دنیا کی غیرحساسیت نے ہی بھارت کو پاکستان کے خلاف اس قسم کی پالیسی روارکھنے کا موقع فراہم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ معاملات میں پاکستان اور بھارت پیچھے ہٹتے جارہے ہیں جو کوئی اچھا اشارہ نہیں۔ ورکشاپ میں ’بھارت کے ساتھ کشیدگی‘ کے نام سے ہونے والے سیشن میں اسپیکرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں جاری اس کشیدگی پر سرحد کی دونوں جانب موجود سیاسی لیڈرشپ کو حالات کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔سرکاری سطح پر روابط قائم نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیوں میں اضافے کا امکان بڑھتا رہا اور صورتحال کشیدہ ہوئی۔آئی آئی ایس ایس میں جنوبی ایشیا کے سینئر رکن راہول رائے چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات 2008 میں ہونے والے ممبئی حملے کے بعد سے متاثر ہیں۔انہوں نے جوہری اسلحے کے استعمال کے اشاروں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کشیدگی میں خاتمے کی امید اس وقت تک بہت کم ہے جب تک دہلی اور اسلام آباد دونوں سمجھوتہ نہیں کرلیتے۔راہوئے رائے چوہدری نے دونوں ممالک کے اعتماد میں اضافے کے لیے 8 نکاتی پروپوزل تیار کیا جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات کی واپسی پر آ سکتے ہیں۔ان کی تجاویز میں بیان بازی میں کمی ، جنگ بندی کا اطلاق، میڈیا کی جانب سے ذمہ دارانہ رویئے کا مظاہرہ، ممبئی اور پٹھان کوٹ میں مشتبہ افراد کے ٹرائل کی جلد تکمیل، کشمیر میں بھارت کی جانب سے سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کا خاتمہ، پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے دائرہ کار میں اضافہ، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دہلی کی پرامن قرارداد کی یقین دہانی اور خفیہ ایجنسیوں میں رابطے جیسے بیک چینل ڈائیلاگ کا آغاز شامل ہیں۔سابق سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’براہ راست مذاکرات‘ کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیک چینل رابطے سے مزید غلط فہمیاں پھیل سکتی ہیں اور دونوں ملکوں کے سربراہان کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔آئی آئی ایس ایس کے سینئر رکن برگ بین بیری نے اس کشیدگی میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کے اثرورسوخ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یا بھارت میں غیر ریاستی اداکاروں کی جانب سے ہونے والے حملے دونوں جانب کی فوجی کارروائیوں کو تیز کردیں گے۔تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے تعلقات میں بہتری کے لیے رویوں میں لچک کی اہمیت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال کو سیاسی طور پر حل کیے جانے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن بھارتی قیادت کا مذاکرات کے لیے راضی نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میںبھارت کی جانب سے گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد پاکستان نے بھی رکنیت کے لیے باقاعدہ درخواست دی، امریکا سمیت کئی طاقتور مغربی ممالک کی جانب سے بھارت کے گروپ کا حصہ بننے کی حمایت کی گئی تاہم چین اور دیگر 6 ممالک نے بھارت کی رکنیت پر اعتراض کیا۔بھارت رواں سال جون میں سیول میں ہونے والے این ایس جی کے آخری مکمل سیشن کے دوران گروپ کا حصہ بننے کے لیے پرامید تھا مگر اس اجلاس کا اختتام بھی نئی دہلی کی درخواست پر کسی فیصلے کے بغیر ہوگیا۔کئی ممالک کی جانب سے بھارت کے جوہری توانائی عدم پھیلائو کے معاہدے پر دستخط کے بغیر گروپ میں شمولیت پر اعتراض کیا گیا جبکہ چین کی جانب سے نئی دہلی کی رکنیت کو روکنے کی بھرپور کوشش سامنے آئی۔سیول میں ہونے والے اجلاس کے بعد گروپ کے نئے چیئرمین کی جانب سے نئے ممبران کی شرکت کے لیے دستاویز تیار کی گئی، اس دستاویز میں انہوں نے پاکستان ہندوستان کی کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی وجوہات رکنیت کو روکنے کی اصل وجہ ہیں۔دوسری جانب ڈیرل کمبال اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چیئرمین کا پیش کردہ فارمولا بھارت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ رکنیت کے ضروری اقدامات کے مکمل ہونے کا دعویٰ کرے، جس سے بھارت کی رکنیت تک رسائی آسان ہوجائے گی جبکہ پاکستان اس حوالے سے ایک الگ مقام پر رہ جائے گا۔اس دستاویز کے تحت غیر این پی ٹی ملک کو اس بات کا اعلان کرنا ہوگا کہ اس نے موجودہ اور مستقبل میں ہونے والی سویلین نیوکلیئر سہولت کو غیر شہری نیوکلیئر سہولت سے واضح طور پر علیحدہ کردیا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اس پر کاربند رہے گا۔اس کے علاوہ نئے رکن کو این ایس جی کو اس بات کا یقین بھی دلانا ہوگا کہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی کی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی تمام موجودہ اور مستقبل میں آنے والی شہری جوہری سہولیات کو سمجھتا ہے۔درخواست گزار کو این ایس جی کو اس بات کا بھی یقین دلانا ہوگا کہ وہ آئی اے ای اے کے معاہدے کو لاگو کرچکا ہے، جو تمام شہری سہولتوں کا احاطہ کرتا ہے اور آئندہ آنے والی شہری سہولت جو آئی اے ای اے کی جانب سے واضح کی جائیں گی، ان کی بھی حفاظت کرے گا۔

 

 


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر