وجود

... loading ...

وجود

روس اور ترکی، شام میں مکمل جنگ بندی پر متفق

جمعرات 29 دسمبر 2016 روس اور ترکی، شام میں مکمل جنگ بندی پر متفق

ترکی اور روس نے شام میں مکمل جنگ بندی کے منصوبے پر اتفاق کرلیا جس کے تحت ملک بھر میں بدھ کی شب 12 بجے سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولو نے بتایا کہ سیز فائر کے اس نئے منصوبے کا مقصد رواں ماہ شام کے شہر حلب میں ترکی اور روس کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو ملک بھر میں پھیلانا ہے۔
اناطولو کے مطابق ماضی میں امریکا اور روس کے تعاون سے ہونے والی جنگ بندیوں کی طرح اس بار بھی دہشت گرد گروپس اس منصوبے میں شامل نہیں ہیں۔سیز فائر کا یہ منصوبہ حلب میں شامی فوج کے کنٹرول کے چھ روز بعد سامنے آیا ہے اور اب تک روس اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت حلب سے ہزاروں عام شہریوں اور مزاحمت کاروں کو نکالا جاچکا ہے۔
اناطولو کے مطابق اگر سیز فائر کا یہ نیا منصوبہ کامیاب رہا تو اس سے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روس اور ترکی کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ٹھوس بنیاد میسر آئے گی۔یہ بات واضح نہیں کہ کیسے اور کہاں اس منصوبے پر اتفاق ہوا تاہم گزشتہ ہفتوں کے دوران انقرہ میں ترکی، روس اور شامی اپوزیشن کے نمائندگان کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شام کی خانہ جنگی میں ترکی اور روس ایک دوسرے کے مخالف ہیں، ترکی شام کے صدر بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ روس اور ایران بشار الاسد کے حمایتی ہیں۔تاہم گزشتہ چند ماہ سے روس اور ترکی نے شام کے معاملے پر تعاون کو بڑھایا ہے اور رواں سال دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں آنے والی بہتری کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا۔گزشتہ ہفتے روس کے حمایت یافتہ بشار الاسد کی افواج نے حلب کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جو 5 سالہ خانہ جنگی میں شامی فوج کی سب سے بڑی کامیابی تھی تاہم ترکی اس معاملے پر مکمل طور پر خاموش رہا تھا۔یاد رہے کہ رواں برس ستمبر میں بھی امریکا اور روس نے شام میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم ایک ہفتے بعد ہی شامی فوج نے عسکریت پسندوں پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے روس اور امریکا کے تحت ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد ملک کے دوسرے بڑے اور اہم شہر حلب میں شدید بمباری کی گئی تھی۔
شام میں تقریباً 6 سال سے جاری خانہ جنگی میں 4 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اس دوران شام میں جنگ بندی کے کئی معاہدے ہوئے لیکن کوئی بھی دیر پا ثابت نہ ہوسکا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا شام میں معتدل باغیوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ بشارالاسد کی حکومت، داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کرتا ہے۔امریکا کی سربراہی میں ایک عالمی اتحاد قائم ہے جو عراق اور شام میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروپس کو نشانہ بناتا ہے۔
روس شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کرتا ہے جبکہ داعش کی مخالفت کرتا ہے البتہ روس کے زیادہ تر فضائی حملے ان باغیوں کے ٹھکانوں پر ہوئے جو بشار الاسد کی اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں۔روس شام میں موجود القاعدہ سے وابستہ تنظیم اور معتدل باغیوں کی بھی مخالفت کرتا ہے جنہیں امریکا کی خفیہ مسلح امداد حاصل ہے۔
ترکی شام میں امریکا کی سربراہی میں بننے والے عالمی اتحاد اور شامی باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔اس کے علاوہ ترکی شامی صدر بشارالاسد کی حکومت، ترکی میں سرگرم باغی گروپ پی کے کے سے وابستہ کرد گروپس اور داعش کے خلاف ہے۔شام کے معاملے میں ایران بشارلاسد اور ان کی حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ وہ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس بھی شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف ہیں، یعنی اس سارے معاملے میں روس اور ایران شامی صدر کے سب سے بڑے اتحادی ہیں۔
ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مکمل فائر بندی اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی اقتدار کی منتقلی کا خواہش مند ہے تاہم بشار الاسد کی موجودگی میں یہ منتقلی ممکن نہیں اور شامی اپوزیشن بھی اس کو قبول نہیں کرے گی۔انقرہ نے شام میں فائربندی اور سیاسی حل کے لیے ماسکو کے ساتھ دو معاہدوں تک پہنچ جانے کی تصدیق کی ہے۔ادھر روسی ایوانِ صدر کرملن نے کہا ہے کہ شام میں فائر بندی کے حوالے سے روس اور ترکی کی تجویز کے سلسلے میں اس کے پاس مطلوبہ معلومات نہیں ہیں لہذا وہ اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔دوسری جانب شامی اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ شام کے تنازع میں با اثر طاقتوں کی سرپرستی میں جو اگر سنجیدہ نوعیت کے مذاکرات ہوں تو وہ ان میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ترک میڈیا نے بتایا ہے کہ شام میں فائربندی کی شرائط پر روس اور ترکی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔روس ، ایران اور ترکی نے گزشتہ ہفتے ماسکو میں بات چیت کے بعد امن معاہدے کے سلسلے میں ثالثی کے طور پر اپنی خدمات پیش کرنے کا اظہار کیا تھا۔ تینوں ملکوں نے چند بنیادی اصول متعین کیے تھے جن کو طے پائے جانے والے کسی بھی معاہدے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔انقرہ اور ماسکو شامی تنازع میں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں کھڑے ہیں۔شام کے حوالے سے ترکی اور روس کئی ماہ سے تعاون میں مصروف ہیں بالخصوص ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے بعد.. گزشتہ برس ترکی کی جانب سے روسی جنگی طیارہ گرائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سنگین بحران کا شکار ہو گئے تھے۔تاہم تعلقات بحال ہونے کے بعد روسی سفیر کے ترکی میں قتل سے بھی ان تعلقات میں کمی نہیں آئی بلکہ دونوں ممالک کاموقف یہ ہے کہ سفیر کے قتل کی سازش امریکا میں تیار ہوئی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر