وجود

... loading ...

وجود

جا بجاپولیس ناکے: جرائم پیشہ عناصرنشانا یا معزز شہری!!

پیر 26 دسمبر 2016 جا بجاپولیس ناکے: جرائم پیشہ عناصرنشانا یا معزز شہری!!

مہذب معاشروں میں پولیس کو کرمنل جسٹس سسٹم کاچوکیدار تصور کیاجاتاہے اورپولیس کی بنائی ہوئی تحقیقاتی رپورٹوں کی بنیاد پر اہم ملزمان جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام ہی ممالک کی پولیس کوکچھ صوابدیدی اختیارات بھی دئے جاتے ہیں جن میں سے ایک اختیار اس بات کابھی ہے کہ کوئی بھی پولیس افسر یااہلکار کسی بھی شخص کو روک کر پوچھ گچھ کرسکتاہے اور اگر ضروری ہوتو اس کی تلاشی بھی لے سکتاہے ،لیکن کسی بھی شخص کو روک کر پوچھ گچھ کرنے اور تلاشی لینے کا یہ اختیار اس بات سے مشروط ہے کہ متعلقہ شخص کی نقل وحرکت مشکوک ہو اور پولیس اہلکار کو یقین کی حد تک اس بات کا شبہ ہو کہ وہ جس شخص کو تلاشی اور پوچھ گچھ کے لیے روک رہاہے وہ جرائم پیشہ فرد یا ان کاآلہ کار ہوسکتاہے۔دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی پولیس کو یہ صوابدیدی اختیار حاصل ہے لیکن ہمارے ملک کے گلی کوچوں ، بازاروں اور چوراہوں میں پولیس اہلکار اپنے ان اختیارات کا جس بہیمانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور ان اختیارات کو غریب شہریوں کی جیبیں خالی کرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اس نے پورے پولیس کے نظام ہی کو مشکوک اور پوری پولیس فورس کو بدنام کرکے رکھ دیاہے۔
دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں پولیس اہلکار عام طورپر تنہا ہی ڈیوٹی دیتے ہیں اور اس ڈیوٹی کے دوران میں بعض اوقات ایسے حالات پیداہوجاتے ہیں کہ پولیس اہلکار کو اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے ،اس لیے پولیس اہلکار ایسی صورتحال پیش آنے کی صورت میں اپنے یہ اختیارات استعمال کرتاہے،اب ایسی صورت حال میں پولیس افسر کی اپنی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ کسی کی صرف تلاشی لے، یا اپنا اسلحہ اٹھا کر اسے تلاشی دینے پر مجبور کرے یا اسے گرفتار کرے یا اسے فرار سے روکنے کے لیے گولی چلائے یا کسی اور کو اپنی مدد کے لیے طلب کرے یا اگر معاملہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا ہے تو اسے جرمانے کاچالان جاری کردے ۔دنیا کے بیشتر ممالک میں اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے پولیس یہی اختیارات استعمال کرتی ہے اور عام طورپر کامیاب رہتی ہے ۔
پولیس اہلکاروں اورافسران کو یہ صوابدیدی اختیارات دینے کے بہت سے فوائد بھی ہیں، اول یہ کہ ان اختیارات کے ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں اورافسران میں خوداعتمادی پیداہوتی ہے اور وہ موقع کی مناسبت سے کارروائی کرتے ہیں، اس کے لیے انھیں اپنے اعلیٰ افسران یا عدلیہ سے فوری کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ اس طرح کے اختیارات نہ ہونے کی صورت میں پولیس اپنے افسران اور عدلیہ کے چکر میں ہی پھنس کر رہ جائے جس سے نہ صرف یہ کہ پولیس فورس پر دبائو اور اخراجات بڑھیں گے بلکہ عدلیہ پر بھی کام کا دبائو بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
کسی کو روک کر پوچھ گچھ کرنے کے لیے جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا یہ ضروری ہے کہ پولیس اہلکار یا افسرکو متعلقہ شخص کی نقل وحرکت ،چال ڈھال یا کسی اور وجہ سے اس کے جرائم پیشہ ہونے کا قوی شبہہ ہو جبکہ اس اختیار کو بلاسوچے سمجھے محض اپنے اختیارات اور قو ت کے اظہار یا شریف اور معصوم شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرنے کے انتہائی منفی اور بعض اوقات تباہ کن نتائج برآمد ہوتے ہیں، اور چند پولیس اہلکاروں یا افسران کی جانب سے ان اختیارات کے استعمال میں لاپرواہی کی سزا پوری پولیس فورس کو شدید بدنامی اور عوام کی نظروں میں وقعت کھودینے کی صورت میں بھگتناپڑتی ہے۔ اس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ کسی جائز اور قانونی کام میں بھی عام آدمی پولیس کی مدد کو سامنے نہیں آتا، ملزموں کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس کو عام شہریوں کی مدد اور اعانت حاصل نہیں ہوتی اور گرفتار کئے جانے والے شخص کو معاشرے میں بدنامی کا خوف نہیں رہتا کیونکہ وہ پولیس کی حراست سے واپس آنے کے بعد تمام الزام پولیس اہلکاروں پر لگا کر اور پولیس کو رشوت دے کر رہائی حاصل کرنے کی کہانیاں سنا کر الٹا لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
پاکستان کے ہر شہر میں گلی کوچوں، بازاروں اورشاپنگ مالز کے قریب ہمیں پولیس اہلکار ناکے لگائے نظر آتے ہیں بظاہر ان ناکوں کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کو روکنا اور عام شہریوں کو جان ومال کے تحفظ کے احساس کے ساتھ معمولات زندگی جاری رکھنے کی سہولت فراہم کرنا ہے لیکن پولیس ان ناکوں کے ذریعے کیاکارنامے انجام دے رہی ہے اور تلاشی اورپوچھ گچھ کی آڑ میں معصوم شہریوں کی جیبیں کس طرح خالی کرائی جارہی ہیں، اس کی تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس ملک کا ہر شہری یہاں تک کہ بچہ بچہ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔اس سے نہ صرف یہ کہ عام آدمی کے حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ عام آدمی کیاجرائم پیشہ عناصرکے دلوں سے بھی پولیس کاخوف ختم ہوکر رہ گیاہے اور یہ عام تاثر تقویت پکڑ گیاہے کہ ہر ایک اپنے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے رقم پولیس کو ادا کرکے دوبارہ ایسے ہی جرم کرنے کے لیے آزاد ہوسکتاہے۔
اس صورتحال کے بظاہر دو بڑے اسباب ہیں۔ اول یہ کہ ہمارے شہروںمیںپولیس لوگوں کو روک کر ان سے پوچھ گچھ اور تلاشی کاکام کسی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر بہت کم ہی کرتی ہے بلکہ عام تاثر یہ ہے کہ تھانے میں موجود اہلکار اپنی جیبیں بھرنے کے لیے اپنے تھانے کی حدود میں مختلف مقامات کا خود ہی انتخاب کرکے ناکے لگالیتے ہیں اور ہدف کے مطابق رقم جمع کرنے کے بعد واپس تھانوں یا گھروں کو چلے جاتے ہیں، دوسرے یہ کہ سڑکوں، بازاروں اور شاپنگ مالز پر لوگوں کی حفاظت کے نام پر لگائے جانے والے ان ناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں کے احتساب اور ان سے پوچھ گچھ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ انھوں نے ڈیوٹی کے دوران کتنے لوگوں کو روکا اور ان میں سے کتنے جرائم پیشہ ان کے ہاتھ آئے،یہاںتک کہ کوئی ان سے یہ بھی پوچھنے والا نہیں کہ ڈیوٹی پر خالی ہاتھ آنے کے باوجود وہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں روپے لے کر گھر کیسے جارہے ہیں یعنی یہ رقم ان کے پاس کہاں سے آئی؟ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارے شہروں ،بازاروں اور شاپنگ مالز میں پولیس جو ناکے لگاتی ہے تو ان کے ساتھ کہیں بھی کوئی لیڈی سرچر نہیں ہوتی جو خواتین کی باعزت طریقے سے تلاشی لے سکے ،اس لیے بعض شاطرجرائم پیشہ عناصر عام طورپر کسی بھی خاتون کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اپنا اسلحہ وغیرہ اس کے پاس رکھوادیتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہوتاہے کہ پولیس کے ناکوں پران کی تلاشی کاکوئی انتظام نہیں ہوتا۔
جہاں تک لوگوں کو روک کر پوچھ گچھ کرنے اور تلاشی لینے کا تعلق ہے تو یہ بات پوری دنیا میں ثابت ہوچکی ہے کہ اس طریقے سے جرائم پر قابو پانے میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی، برطانیا جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں پولیس نہ صرف تربیت یافتہ ہے بلکہ اس میں وہ خرابیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جو ہماری پولیس میں عام ہوچکی ہیں،وہاں بھی ناکے پر روک کر لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے اور تلاشی لینے کا طریقہ قطعی ناکام ثابت ہواہے جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2006کے بعد سے پورے برطانیا میں سالانہ کم وبیش 10 لاکھ افراد کو روک کر پوچھ گچھ کرنے اور تلاشی لیے جانے کاریکارڈ موجود ہے لیکن اس کے نتیجے میں 2011-12 کے ریکارڈ کے مطابق صرف 9 فیصد مشکوک افراد گرفتار کئے جاسکے،جبکہ پاکستان میں کسی کو روک کر پوچھ گچھ کرنے یاتلاشی لینے کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار ہی دستیاب نہیں جس سے یہ پتہ چل سکے کہ پولیس کے یہ ناکے جو بعض اوقات عام شہریوں کے لیے وبال جان ثابت ہوتے ہیں جرائم کی بیخ کنی میں کس حد تک موثر ثابت ہورہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ اگر پولیس کو ناکے سے واپس آکر اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کا پابند بنادیاجائے تو یہ اندازہ ہوسکتاہے کہ اپنی ڈیوٹی کا ایک بڑا وقت ان ناکوں پر موجود رہنے کے باوجود ان کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کتنی کامیابی حاصل ہوئی اور اگر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے تو اس کے اسباب پر غور کے ساتھ ہی ان ناکوں کی نوعیت تبدیل کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کی جاسکتی ہے۔
پولیس کے اس طرح کے ناکوں اور پوچھ گچھ کے طریقہ کار سے چھوٹے موٹے جرائم سے نمٹنے میں تو کسی حد تک مدد مل سکتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب پولیس اہلکار ان ناکوں کو اپنی ذاتی آمدنی کا ذریعہ بنانے کے بجائے حقیقی معنوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دیں لیکن ان سے بڑے پیمانے پر قتل وغارتگری اور ہولناک جرائم پر کنٹرول میں کوئی مدد ملنے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ آج تک ایسا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا ہے۔ مختلف شہروں میں اسلحہ سے بھری گاڑیوںیا جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی فراہم کردہ اطلاعات پر ہی ممکن ہوسکی ہے، اس طرح کی اچانک ناکا بندی کے ذریعے کسی بڑے جرائم پیشہ فرد کی گرفتاری کاکوئی ریکارڈ نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ میں نے اوپر لکھاہے کہ اس سے لوگوں میں پولیس کے حوالے سے منفی تاثرات پیداہوتے ہیں اور اس طرح کے ناکے عام لوگوں میں پولیس کی ساکھ خراب کرنے کا باعث ثابت ہورہے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس عوام میںاپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے اشتہارات کاسہارا لینے کے بجائے اپنے قول وعمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ وہ واقعی عوام کی دوست اور جرائم پیشہ عناصر کی دشمن ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہلا حیات


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر