وجود

... loading ...

وجود

ترکی اور برلن میں دہشت گردی عالمی سیاست میں ہلچل،یورپ پر خوف طاری

جمعه 23 دسمبر 2016 ترکی اور برلن میں دہشت گردی   عالمی سیاست میں ہلچل،یورپ پر خوف طاری

گزشتہ دنوں دہشت گردی کے 2 بڑے واقعات نے نہ صرف یورپی ممالک کو دہشت زدہ کردیا بلکہ دنیا کی سیاست میں بھی ہلچل مچادی ہے ۔پہلا واقعہ پیر 19 دسمبر کو ترکی کے شہر انقرہ میں تصاویر کی ایک نمائش کے دوران پیش آیا جب ترک پولیس کے ایک اہلکار نے ترکی میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کو اس وقت اچانک گولیوں کا نشانہ بنادیاجب وہ نمائش دیکھ کر واپس جانے کے لیے مڑے ،روسی سفیر دہشت گردی کے اس حملے میں جاں بحق ہوگئے ۔یہ واقعہ عین اس وقت پیش آیا جب شام کے مسئلے پر روس، ترکی اور ایرانی وزرا ئے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہونے والاتھا جس میں شام میں خونریزی کاسلسلہ بند کرانے کے طریقہ کار پر غور کے بعد کوئی مشترکہ حکمت عملی وضع کی جانی تھی۔
ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھائے جانے والے فوٹیج سے ظاہرہوتاہے کہ گہرے رنگ کے سوٹ میں ملبوس ایک نوجوان نے اچانک اپنا پستول نکالا اور اللہ اکبر حلب کانعرہ لگاتے ہوئے گولیا ں چلادیں گولیاں روسی سفیر کی پشت پر لگیں اور وہ وہیں زمین پر گرپڑے ،اس واقعے سے قبل شام میں روس کے کردار کے حوالے سے ترکی میں مظاہرے ہوتے رہے تھے ۔ترکی میں مظاہرین روس کو حلب میں جاری خونریزی کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے جبکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ترکی اور روس دونوں ہی شام کے شہر حلب سے شہریوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے اس واقعے سے قبل روس ،ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کواسی حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ملاقات کرناتھی۔ اس واقعے کے بعد عام طورپر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ روس اپنے سفیر کی ہلاکت پر ترکی سے شدید احتجاج کرے گا اور روس اور ترکی کے تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدگی کاشکار ہوجائیں گے اورشام میں ترکی کی جانب سے ایک روسی طیارہ مارگرائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات جس بدترین سطح پر آگئے تھے ،دوبارہ دونوں ملکوں کے تعلقات اسی سطح پر واپس چلے جائیں گے۔ لیکن روسی رہنمائوں نے کمال تدبر اورتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی کاواقعہ قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کے حوالے سے ترکی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اپنی تحقیقاتی ٹیم ترکی بھیجنے کااعلان کردیا۔
مقتول روسی سفیر کی لاش کو پورے اعزاز کے ساتھ روسی پرچم میں لپٹے تابوت میں انقرہ کے ہوائی اڈے سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ ان کے آبائی وطن بھجوا دیا گیا ہے۔ترکی نے اس واقعے کے بعد امریکی وزیر خارجہ سے فون پر بات کرتے ہوئے انھیں اپنے اس خیال سے مطلع کیا ہے کہ انقرہ میں دو روز قبل روسی سفیر کی ہلاکت کے مبینہ طور پر ذمہ دار امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے پیروکار ہیں۔ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “انادولو” کے مطابق ترک وزیرخارجہ میولت شیوسوگلو نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ٹیلی فون پر بات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ “ترکی اور روس کو یہ معلوم ہے کہ ’’گولن کی تنظیم‘‘ اس حملے کے پیچھے ہے” جس میں سفیر آندرے کارلوف ہلاک ہو گئے تھے۔
ہیزمت یا فیتو تحریک کے سربراہ فتح اللہ گولن امریکی ریاست پنسلوینیا میں خودساختہ جلاوطنی گزار رہے ہیں اور ترکی ان کی حوالگی کا مطالبہ رواں سال جولائی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد سے کرتا آرہا ہے۔صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کا الزام ترکی گولن اور ان کے تنظیموں سے وابستہ افراد پر عائد کرتا ہے لیکن یہ ترک مبلغ ان دعووں کو مسترد کر چکے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا منتظر ہے۔ ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ تفتیش کاروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے اور حقائق اور ثبوت سامنے آئیں قبل اس کے کہ کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔”اطلاعات کے مطابق جان کیری نے بھی ترکی سے اس واقعے کی تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کی ہے، تاہم انقرہ کا کہنا ہے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ مل کر اس کی تحقیق کرے گا اور ماسکو نے تفتیش کاروں کی 20 رکنی ٹیم بھی ترکی بھیج دی ہے۔
دہشت گردی کا دوسرا واقعہ اس کے دوسرے ہی دن برلن میں پیش آیاجہاں ایک جنونی دہشت گرد نے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ وہ تیونس کاباشندہ تھا، ایک ٹرک کرسمس کی خریداری کے لیے بازار میں جمع مجمع پر چڑھادیا۔ جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 46 افراد زخمی ہوئے جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں مرنے والوں کے بارے میں معلوم ہواہے کہ ان کا تعلق پولینڈ سے تھا۔دہشت گردی کے اس واقعے نے پورے یورپ میں خوف کی ایک لہر پیدا کردی ہے اور یورپی باشندے جہاں خود کو انتہائی غیر محفوظ تصور کررہے ہیں وہیں مسلمانوں کے خلاف جذبات میں بھی اضافہ ہواہے جس سے یورپ کے انتہاپسند انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قوم پرست عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں میں بھی عدم تحفظ کے احساسات میں اضافہ ہواہے۔
دہشت گردی کے اس واقعے نے یورپی ممالک کو کس قدر حواس باختہ کیا ہے اس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بدھ کو برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بکنگھم پیلس پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے موقع پر باقاعدہ کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اوراس تقریب کودیکھنے کے لیے بڑی تعداد میںجمع ہونے والے لوگوں کو کافی فاصلے پر ہی روکے رکھاگیا۔برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک نے بھی اپنی سیکورٹی انتہائی سخت کردی ہے اور کرسمس بازاروں میںپولیس اورسیکورٹی فورس کی نفری میں اضافے کے ساتھ ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز کے گشت میں بھی اضافہ کردیاگیاہے تاکہ لوگوں میں تحفظ کااحساس پیدا ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ کرسمس کی خریداری کرسکیں۔
دہشت گردی کے ان واقعات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کردیاہے کہ امریکا اور مغربی ممالک نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جو حکمت عملی تیار کی ہے اور وہ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے جو طریقہ کار اختیار کررہے ہیں وہ مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کے لیے کارگر نہیں ہے ،بلکہ جیساکہ ہم پہلے بھی لکھتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے سدباب کے لیے اس کے بنیادی اسباب کاخاتمہ کرنا ضروری ہے،جہاں تک دہشت گردی کے بنیادی اسباب کاتعلق ہے تو امریکا اور دیگر تمام یورپی ممالک کو اب کھلے دل سے یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس کابنیادی سبب امریکا اوردیگر یورپی ممالک کا عمومی طورپر وہ مسلم دشمن رویہ ہے جس کی وجہ سے فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل گزشتہ 70سال سے حل طلب ہیں اور اقوام متحدہ کی واضح قراردادوں کے باوجود امریکا اور یورپی ممالک ان پر عمل کراکے مظلوم فلسطینی اورکشمیری عوام کو انصاف اور ان کا پیدائشی حق دلانے کے بجائے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے غاصب حکمرانوں مزید مضبوط بناکر ان کی خون آشامی کی قوت میں اضافہ کررہے ہیں اور اس طرح ان کو اپنے مظالم کاسلسلہ جاری رکھنے کی شہ دے رہے ہیں۔
امریکا ،یورپی ممالک اور ان ملکوں کے حاشیہ بردار کا کردا ادا کرنے والے مسلم ممالک کے رہنمائوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اب بھی انھوںنے اپنی روش تبدیل نہیں کی تو اس سے دہشت گردوں کی قوت میں اضافہ ہوتاجائے گا اور ناانصافیوں کے شکار نوجوان دہشت گردوں کے پراپگنڈے کاشکار ہوکر پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتے رہے ہیں اور دہشت گردی کا یہ مہیب آسیب انھیں بھی ان کے محلوںمیں سکون سے نہیں بیٹھنے دے گا۔
اس لیے دانش مندی کاتقاضہ ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے دنیا کے مظلوم عوام کو انصاف اور حق کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدام کئے جائیں اور جن ممالک نے ان کے حقوق دبارکھے ہیں انھیں عوام کے حقوق دینے پر مجبور کیاجائے تاکہ پوری دنیاکے عوام اطمینان وسکون کے ساتھ زندگی گزارسکیںاور روزانہ جنازے اٹھانے اور مردے دفنانے کا یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہوسکے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر