وجود

... loading ...

وجود

شہر کی خستہ حالی پر عالمی ادارے کی تشویش ...ورلڈ بینک نے اسمارٹ کراچی کے لیے4نکاتی ایجنڈا پیش کردیا

منگل 15 نومبر 2016 شہر کی خستہ حالی پر عالمی ادارے کی تشویش ...ورلڈ بینک نے اسمارٹ کراچی کے لیے4نکاتی ایجنڈا پیش کردیا

بنیادی شہری سہولیات،اداروں میں رابطے کا فقدان ،کرپشن شہر کی زبوں حالی کا سبب،پنج سالہ منصوبہ تیار کرکے اسٹرکچرل خامیاں دور کی جائیں تاکہ 2020 تک اقتصادی ترقی کا مرکز بن جائے

KARACHI, PAKISTAN, JUN 10: View of huge heap of garbage which is creating  environmental pollution and diseases showing negligence of concerned authorities in Phool Patti  Lane of Liyai area in Karachi on Monday, June 10, 2013. (S.Imran Ali/PPI Images).

عالمی بینک نے گزشتہ دنوں اپنی رپورٹ میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں تیزی کی تعریف کرتے ہوئے جہاں معاشی نمو کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے بعض تجاویز پیش کی تھیں وہیں ملک کے معاشی مرکز کے طورپر کراچی کی سابقہ حیثیت بحال کرنے اوراسے عالمی سطح کاشہر بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کی ضرورت کا اظہاربھی کیاتھا۔عالمی بینک نے کراچی کی ملک کے معاشی حب کی حیثیت بحال کرنے کے لیے اپنی سفارشات میں کہاہے کہ کراچی کو اس کی پہلی جیسی حیثیت میں بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں موجود اسٹرکچرل خامیوں کو سنجیدگی سے دور کرنے کے لیے باقاعدہ ایک پنج سالہ منصوبہ ترتیب دیاجائے تاکہ 2020 تک یہ شہر اس ملک کامعاشی اور اقتصادی ترقی کا مرکز اور دنیا کی توجہ کا مرکز بن جائے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی جو برسہا برس اس ملک کا اقتصادی اور صنعتی مرکز رہاہے اور پورے ملک کے بیروزگار ہنر مند اور بے ہنر ،تعلیم یافتہ اور ناخواندہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہا ہے ان دنوں سنگین مسائل سے دوچار ہے اور اس شہر کے لوگوں کی اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم نظر آتی ہے۔ اس شہر کی بیشتر بلکہ 90فیصد سے زیادہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اس شہر کاٹرانسپورٹ کا نظام حکومت کی عدم توجہی اور ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی لاپروائی اور کرپشن میں ڈوب جانے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم وکرم پر ہے،اس شہر کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں کھٹارا سے بھی ایک درجہ زیادہ خرابی کا شکار ہوچکی ہیں،جن میں اس شہر کے غریب اور کم وسیلہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بھر کر سفر کرنے پر مجبور کیاجارہاہے ۔ اس طرح ان بسوں ، ویگنوں اورکوچز کے نام پر چلنے والے کھٹارا ڈبوں میں سفر کے بعد منزل مقصود تک پہنچنے والے لوگ کئی گھنٹے تک اپنے حواس ہی بحال نہیں کرپاتے۔دہشت گردوں اور اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے چیکنگ کے نام پر پولیس نے جگہ جگہ ناکے قائم کررکھے ہیں جہاں اسٹریٹ کرائمز کا کوئی ملزم تو آج تک گرفت آتے نظر نہیں آیا لیکن وہاں موجود پولیس اہلکاران ناکوں پر غریب موٹرسائیکل سواروں روک کر ان کی جیبیں باقاعدگی سے خالی کراتے ضرور نظر آتے ہیں ۔واٹر بورڈ عام شہریوں سے بل تو باقاعدگی سے وصول کرتاہے لیکن پانی کی ضرورت کم ہی شہریوں کی پوری ہوتی ہے،صفائی کے نظام کی ابتری کایہ عالم ہے کہ شہر کی گلیاں تو کجا کوئی مین روڈ ایسا نظر نہیں آتاجہاں کچرے کے ڈھیر نہ لگے ہوں ۔شہریوں کو آتشزدگی کے واقعات سے محفوظ رکھنے اور اس طرح کے واقعے کی صورت میں فوری مدد کی فراہمی کا نظام اس قدر ابتر ہوچکاہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پانی کے بغیر کھڑی نظر آتی ہیں اور کسی واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پانی کی تلاش شروع کی جاتی ہے۔ہسپتالوں کی صورت اس قدر ناگفتہ بہ اور کرپشن کی وجہ سے ابتری کاشکارہوچکاہے کہ ہسپتال کی اوپی ڈی میں لائے جانے والے مریض تڑپتے رہتے ہیں اور وہاں موجود عملہ گپ شپ میں مصروف رہتاہے اور اگر کوئی توجہ دیتابھی ہے تو معمولی بینڈج تک ہسپتال میں دستیاب نہیں ہوتا اور مریض کے لواحقین کو اس کی خریداری کے لیے بھی ہسپتال کے باہر کی دکانوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام مسائل کے باوجود اس شہر میں تیزی سے ترقی کرکے عالمی معیار کا شہر بننے کی پوری صلاحیتیں اور خوبیاں موجود ہیں اور ان ہی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے عالمی بینک نے پورے ملک میں صرف اسی شہر کو ترقی دینے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔
عالمی بینک نے اس شہر کو عالمی سطح کاشہر اور ملک کا معاشی اور اقتصادی مرکز بنانے کے لیے جو سفارشات پیش کی ہیں وہ 4 نکات پر مشتمل ہیں ،ان میں پہلا مشورہ یا تجویز یہ ہے کہ اس شہر کے تمام اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط بنانے کے ساتھ تمام اداروں کے افسران بالا کے موثر احتساب کا طریقہ کار متعین کیاجائے جس کے تحت کوئی بھی اپنی ذمہ داری کسی اورپر ڈال کراحتساب سے نہ بچ سکے ، اس شہر کے وسائل انتہائی دیانتداری کے ساتھ اس شہر کی ترقی اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان کے مسائل حل کرنے پر خرچ کئے جائیں اور وسائل کے غلط استعمال میں ملوث لوگوں کو فوری طورپر احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان کو کڑی سزائیں دی جائیں۔
عالمی بینک کی سفارشات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس شہر کو صاف ستھر ا بنا کر اس کو سرسبز شہر بنانے کی توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کی وجہ سے پھیلنے والی سنگین بیماریوں سے نجات مل سکے ۔انفرااسٹرکچر کے درمیان خلاپر کیاجائے اور اس حوالے سے فنڈز اس شہر کی دیکھ بھال اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے لیے محفوظ رکھا جائے۔ماحول کی تبدیلی اور ترقی کی رفتار پر منفی اثر ڈالنے والے عوامل کا خاتمہ کیا جائے۔
عالمی بینک کی جانب سے پیش کردہ تیسری سفارش یہ ہے کہ اس شہر کے اقتصادی ، سماجی اور ماحولیاتی اثاثوں میں توازن پیدا کیاجائے ،شہرمیں انفرااسٹرکچر کی بحالی کے کام میں نجی شعبے کو شریک کیا جائے ،زیادہ بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب ترغیبات فراہم کی جائیں۔اس شہر میں موجود سرکاری اراضی کو صحیح طورپر استعمال کیاجائے تاکہ انفرااسٹرکچر کی درستگی سے وسائل مہیا ہوسکیں۔
عالمی بینک کی چوتھی سفارش یہ ہے کہ اس شہر کواسمارٹ شہر میں تبدیل کیاجائے اور اس شہر کے وسائل کو تخلیقی کاموں کے لیے استعمال میں لایاجائے۔شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مقابلے کا ماحول تیار کرنے اور اس میں اضافہ کرنے،باہمی رابطے بڑھانے اور سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کے لیے مناسب اور قابل عمل ایسی پالیسیاں تیار کی جائیں جن کے تحت کرپشن کے دروازے نہ کھولے جاسکیں۔
عالمی بینک نے کراچی کی سڑکوں پر گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کی ضرورت سے زیادہ بھرمار کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر اور قابل عمل ٹرانسپورٹ پالیسی تیار ،پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی دورکرنے اور اس کو بلا تاخیر عملی شکل دینے کی بھی سفارش کی ہے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ کراچی میں گزشتہ برسوں کے دوران نہ صرف یہ کہ دنیا کے دوسرے شہروں بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی مقابلہ کرنے کی طاقت میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے ۔انفرااسٹرکچر کے عدم وجود ، بجلی کی بار بار بندش اور لوڈ شیڈنگ ،سیاسی عدم استحکام ،بھتہ خوری اور لوٹ مار کے واقعات کی وجہ سے اس شہر کاتجارتی ماحول بری طرح متاثر بلکہ تباہ ہوگیاہے۔جبکہ بے تحاشہ درآمدات کی وجہ سے ملک کے چھوٹے صنعتکاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔اس کے نتیجے میں 2015 کی رپورٹ کے مطابق کراچی سکونتی سہولتوں کے اعتبارسے دنیا کے 10 بڑے شہروں کی فہرست میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیاتھا۔اس کاسبب یہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران شہری منصوبہ بندی اور اس کی مینٹیننس اورسہولتوں کی فراہمی کانظام شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافے کی رفتار کاساتھ نہیں دے سکا نشہر میں موجود کھلے مقامات ،پارک اور کھیل کے میدان بلند وبالا عمارتیں تعمیر کرنے والے بلڈرز کے قبضے میں چلے گئے اور یہ شہر بتدریج ناقابل رہائش ہوتاچلاگیا۔
کراچی کی حالت زار کے بارے میں عالمی بینک کی یہ رپورٹ اور اس شہر کی رونقیں اور اس کی حیثیت بحال کرنے کے بارے میں عالمی بینک کی سفارشات کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے منتخب بلدیاتی ارکان ،اور صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس شہر کو حقیقی معنوں میں عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے اس کو کس حد تک وسائل فراہم کرنے پر تیار ہوتی ہیں اور ان وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے اور انھیں خورد برد سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی بینک کی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر