وجود

... loading ...

وجود

ڈونلڈ ٹرمپ ....بدگوئی کی حد تک صاف گوئی ہی کامیابی کی کلیدٹھہری

جمعه 11 نومبر 2016 ڈونلڈ ٹرمپ ....بدگوئی کی حد تک صاف گوئی ہی کامیابی کی کلیدٹھہری

اوباما دور میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ جیسے مسائل پر امریکیوں کو وعدوں پر ٹرخایا، عوام نے انتخابات کواس روایتی سیاست کا دھڑن تختہ کرنے کا نادر موقع سمجھا
ٹرمپ کا لب و لہجہ عام امریکیوں کے لیے معیوب نہیں ،خلاف توقع فتح کی تقریر میں امریکی نومنتخب صدر نے ’’دوستی سب سے دشمنی کسی سے نہیں‘‘ کا اصول اپنانے کااظہار کیا
donald-trump-and-macysامریکا کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے،صدارتی انتخابات کے اتنے اپ سیٹ نتائج نے صرف امریکی عوام کو بلکہ پوری دنیا خاص طورپر امریکا کے یورپی حلیفوں کو بھی انگشت بدنداں کردیاہے ،صدارتی انتخابات کے یہ نتائج اتنے غیر متوقع ہیں کہ امریکا کے قریب ترین حلیف ملکوں کے رہنما ؤں کے ذہن بھی اسے قبول کرنے کو تیار نظر نہیں آتے جس کا اظہار جرمن چانسلرنے اس کابرملا اظہار یہ کہہ کر کردیا کہ جرمنی کے عوام کی اکثریت ایسا نہیں چاہتی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غیرمتوقع کامیابی نے امریکی اقلیتوں کو خوفزدہ کردیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا میں آباد اقلیتوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیاتھا اب وہ ان پر عملدرآمد کی پوزیشن میں آچکے ہیں ،اور ان عملدرآمد شروع کرنے پر انھیں نہ صرف یہ کہ کسی بڑی مزاحمت کا خطرہ نہیں ہے بلکہ ایسی صورت میں بیروزگاری کے عذاب سے دوچار امریکا کے پسماندہ حلقوں میں ان کی پذیرائی میں اضافہ ہوگا کیونکہ بیروزگارامریکی تارکین وطن اقلیتوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کو اپنے روزگار میں اضافے کی کوشش تصور کریں گے۔کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں سے امریکا کی قدرے نرم امیگریشن پالیسی کی وجہ سے یورپ اور دیگر ممالک کے لاکھوں ہنر مند ، تعلیم یافتہ اور بے ہنر لوگوں کو امریکا آنے کا موقع ملا اور امریکا کے پسماندہ علاقوں کے عوام ان کو اپنے روزگار میں کمی اور اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کابنیادی سبب تصور کرتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے اعلان سے غیرسفید فام اتنے زیادہ مضطرب ہوئے ہیں کہ اس اعلان کے فوری بعد انھوں نے کینیڈا اور دیگر ممالک میں نقل مکانی کی کوشش شروع کردی ، بڑی تعداد میں امریکیوں کی جانب سے نقل مکانی کی اس کوشش کے نتیجے میں کینیڈا کی امیگریشن سے متعلق ویب سائٹ کریش کرگئی ۔امریکا کے صدارتی انتخابات کااتنا غیر متوقع نتیجہ کیوں آیا اس پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور ہوسکتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پورے عہد صدارت کے صدارت کے دوران اس پر تبصروں اور تجزیوں کاسلسلہ جاری رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غیرمتوقع کامیابی کے اسباب کا گہری نظر سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کا بنیادی سبب بارک اوباما دور میں پیدا ہونے والی مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ تھا جس نے امریکی عوام خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔عوام اپنے بنیادی مسائل کاحل چاہتے تھے جبکہ حکومت انھیں وعدہ فردا پر ٹرخانے کی کوشش کرتی رہی اس صورت میں انتخابات میں روایتی سیاست کا دھڑن تختہ کرنے کا ایک نادر موقع ان کے ہاتھ آگیا ،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو لب ولہجہ اختیار کیا امریکا کے سنجیدہ حلقوں میں اس پر کافی ناک بھوں چڑھائی گئیں اور بعض حلقوں نے تو یہاں تک فتویٰ جاری کردیا کہ اتنا بدزبان ، بد لحاظ اور تند خو شخص امریکا جیسی بڑی طاقت کی صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کے لائق ہی نہیں ہوسکتا لیکن ان کی اسی بدزبانی اور تند خوئی نے انھیں امریکا کے پسماندہ عوام کے قریب تر کردیا کیونکہ یہ وہی زبان تھی جو امریکا کے پسماندہ طبقوں میں عام ہے ، امریکا کے پسماندہ علاقوں میں عام طورپر اسی طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے اور اسے برا تصور نہیں کیاجاتا،اس طرح ڈونلڈ کے منہ سے اس طرح کے جملوں نے پسماندہ ریاستوں کے عوام نے ان کے بارے میں اپنائیت کے جذبات پیدا کیے اور وہ ان کی طرف کھنچے چلے آئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں دوسرا بڑا کردار ان کی جانب سے روس کے ساتھ معاملات پرامن طریقے سے حل کرنے کے اشارے نے دیا ،کیونکہ امریکی عوام عراق ، افغانستان اور اب شام میں امریکا کی محاذ آرائی کی پالیسی سے تنگ آچکے ہیں اور امریکیوں کی بڑی تعداد یہ تصور کرتی ہے کہ امریکی قیادت نہ صرف یہ کہ بلاوجہ امریکی عوام سے ٹیکسوں کی صورت وصول کیے جانے والے قیمتی وسائل کو ان جنگوں پر ضائع کررہی ہے بلکہ ان کی اس محاذ آرائی کی سیاست کی وجہ سے امریکی فوج میں شامل ان کے جوانوں کی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور انھیں روزانہ کسی نہ کسی کی لاش وصول کرنے کیلیے ایئرپورٹ پر کھڑے ہوکر لاش لانے والے طیاروں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں تیسرا بڑا کردار خود ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ادا کیا،ان کے اس کردار کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ ہیلری کلنٹن جب اپنی پارٹی سے صدارتی انتخابات کیلیے ٹکٹ لینے کی دوڑ میں شریک تھیں تو ان کے مدمقابل امیدوار نے ان کو ہرانے اور خود ٹکٹ حاصل کرنے کیلیے ہلیری کلنٹن پر تابڑ توڑ الزامات کی بوچھاڑ جاری رکھی تھی جس میں ان کی ایمانداری ، ان کی سوچ ، ان کی ذاتی زندگی ،ان کی دولت ،دولت کمانے کا انداز غرض ان کی زندگی کے ہر منفی پہلو کو اس طرح اجاگر کرکے امریکی عوام اور خاص طورپر ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں کے سامنے پیش کیاتھا کہ خود ڈیموکریٹک پارٹی میں ایک بڑا حلقہ انھیں امریکا کیلیے سیکورٹی رسک تصور کرنے لگا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورت حال سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور ان کے ساتھی ڈیموکریٹ امیدوار کی نشاندہی کردہ خامیوں کو اپنے طورپر عوام کے سامنے پیش کرکے امریکا کے بعض سنجیدہ حلقوں کے ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی دیگر وجوہ بھی وقت کے ساتھ ہی سامنے آئیں گی اور مختلف تجزیہ کاروں اور مبصرین کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران ہلیری کلنٹن کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی جاتی رہے گی اورجیسا کہ میں نے اوپر لکھاہے کہ یہ بحث اب شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی پورے عہد صدارت تک جاری رہے، لیکن فی الوقت امید افزا بات یہ ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اپنی انتخابی تقاریر کے بالکل برعکس سب کو ساتھ لے کر چلنے اور ’’دوستی سب سے دشمنی کسی سے نہیں‘‘ کا اصول اپنانے کے عزم کااظہار کیا ہے، اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس عزم پر قائم رہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نہ صرف یہ کہ وہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگ ومزاحمت کی موجودہ صورتحال کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں بلکہ غریب اور کم وسیلہ امریکی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکا میں کئی مقامات پر ان کی جیت کے خلاف احتجاج کیے گئے، تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب امریکا میں کسی صدر کے منتخب ہونے پر عوام نے احتجاجی مظاہرے کیے ہوں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر