... loading ...
دھرنے میں پنجاب کے تینوں زونز کی قیادت اور پارلیمانی ارکان کا پول کھل گیا ،ورکراور رہنماؤں میں خلیج ،عمران خان کو اب اپنی پارٹی کے اندر بھی احتساب کا کوڑا برسانا ہو گا
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی کارکردگی سے بھی کارکن اور قیادت مطمئن نہیں، مرکزی قیادت پیپلز پارٹی کی طرف سے عمران خان پر حالیہ تنقید کاؤنٹر نہیں کر پارہی 
دونومبر کا دھرنا ملتوی ہونے کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت نے اظہار تشکر کے لیے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں کامیاب جلسہ کر کے مخالفین کی توپوں کی گھن گھرج کو کافی حد تک خاموش کر دیا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کی مخصوص سرشت کے باعث تحریک انصاف اور اس کی قیادت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ دو نومبر سے ٹھیک ایک روز پہلے سپریم کورٹ میں ابتدائی سماعت کو بنیاد بنا کر عمران خان نے جو سیاسی فیصلہ کیا تھا اُس نے ان کی پارٹی کی صفِ اول کی قیادت کا بڑی حد تک بھرم رکھ لیا ہے ۔ مخالفین کے تیروں کا رُخ عمران خان کی طرف ہے ۔ پارٹی کی وہ قیادت جس سے عمران خان اور کارکنوں کو بہت اُمیدیں اور توقعات وابستہ تھیں وہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اپنے چیئر مین کی قیادت کے پیچھے پناہ ڈھونٖڈ تے نظر آر ہے ہیں ۔
عمران خان نے پانامالیکس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضرہونے کا اعلان کر کے سیاسی منظر نامے پر اپنے اور اپنی پارٹی پر ہونے والی تنقید کے اثر کو بڑی حد تک زائل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ دو نومبر کے حوالے سے عمران خان کے جس فیصلے کو یوٹرن کہا جا رہا ہے آگے چل کر وہ شاید ان کی سیاسی زندگی کا کا میاب فیصلہ ثابت ہو بحر حال اس حوالے سے ابھی سے کو ئی یقینی یا حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہے ۔
28 اکتوبر کی شام اسلام آباد کی ’’تاج مارکی‘‘ میں پی ٹی آئی کے یوتھ کنونشن پر پولیس اور ایف سی کا دھاوا پارٹی کے کارکنوں اور قیادت کے لیے بالکل غیر متوقع تھا ۔ اس موقع پر پارٹی کے وائس چیئر میں شاہ محمود قریشی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایم این اے اسد عمر کی موجودگی میں کارکنوں کی پٹائی اور گرفتاری نے پہلے ہی معرکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی صفِ اول کی قیادت کو سوالات کی بوچھاڑ کے سامنے لا کھڑا کیا تھا ۔ اس حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ اگر شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کچھ دیر وہاں موجود رہتے تو کارکن پولیس کی جانب سے تشدد کے اُس دوسرے مرحلے سے بچ سکتے تھے جو دونوں رہنماؤں اور میڈیا کی ٹیموں کی وہاں سے روانگی کے بعد پولیس نے مکمل کیا ۔
عمران خان اور ان کے قریبی ذرائع نے یقیناً اس امر کا نوٹس لیا ہوگا کہ پنجاب کی قیادت اور ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد ’’ بنی گالا ‘‘ پہنچ کر سیلفیاں بنوانے اور عمران خان کے سامنے حاضری لگوانے کی کوششوں میں مصروف رہی ۔ جبکہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان سب کو اپنے اپنے علاقوں سے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچانے کا ٹاسک دیا گیا تھا ۔ جسے پورا کرنے میں وہ بُری طرح ناکام رہے ۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو سب سے زیادہ مایوسی پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی طرف سے ہوئی ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے نارتھ زون ، ساؤتھ زون اور سینٹرل زون کی قیادت حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے سامنے سرنڈر دکھائی دی ۔ پنجاب کے ان تینوں زون کی قیادت اگرچہ بنی گالا پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی اوراس کی کامیابی کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ لوگ کارکنوں کے بغیر آئے تھے ۔ پارٹی کے ٹکٹ پر جن ارکانِ اسمبلی نے ہزاروں او ر لاکھوں ووٹ حاصل کیے تھے وہ اپنے ساتھ درجن بھر سے زائد کارکن بھی اسلام آباد نہ لے جا سکے ۔
اسلام آباد سے متصل اضلاع چکوال ، راولپنڈی ، جہلم ، اٹک ، میانوالی ، خوشاب اور لاہور سے کارکنوں کی بڑی کمک کے پہنچنے کی اُمید تھی لیکن حکومت کی طرف سے راستے بند کرنے کی حکمت عملی نے اسے ممکن بننے سے روک دیا ۔ تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی مدینتہ الاولیاء ملتان کی دو بڑی درگاہوں ’’ حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ؒ ملتانی اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے سجادہ نشین ہیں۔ ملتان اور اندورنِ سندھ ان کے لاکھوں مریدین اور عقیدت مند ہیں اندورنِ سندھ ’’ غوثیہ جماعت ‘‘ ان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے لیکن ملتان اور اندرونِ سندھ سے کوئی بڑا قافلہ دو نومبر کے مجوزہ احتجاج کا حصہ نہیں بن سکا ۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سب سے زیادہ دقت کا سامنا اسلام آباد آنے کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہوا ۔ پنجاب کے مختلف اضلاع کے کارکنوں کی یہ شکایات عام ہیں کہ اس مقصد کے لیے پارٹی کے مقامی عہدیداروں اور ارکانِ اسمبلی نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی پہلے دن کی کارروائی کے بعد بنی گالا میں عمران خان کی صدارت میں پارٹی کی پالیسی اور فیصلہ ساز عہدیداروں کے اجلاس میں عمران خان نے اس صورتحال کا سرسری جائزہ بھی لیا تھا ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کی قیادت شروع دن سے صوبہ خیبر پختونخوا کے کارکنوں سے اسلام آباد احتجاجی دھرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی اُمید لگائے بیٹھی تھی ۔ پنجاب بھر کے ارکانِ پارلیمنٹ اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ خیبر پختونخواسے آنے والے کارکنوں کا جمِ غفیر ان کا بھرم بھی رکھ لے گا ۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کے غیر موثر کردار پر پہلے ہی پارٹی کے اندر اور باہر انگلیاں اُٹھ رہی تھیں ،اب دو نومبر کے احتجاج نے پنجاب قیادت کی کارکردگی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ جو عمران خان کے ایچی سن کالج کے ساتھی ہیں ،اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی پارٹی کے اندر اور باہر سے شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرتے چلے آئے ہیں ۔ اسلام آباد کے دو نو مبر کے احتجاج میں انہوں نے جس انداز میں حصہ لیا اُس سے نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کا بھرم رہ گیا بلکہ ان کے مخالفین کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ صوبہ خیبر پختونخوامیں ارکانِ قومی اسمبلی کا پانچ رُکنی گروپ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے داور کنڈی کی قیادت میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف کافی عرصہ سے سرگرمِ عمل ہیں ۔ اس احتجاج کے لیے اس گروپ کی سرگرمی بھی دیکھنے کو نہیں ملی ،صوبے کے وزیر مالیات علی امین گنڈاپور اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سیاسی منظر نامے پر چھائے رہے۔
معلوم ہوا ہے کہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں نے دو نومبر کے احتجاج کے حوالے سے اپنے ارکانِ پارلمنٹ اور پارٹی لیڈروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے عمران خان کو اپنی پارٹی میں بھی احتساب کے کوڑے سے کام لینا ہوگا ورنہ مستقبل میں انہیں موجودہ حالات سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
عمران خان پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید علی شاہ اور بلاول زرداری کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے لیکن تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے اس تنقید کا بھی مؤثر جواب سامنے نہیں آیا ۔ان دونوں کے اکثر الزامات کا جواب عمران خان کو خود دینا پڑتا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری ان دنوں جنوبی پنجاب کے ان علاقوں کے دورے پر ہیں جو صوبہ سندھ کی سرحد سے ملحقہ ہیں ۔ تاہم انہوں نے جلسہ کے لیے جنوبی پنجاب کے کسی علاقے کی بجائے صوبہ سندھ کے علاقے ڈہرکی کا انتخاب کیا ۔ جہاں انہیں اپنے جلسے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کی اعانت حاصل ہے ۔
اسلام آباد کا سیاسی منظر نامہ اس وقت پاناما لیکس ، ڈان لیکس اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے تجزیوں کی گہما گہمی سے بھرا پڑا ہے ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج سے نمٹنے کے بعد وزیر داخلہ لاہور چلے گئے تھے اور گزشتہ روزبارہ گھنٹوں کے دوران ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان دونوں ملاقاتوں کا موضوع ’’ ڈان لیکس ‘‘ رہا ۔ حکمران جماعت کے ان دو بڑوں کی ملاقاتوں کو سیاسی حلقوں میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے ۔
عمران خان کے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں کامیاب جلسے کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمعہ کی شام مری سے ملحقہ علاقے کہوٹہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا ۔ اس جلسے کی میزبانی شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق نے کی ۔ اس جلسے کو پی ٹی آئی کے جلسے کے برابر تو قرار نہیں دیا جا سکتا البتہ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کے اس موقف کی نفی قرار دیا جا سکتا ہے جس کا اظہار وہ پی ٹی آئی کے جلسوں پر تنقید کر تے ہوئے حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے کہا کرتے تھے کہ ’’حکومتیں جلسوں سے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی سے جانی جاتی ہیں ‘‘۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے عمران خان پرخاصی تنقید کی اور ان کو پاکستان کی ترقی کا دشمن قرار دیا ۔
اسلام آباد کے سیاسی موسم پر بے یقینی کے بادل منڈ لا رہے ہیں ۔ تبدیلیوں کے حوالے سے بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں تاہم یقین سے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ حالات کیا کروٹ لیتے ہیں ۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...