وجود

... loading ...

وجود

قائد کی حکمت عملی سمجھتے ہیں.. عمران خان کا ہرفیصلہ تمام کارکنوں کوقبول

جمعرات 03 نومبر 2016 قائد کی حکمت عملی سمجھتے ہیں.. عمران خان کا ہرفیصلہ تمام کارکنوں کوقبول

12498558_940833856000021_1337379099_nانٹرویو :۔ انوار حسین حقی
“فلک ناز چترالی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کی مالاکنڈ ڈویژن کی خوبصورت اور دل نشیں وادی چترال سے ہے ۔ وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں سرگرم ہیں ۔ قبائلی طرز معاشرت کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فلک ناز چترالی نے سیاست کے شعبے میں اپنے لیے احترام حاصل کیا ہے۔ دو نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں ’’ بنی گالہ ‘‘ آمد کے موقع پر ’’ جرأت ‘‘ کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔”
جرأت : عمران خان کی جانب سے دو نومبر کے احتجاج کی کال پر جس انداز میں آپ کے صوبے کے لوگوں نے لبیک کہا اُسے دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتاہے کہ عمران خان کی جانب سے دھرنا ملتوی کرنے کے اعلان سے آپ کے ہاں مایوسی پائی جاتی ہے ؟
فلک ناز : ہماری پارٹی کے ورکرز خصوصاً نوجوانوں کو عمران خان کا جو سب سے پہلا سبق از بر ہوا ہے وہ یہی ہے کہ زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہونا اور ہمت نہیں ہارنی ۔ عمران خان کے فیصلے سے پی ٹی آئی کے کارکن کبھی مایوس نہیں ہوئے ، ہم اپنے قائد کی حکمت عملی کو سمجھتے ہیں ۔ قائد کاہر فیصلہ مجھ سمیت ہر کارکن کو قبول ہوتا ہے ۔ وفاق اور پنجاب حکومت کی ہٹ دھرمی سے وفاق کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ،ان لوگوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ 31 اکتوبر کو جو بہیمانہ سلوک کیا ،اُس پر ہمارے قائد عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ردِ عمل ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے ۔ ان دونوں قائدین نے کسی ایسے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیاجس سے وفاق یا پاکستان کی سالمیت کو کسی قسم کا دھچکا پہنچے ۔ میں یقین سے کہ سکتی ہوں کہ موجودہ حالات میں عمران خان کی وجہ سے وفاق اور ریاست خطرات سے محفوظ ہے ۔ عمران خان نے ملک کو شورش سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔
جرأت : عمران خان نے ملک کو شورش سے کیسے محفوظ رکھا ہوا ہے جبکہ ان کی جانب سے آئے روز احتجاج کی کال دی جاتی ہے ۔ جلسے کیے جاتے ہیں ،جُلوس نکالے جاتے ہیں ؟
فلک ناز : ملک میں ہماری حکومتوں کی65 سالہ نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے حالات بہت زیادہ مایوس کن ہیں ۔ امن و امان کی صورتحال آپ کے سامنے ہیں ۔ معاشی حوالوں سے ہم کنگال ہو چُکے ہیں ۔ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن نے ہمارے قومی ادارے تباہ کر دیے ہیں ۔ پاکستان اسٹیل ملز ، پاکستان ریلوے ، پی آئی اے اور دیگر اہم قومی اداروں کی حالت آ پ کے سامنے ہیں ۔ تعلیمی شعبہ حتیٰ کہ صحت کا شعبہ بھی بگاڑ کا شکار ہے ۔ ملک میں مایوسی دن بدن بڑھ رہی ہے ،غربت اپنی انتہاء کو پہنچ چُکی ہے، لوگوں کا ایک وقت کا کھا نا بھی مشکل ہو رہا ہے ۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ،میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان کی قیادت اور شخصیت نے ملک کو خونی انقلاب اور تباہ کن ایجی ٹیشن سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ عوام خصوصاً نوجوان نسل نے عمران خان سے اُمیدیں وابستہ کر لیں ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو ملک میں تبدیلی لا سکتا ہے ۔اسی اُمید نے نوجوان نسل کو فرسٹریشن سے بچا کر ایک سماجی دھارے میں رکھا ہوا ہے ۔
جرأت:31 اکتوبر کو صوابی انٹر چینج پر صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو اسلام آباد میں داخلے سے جس انداز میں روکا گیا اُس کا خیبر پختونخوا میں کیا ردِ عمل ہے ؟ اور خصوصاً پاکستان تحریک انصاف اس کو کس نظر سے دیکھتی ہے ؟
فلک ناز: صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگ محبِ وطن اور وفاق پاکستان کی سلامتی اور مضبوطی کے داعی ہیں ۔ لیکن وفاق اور پنجاب کے موجودہ حکمرانوں نے اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیے وفاق کی ایک اہم اکائی خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ جو سلوک کیا، اُس نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔ پرویز خٹک اور ان کے قافلے کے صبر اور برداشت نے وفاقی حکومت کے ان تمام دعووں اور الزامات کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے جن کو بنیاد بنا کر یا جن کا وا ویلا کر کے انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے قافلے کو بربریت کا نشانہ بنایا ۔ لیکن میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ان کی جانب سے کسی ایسے ردِ عمل کا اظہار سامنے نہیں آیا جس سے صوبائی تعصب کے اُبھرنے کی بو آتی ہو ۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بھی پنجاب سے محبت کی بات ہوئی ہے، عمران خان نے بھی قومی یکجہتی کے فروغ اور وفاق کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ اس سب کچھ کے باوجود پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے منفی اثرات سامنے آئیں گے ۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف وفاق کی مضبوطی کی داعی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی قیادت ماضی میں ’’ جاگ پنجابی جاگ ‘‘ کے نعرے لگا چُکی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی سندھ کارڈ استعمال کرتی چلی آئی ہے ۔ ہماری بہت سی جماعتیں علاقائیت کا پرچار کرتی ہیں ، کچھ لسانیت کا سہارہ لیتی ہیں ۔ دینی سیاسی جماعتوں کا بھی اپنا ایک انداز ہے ۔ میری نظر میں پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت ہے جو ہر قسم کے تحفظات سے پاک ہے ، جو ہر قسم کی عصبیتوں سے بالا تر ہے ۔
جرأت : خیبر پختونخوا میں پاک چین راہداری منصوبے پر آپ کی جماعت کو کیا تحفظات ہیں ؟
* فلک ناز چترالی :۔ میاں نواز شریف کی حکومت نے سی پیک پر چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے ۔کے پی کے کی منتخب حکومت کو بائی پاس کر کے وفاق نے اپنے سیاسی حلیف مولانا فضل الرحمن کی مرضی اور منشاء کے مطابق روٹ بنایا ہے ۔ اس نام نہاد روٹ کو مغربی روٹ کا نام دیا گیا ۔ اس نئے روٹ کو خیبر پختونخوا میں تمام جماعتوں نے مسترد کیا ہے۔ افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ وفاقی حکومت سی پیک پر تحفظات کے اظہار کو اس عظیم منصوبے کی مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ہماری پارٹی کے چیئر مین اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ہر سطح پر آواز اُٹھائی ۔ عمران خان نے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت اس عظیم منصوبے کی حامی ہے وہ ان تمام منصوبوں کی بھر پور حمایت کر تی ہے جو پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے جاری ہیں یا زیر تکمیل میں ہیں ۔ ہمارے صوبے میں موجودہ مغربی روٹ کی وجہ سے سی پیک کو پاک چین کاریڈور کی بجائے پنجاب چین کاریڈور کہا جانے لگا ہے ۔ وفاق کی شریف حکومت کی وجہ سے صوبوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔ ملک میں ایک خاندان کی بادشاہت اور ان کے مصاحبوں کی حکومت کے مضمرات سے وفاق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔
جرأت : عمران خان کے اندازِ سیاست میں ایسی کون سی خوبی ہے جو آپ کی نظر میں اُسے دوسرے سیاستدانوں سے منفرد کر تی ہے ۔
فلک ناز :عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں روایت سے بغاوت کی ہے ۔ ہماری ماضی کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو سیاست میں لگی لپٹی کہنے اور عیاری و مکاری کا راج تھا ۔ عمران خان ایک کھرا اور سچا انسان ہے، اُس نے لگی لپٹی کے بغیر دل کی بات زبان پر لانے کی رسم ڈالی ہے ۔ ہماری قوم عمران خان کی سیاست کی عادی نہیں ہے یہی وجہ ہے ہم میں سے بہت سوں کو عمران خان کی باتیں اور ان کا اندازِ سیاست عجیب لگتا ہے ۔ وہ خفیہ سیاسی ڈیل اور سازشوں کا عادی نہیں ہے ۔ اس کی سیاست ذاتی اور کاروباری مفاد سے پاک ہے ۔ یہی باتیں لوگوں کو اچھی لگتی ہیں ۔ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے مولانا مفتی محمود ؒ کی حکومت بھی دیکھی ۔ اے این پی کا دور بھی دیکھا اور مجلسِ عمل کی حکومت بھی ہمارے سامنے رہی ۔ لیکن کے پی کے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت کے دل عمران خان کے لیے دھڑکتے ہیں ۔ ہمارے ہاں سماجی روایات بہت مضبوط ہیں، خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ خیبر پختونخوا سے خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد تحریک انصاف کے لیے سر گرمِ عمل ہے ۔ کے پی کے کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے صوبے اور مُلک کے روشن مستقبل کی خاطر عمران خان کے مشن نئے پاکستان کے لیے میدانِ عمل میں ہیں ۔ یہ عمران خان کے اندر کی سچائی ہے جس نے ایک عالم کو اُس کا دیوانہ بنایا ہوا ہے ۔
جرأت :خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی میں شدید قسم کے اختلافات کی اطلاعات ہیں ۔ اس حوالے سے حقائق کیا ہیں ؟
فلک ناز : ہماری پارٹی ایک بہت بڑی پارٹی ہے ۔ عمران خان کی بیس سالہ بے مثال جد وجہد نے تحریک انصاف کو پاکستان کی قومی سیاست کا ناگزیر حصہ بنا دیا ہے ۔ چاروں صوبوں میں پارٹی کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ پی ٹی آئی سے تمام جماعتیں خوفزدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ آپس کے اختلافات کے باوجود یہ تما م جماعتیں عمران خان کی مخالفت میں متحد ہیں ۔ یہ انہی کے منظم پروپیگنڈے کا حصہ کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی میں سنجیدہ نوعیت کے اختلافات ہیں ۔ دیکھیں اختلاف رائے تو جمہوریت کی روح اور حُسن ہے ،اس سے فکر اور سوچ کے نئے نئے زاویے سامنے آتے ہیں ۔ کے پی کے کی سطح پر بھی اور مرکز میں بھی ہماری پارٹی متحد ہے ۔
جرأت :صوبہ کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف اپنے نعرے ’’ نئے پاکستان ‘‘ کی تکمیل میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے ؟؟
فلک ناز :صوبہ خیبر پختونخوا کے جرأت مند عوام نے روایتی سیاست سے بغاوت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو کامیاب کروایا ہے ۔ اس سے پہلے کوئی قومیت کے نام پر اور کوئی مذہب کے نام پر صوبے کے عوام کو بے وقوف بنا رہا تھا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں بنیادی نوعیت کی اہم تبدیلیاں کی ہیں ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ آپ صوبے کے کسی ہسپتال میں بھی چلے جائیں ،آپ کو واضح تبدیلی محسوس ہو گی ۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بنیادی نوعیت کے اقدامات سامنے آئے ہیں ۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو فعال ، مؤثر بنایا گیا ہے ۔ عوام کو پٹواریوں اور تحصیلداروں کے رحم وکرم سے آزاد کیا گیا ہے ۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں عمران خان کی ہدایت کے مطابق اصلاحات کی گئی ہیں ۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرکے قانون اور عوام کے سامنے جواب دہ بنایا گیا ہے ۔ ہم آپ کو میڈیا کے دیگر نمائندوں اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد اور اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ لوگ آئیں اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں ۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر