وجود

... loading ...

وجود

دھرنا منسوخ ،یوم تشکر کا اعلان۔۔ کس کی جیت کس کی ہار،سیاسی کارکن تذبذب کا شکار

بدھ 02 نومبر 2016 دھرنا منسوخ ،یوم تشکر کا اعلان۔۔ کس کی جیت کس کی ہار،سیاسی کارکن تذبذب کا شکار

جیت پاکستان کی ہوئی ، چوہدری نثار۔سپریم کورٹ سے کمیشن بنانے کی درخواست وزیر اعظم نے ہی کی تھی،مریم نواز کی ٹوئٹ۔کس بات پر تشکرمنائیں گے؟اے این پی
کچھ سمجھ نہیں آرہا ،طاہرالقادری ۔ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دیے ،پیپلز پارٹی۔یہ عمران خان کی حکمت عملی ہے، آج وہ کچھ بڑاکرنے والے ہیں،بعض تجزیہ کاروں کی رائے
pti
عمران خان کو ایک مرتبہ پھر اس وقت ’’یو ٹرن خان‘‘ کا خطاب مل گیا جب انہوں نے آج اسلام آباد لاک ڈاؤن کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔جس کے بعد آصفہ زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کپتان کو یہ خطاب دیا۔اس سے پہلے عمران خان سپریم کورٹ کی جانب سے پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کے فیصلے پردو نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج منسوخ کرتے ہوئے یوم تشکر منانے کا اعلان کرچکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کمیشن ’وزیراعظم کی کرپشن کا احتساب کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف وزیراعظم کی کرپشن کے مطالبے پر ہی احتجاج کر رہی تھی اور کمیشن کی تشکیل ان کی اخلاقی فتح ہے۔ اب احتجاج کے بجائے دو نومبر کو پریڈ گرؤانڈ میں یوم تشکر منایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ریاستی اداروں سے انصاف نہ ملنے کے بعد ہم نے میں فیصلہ کیا تھا کہ ہم اسلام آباد آئیں گے اور اسے بند کریں گے اور ہم نے صرف دو شرائط رکھی تھیں کہ یا نواز شریف استعفیٰ دیں یا پھر تلاشی دیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ تین نومبر سے نواز شریف کی تلاشی شروع ہو گی اور یہ ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ’ ’کسی طاقتور کی تلاشی لی جارہی ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’کارکن گھر جائیں، کیونکہ کل دوبارہ اسلام آباد آنا ہے لیکن احتجاج کرنے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر یوم تشکر منانے کے لیے آنا ہے۔‘
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دن پاکستان کی سیاست کے لیے تلخ رہے، تاہم وہ عمران خان کی جانب سے احتجاجی دھرنے کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ ‘عمران خان نے جو فیصلہ کیا اس میں نہ کسی کی جیت ہے نہ ہار، اگر کسی کی جیت ہوئی ہے تو وہ پاکستان کی ہوئی اور ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔’ چوہدری نثار نے اسلام آباد کے عوام اور پیر کی شب موٹر وے پر اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والے تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے معذرت کی اور کہا کہ وہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس رکاوٹ کا سبب حکومت نہیں بلکہ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان تھا۔
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ حکومت کے اصولی مؤقف کی جیت ہے کیونکہ آج ہنگامہ کرنے والوں نے ناکامی پر مان لیا کہ فیصلہ دھرنوں اور ڈی چوک پر نہیں بلکہ عدالتوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کھلنڈرا پن ختم کریں، سپریم کورٹ نے وہی فیصلہ کیا جو مؤقف وزیراعظم نے اپنایا تو پھر عمران خان کو یہ ہنگامہ کرنے کی ضرورت کیا تھی۔دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹ میں پی ٹی آئی کے سربراہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘عمراں خان کی جرات اوربہادری کو سلام’۔ساتھ ہی یہ شعر بھی تحریر کیا
؂کیا اتنے ہی جری تھے حریفان آفتاب
چمکی ذرا سی دھوپ تو کمروں میں آگئے
وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم صفدر نے کہا کہ ملک پر ایک اور حملہ ناکام ہو گیا، مجھے اْمید تو کم ہے لیکن پھر بھی اْمید کرتی ہوں کہ وہ اس شرمندگی سے سبق سیکھیں گے۔مریم صفدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ سے کمیشن بنانے کی درخواست وزیر اعظم نے ہی کی تھی۔
پاناما لیکس کے معاملے پر عمران خان کی جانب سے دھرنے کے مؤخر کرنے کے فیصلے پر عوامی تحریک کے سربراہ اور عمران خان کے ’’سیاسی کزن‘ڈاکٹر طاہر القادری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ قرار دیا ہے۔انہوں نے فیصلے پر’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ پڑھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس موجودہ صورتحال میں الفاظ نہیں ہیں اور مجھے تاحال کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
ادھراپوزیشن لیڈر اور پی پی رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ حالات ابھی بھی حکومت کے ہاتھ میں ہیں تاہم بحران بڑھ گیا تو نواز شریف سیاسی شہادت کو ترجیح دیں گے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حکومت کی فتح ہے یا اپوزیشن کی کیونکہ اس کا دارومدار سپریم کورٹ کی اگلی کارروائی پر ہو گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کڑا پیمانہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے تو کیا وہی پیمانہ نواز شریف کے خلاف استعمال ہو گا یا نہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دیے۔انہوں نے کہا کہ کارکن مار کھاتے رہے لیکن عمران خان پہاڑی سے نیچے نہیں اترے لیکن دھرنا ختم کرنے پرپی ٹی آئی والے اپنے کپتان کی ضرورتلاشی لیں۔اس موقع پر انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ بلاول بھٹو کے مطالبات نہ مانے گئے تو پیپلز پارٹی تحریک چلائے گی۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں عوام کا نقصان ہوا جس کے ذمے دار فریقین ہیں، مریضوں کو ہسپتال، بچوں کو اسکول اور لوگوں کو دفاتر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا الگ بات ہے لیکن کسی شہر کو بند کرنا الگ بات ہے۔تحریک انصاف کے اعلان پر زاہد خان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوم تشکر کس بات پر منائیں گے ؟اے این پی کے رہنما نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں حکومت کو فائدہ ہو گا کیونکہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ موجودہ قوانین کی روشنی میں ہو گا، سپریم کورٹ ازخود تو آئین میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتی اور اسے موجودہ آئین کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کرپشن کے خلاف جہدوجہد میں مصروف تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کریں اور خیبر پختونخوا کے عوام سے معافی مانگیں۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے لیڈر کی یاد تازہ کردی جس نے آج سے 45 سال قبل پاکستان کو دو لخت کردیا تھا اور شیخ مجیب الرحمان کی طرح یہ لوگ بھی صرف ایک صوبے پر حکومت کر کے اور ایک صوبے سے ووٹ لے کر سمجھتے ہیں پاکستان میں ان کی بادشاہت ہے۔نعیم الحق نے مزید کہا کہ کمیشن کا قیام اپوزیشن کا دیرینہ مطالبہ تھا جو پاکستان کے عوام کی جیت ہے اور مجھے امید ہے کہ نومبر کا مہینہ حکومت کا آخری مہینہ ثابت ہو گا۔
ادھر بعض سیاسی تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران کے فیصلے کو یوٹرن سمجھنے والوں کیلیے ایک اطلاع یہ ہے کہ انہوں نے دھرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیا بلکہ وہ ایک کامیاب حکمت عملی کے ساتھ چل رہے ہیں اور بڑی کامیابی سے اپنے کارکنوں کو اسلام آبا میں داخل کریں گے اور 2نومبر کو کچھ بڑاکرنے والے ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر