وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

وفاقی دارالحکومت میں تبدیلی کی ہوائیں.... آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔۔۔

اتوار 30 اکتوبر 2016 وفاقی دارالحکومت میں تبدیلی کی ہوائیں....  آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔۔۔

عمران خان نے پرویز رشید کے استعفے اور خواجہ آصف کی دبئی روانگی کو درباریوں کا فرار قرار دیا ،برطرفی کا معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ایک خبر سے جڑا ہوا ہے
شیخ رشیدکے کامیاب شو نے حکومت کی جگ ہنسائی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو بھی وارم اپ ایکسرسائز کے بغیر ہی دو نومبر کی حکمت علمی کے لیے آسانی پیدا کر دی
untitled2 نومبر سے پہلے ہی وفاقی حکومت کے اوپننگ بیٹسمین وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے اعلان اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی دبئی روانگی نے اسلام آباد کے سیاسی ماحول کو انتہائی بلند درجہ حرارت پر لا کھڑا کیا ہے ۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید کی برطرفی کا معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ایک خبر سے جڑا ہوا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسے ایک کامیابی قرار دیتے ہوئے قوم کو خوشخبری دی ہے ۔ اسلام آباد کے حلقے اس خبر کا گزشتہ 2 دنوں سے انتظار کر رہے تھے ۔ عمران خان نے اس استعفیٰ کو ’’ درباریوں ‘‘ کا فرار قرار دیا ہے ۔ عین اس وقت جب یہ پرویز رشید کے عہدے سے ہٹائے جانے کی خبر الیکٹرونک میڈیا پر بریک ہوئی تو ’’ بنی گالا ‘‘ میں پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ آنکھ مچولی ایک تصادم میں بدلتی نظر آ رہی تھی ۔ پولیس کی شیلنگ سے عمران خان کی ذاتی سکیورٹی کے انچار ج احمد نیازی اپنے ساتھی طاہر حبیب سمیت زخمی ہو گئے ۔ احمد نیازی عمران خان کے قریبی عزیز ہیں ان کا تعلق میانوالی سے ہے، وہ عمران خان کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے ہیں ۔
پرویز رشید کی رخصتی نے دو نومبر کی آمدسے قبل ہی سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے ۔ عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ احتجاج نے میاں نوازشریف کی حکومت کے مستقبل کو تحفظات کے حصار میں محصور کر کے رکھ دیا ہے ۔ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ملنے والا ہرشخص دوسرے سے یہی سوال کرتا نظر آتا ہے کہ دو نومبر کوکیا ہونے جا رہا ہے ۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں ماحول پر سراسیمگی چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ حکمران پارٹی اور اس کے حلیفوں کو عمران خان دباؤ میں لانے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔
دو نومبر کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے چوہدری نثار کو مخصوص قسم کی ہدایات کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی مکمل معاونت فراہم کر دی ہے ۔ پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد کی خدمات وفاق کے سپرد ہیں ۔ اسلام آباد میں مختلف مقامات پر ایف سی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کے اہلکار ان مقامات پر تعینات ہیں جو اسلام آباد کے انٹری پوائنٹ ہیں یا جن مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکن دھرنا دے سکتے ہیں ۔
پنجاب پولیس نے صوبے کے طول و عرض میں ناکہ بندیوں اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد کے احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے حکمت عملی اور رو ڈ میپ کے مطابق عملدرآمد میں مصروف ہیں ۔ اسلام آباد کے قریبی اضلاع جن میں چکوال ، اٹک ، جہلم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ،ان کی انتظامیہ کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اضلاع کے داخلی راستوں پر پی پی ٹی آئی کے کارکنوں کو روکیں ۔
ضلع اٹک کی انتظامیہ خصوصاً پولیس کو صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلوں کو روکنے کا مشکل ٹاسک دیا گیا ہے ۔پنجاب بھر سے پولیس کی نفری اور ایف سی کے جوان اٹک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی ڈسپوزل پر ہیں ۔ اٹک پُل پر کے پی کے اور فاٹا سے بڑے اور منظم قافلوں کی آمد متوقع ہے ۔ خیال کیا جا رہا ہے خیبر پختونخوا سے آنے والے جلوس کے ہمراہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور صوبائی وزراء بھی ہوں گے جن کو روکنے میں اٹک پل پر تعینات پنجاب پولیس کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ۔ عمران خان کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنا دورہ برطانیا مختصر کرکے وطن واپس پہنچنے والے ہیں ۔ شیخ رشید کے کامیاب شو نے جہاں حکومت کی جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا وہاں اپوزیشن جماعتوں خصوصاً پی ٹی آئی کو بھی وارم اپ ایکسرسائز کے بغیر ہی دو نومبر کی حکمت علمی متعین کر نے میں آسانی پیدا کر دی ہے۔
دو نومبر کو عمران خان کا احتجاج ناکام بنانے کے لیے پنجاب میں کنٹینروں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ ایک ہفتہ پہلے سے شروع کر دیا گیا تھا ۔ صوبے میں خصوصاً راولپنڈی کے ملحقہ اضلاع میں پکڑے گئے کنٹینرز سڑکوں کے کنارے ہوٹلوں اور پٹرول پمپوں کر کھڑے کیے گئے ہیں ۔ کنٹینرز مالکان اور ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ اکثر کنٹینرز میں کھانے پینے کی اشیاء ہیں جن کے خراب ہونے کے امکانات ہیں لیکن پولیس حکام اپنی مجبوریوں کے باعث کنٹینرز چھوڑنے سے معذوری ظاہر کر رہے ہیں ۔
وفاقی حکومت نے دو نومبر کو عمران خان کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے عمران خان اور پی ٹی آئی کی صفِ اول کی قیادت کو گرفتار اور نظر بند کرنے کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر رکھا ہے ۔ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں پی ٹی آئی کی قیادت نے متبادل حکمت عملی بھی طے کر رکھی ہے ۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے عمران خان کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی نشستوں سے مستعفی ہونے کا بھی کہا جا سکتا ہے ۔ اس آپشن کے استعمال کے امکانات دو نومبر کی صورتحال سے مشروط ہیں ۔
عمران خان کی تحریک انصاف کے احتجاج کو کاؤنٹر کرنے کے لیے مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 33 ارکان نے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے رکن حاجی صالح محمد کی قیادت میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ریکوزیشن سیکرٹری صوبائی اسمبلی کے پاس جمع کروادی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ اس ریکوزیشن پر اے این پی ، پی پی پی اور جمیعت علمائے اسلام کے ارکان شامل ہیں ۔ صالح محمد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بعض حکومتی ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے ۔
تازہ ترین سیاسی صورتحال نے آنے والے ہر لمحہ کو سنسنی خیز بنانا شروع کر دیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اوپننگ بیٹسمین کا ’’ ریٹائرڈ ہرٹ ‘‘ ہونا حکومت کو درپیش سنجیدہ مشکلات کا مظہر ہے ۔ دو نومبر سے پہلے صورتحال میں مزید ڈرامائی تبدیلیوں کا امکان ہے ۔ تبدیلیوں کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ چند روز میں ہو جائے گا ۔ تاہم اس پر مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ سیاسی اونٹ کی کروٹ کا تعین متنازع خبر کی اشاعت کے حوالے سے قائم کی جانے والی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی پروگریس پر بھی ہے ۔ اسلام آباد میں تبدیلیوں کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں ۔ آنے والا ہر لمحہ سنسنی خیز دکھائی دے رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ؟؟‘‘


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر