بڑی طاقتوں کی صبر کی تلقین، پاک بھارت جنگ نہیں روک سکتی

pak-india-border

بھارت کنٹرول لائن پر در اندازی کی کوشش کو پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کا نام دے کر دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرکے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر اپنے سفاکانہ مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں ناکامی اور اس ناکامی کے بعد سے مسلسل سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہے، جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ ہفتہ کی رات کو بھارتی فوج نے ایک دفعہ پھرکنٹرول لائن پر بھمبر کے چھمب سیکڑپرصبح 4 بجے بلااشتعال فائرنگ کی۔ فائرنگ کایہ سلسلہ 4گھنٹے تک جاری رہا لیکن پاک فوج کے چوکس جوانوں نے اس کابلاتاخیر کرارا جواب دیا جس پر بھارتی فوجی فائرنگ کاسلسلہ بند کرنے پر مجبور ہوئے۔ بھارت نے حسب عادت الزام عاید کیاکہ فائرنگ پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے مقاصد پوری دنیا پر واضح ہوچکے ہیں اور عالمی برادری کو یہ احساس ہورہاہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند عوام کو کچلنے اور ان کو بھارتی تسلط قبول کرنے پر مجبور کرنے میں ناکامی پر پردہ ڈالنے اور اپنے عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے کیلئے آگ وخون کاایسا خطرناک کھیل کھیلنے کی کوشش کررہاہے جس سے نہ صرف پاکستان وبھارت کے عوام بلکہ اس پورے خطے اور بحیثٰیت مجموعی پوری دنیا کا امن غارت ہوسکتاہے۔

بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آتے ہی اپنے ایک مضمون میں، میں اس خدشے کااظہار کرچکاہوں کہ نریندر مودی ہر مسئلے کو طاقت کے ذریعے دبانے یا فریق مخالف کو ختم کردینے کی ڈاکٹرائن پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے اسی نظریئے کی وجہ سے بھارت کی انتہا پسند تنظیم نے اعلیٰ منصب پر فائز کیاہے۔ اس لئے پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحانہ کارروائیوں پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ اس وقت بھارت میں ڈرائیونگ سیٹ پر کون بیٹھاہے اور اس کاماضی کتنا خون آشام رہاہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خون آشام اور انتہا پسندانہ جبلت کا یہی نتیجہ نکلنا تھا جو آج پاک بھارت کشیدگی کی انتہا کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے اورجس پر پوری دنیا تشویش کااظہار کررہی ہے۔ روس کے دفتر خارجہ نے گزشتہ روز ایک بیان میں پاک بھارت کشیدگی اورکنٹرول لائن پر امن کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے امیدظاہر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنمافوجی تصادم سے گریز کریں گے اور باہمی تنازعات کوپرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں گے، اس سے ایک دن قبل امریکی دفتر خارجہ سے جاری بیان میں بھی اسی طرح کی تلقین کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے تحمل اوربرداشت کا رویہ اختیار کرنے کی امید کااظہار کیاگیاتھا۔ اگرچہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی جانب سے پاک بھارت کشیدگی پر دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے تحمل وبرداشت سے کام لینے کی ان اپیلوں سے پاک بھارت سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ان کی تشویش کا اظہار ہوتاہے لیکن ان کی اس تشویش سے زیادہ تشویشنا ک بات یہ ہے کہ بھارت کی اتحادی ان دونوں بڑی طاقتوں کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود اصل تنازع اور اس صورتحال کاسبب بننے والے مسئلے کااشارتاً ذکر کرنے سے بھی گریز کیا گیا۔

سمجھنے اور سوچنے کی بات یہی ہے کہ بڑی طاقتیں جو دنیا بھر میں قیام امن کے نام سے اپنی مسلح افواج بھیجنے سے بھی گریز نہیں کرتیں اور بدامنی کا خاتمہ کرنے اور دنیا کو پرامن اور پر سکون بنانے کیلئے مختلف ملکوں کے لاکھوں شہریوں کو موت کی نیند سلانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتیں وہ پاک بھارت کشیدگی کے اصل سبب کامداوا کرنے کیلئے کیوں تیار نہیں ہیں۔ یہ ایک سیدھی اور سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اگر امریکا اور برطانیا کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کیلئے اسی طرح کمر بستہ ہوجائیں جس کامظاہرہ انھوں نے سوڈان اور تیمور کے حوالے سے کیاتھا تو یہ مسئلہ بھی اسی آسانی کے ساتھ حل ہوسکتاہے جس طرح اول الذکر دونوں مسائل حل کئے گئے تھے۔ یہ ایک واضح امر ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود بنیادی مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو ان ملکوں کے درمیان پانی کے سوا کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ باقی نہیں رہ جائے گا جس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کواپنی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی کرنا پڑیں۔

آج پاکستان اور بھارت جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اور جنگ کے مہیب بادلوں نے جس طرح برصغیر کے افق کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس کا تدارک بڑی طاقتوں کی جانب سے محض تشویش کے اظہار اور صبر وتحمل کی تلقین سے نہیں ہوسکتا، کیونکہ آ پ کسی بھوکے کو روٹی دینے کے بجائے صرف صبر کرنے کی تلقین کرتے رہیں تو وہ زیادہ دیر تک موت وزیست کی کشمکش جاری نہیں رکھ سکے اور بھوک کے مارے جاں بحق ہوجائے گا صبر کی تلقین اس کی جان نہیں بچاسکے گی، آپ کسی زخمی کی مرہم پٹی کرنے کے بجائے اس کو صبر کی تلقین کرتے رہیں اور اس کا بہتاہوا خون روکنے کی تدبیر نہ کریں تو وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح بنیادی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنے اورظالم کو ظالم، جابر کو جابر اورغاصب کو غاصب کہنے سے گریز کرتے ہوئے ظالم ومظلوم کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے اور مظلوم کی کمزوری کافائدہ اٹھاتے ہوئے خود اسے ہی ظلم ڈھائے جانے کاسبب قرار دینے سے نہ تو مسئلہ حل ہوگا اور نہ جنگ کے بادلوں کی ہولناکی میں کسی طرح کی کوئی کمی آسکتی ہے، ایسی صورتحال میں اب وقت آگیا ہے کہ بڑی طاقتیں اگر واقعی اس خطے اوربحیثیت مجموعی پوری دنیا میں امن کی خواہاں ہیں تو دورنگی اور دوغلی پالیسیوں اوردہرے معیار کو ترک کرکے مظلوم کو مظلوم اور ظالم وجابر کو ظالم وجابر قرار دے کر مظلوم کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنا اثر ورسوخ اور وسائل بروئے کار لائیں۔

بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کو اس بات کااچھی طرح اندازہ ہوجانا چاہئے کہ اب دنیا بھر میں قیام امن کے حوالے سے ان کے تاخیری حربے اور مظلوم وظالم کے درمیان انصاف کے حوالے سے ان کا دہرا معیار کھل کر سامنے آچکاہے، گزشتہ 70سال کے عالمی واقعات سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ بڑی طاقتیں مظلوموں کو انصاف کی فراہمی پر نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ پر زیادہ زور دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں ان کا مفاد وابستہ ہوتاہے وہاں فوری کارروائی کرکے لاکھوں بے قصور شہریوں کو موت کی نیند سلانے سے بھی گریز نہیں کیاجاتا لیکن جہاں ان کامفاد وابستہ نہ ہو یا حالات کو جوں کاتوں رکھنے اور مظلوموں کو ظلم سہتے رہنے پر چھوڑ دینے میں ان کامفاد ہووہاں وہ تاخیری حربے اختیار کرکے ہٹو بچو اور صبر وتحمل اور برداشت جیسے خوبصورت الفاظ میں اپنا دوغلا پن چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی دوعملی پوری طرح بے نقاب ہوجانے کی وجہ ہی سے آج پوری دنیا میں حریت پسند عوام انصاف کے حصول کیلئے ان کی طرف دیکھنے کے بجائے خود ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے اب ان رہنماؤں کو اپنی بالادستی خطرے میں نظر آنے لگی ہے اوراب وہ انھیں دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے کر انھیں ختم کرنے کیلئے پوری دنیا کے فوجی اور مالی وسائل اکٹھا کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ حالانکہ انھیں اب اس بات کا اندازہ ہوجانا چاہئے تھا کہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں طالبان، القاعدہ، داعش اوراس جیسی تنظیموں کے قیام اور ان تنظیموں کے کارکنوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان طاقتوں نے مظلوموں پر ظلم ڈھانے والوں کو اپنے مفادات کے تحت نہ صرف یہ کہ پروان چڑھایا ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ مظلوموں کوزیادہ سختی سے کچلنے کیلئے انھیں وسائل بھی فراہم کئے ظاہر ہے اپنے دکھوں کاکوئی مداوا کرنے والا نظر نہ آنے پر وقت کے مفاد پرستوں نے ان مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے نام پر ان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور آج یہ ایک ایسی طاقت بن چکے ہیں جن کے نام ہی سے بڑی طاقتیں لرزہ براندام ہوجاتی ہیں۔

میں یہاں غیر آئینی اور غیر اخلاقی کارروائیوں میں مصروف انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کی وکالت نہیں کررہا بلکہ ایک حقیقت کی عکاسی کرنا چاہتا ہوں اور بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کو یہ باور کرانا چاہتاہوں کہ تنگ آمد بجنگ آمد کی نوبت آنے سے قبل ہی وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں اور اگر وہ واقعی اس خطے کو جنگ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں کو صبر کی تلقین کرنے کے بجائے گزشتہ 70سال سے کشمیری عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے بھارت کو لگام دینے اور اس مسئلے کواقوام متحدہ کی ان قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر مجبور کریں جن کی ان دونوں ممالک کے رہنما توثیق کرچکے ہیں اوران پر عملدرآمد کرنے کی عالمی برادری کو یقین دہانی کراچکے ہیں، جب تک اس ناسور کو جڑ سے ختم نہیں کیاجاسکتا پاکستان اور بھارت پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے اور چونکہ اب یہ دونوں ملک اٰیٹمی طاقت ہیں اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی وقت کسی بھی جنگ کی صورت میں صرف یہی دو ملک تباہی کاشکار نہیں ہوں گے بلکہ اس کے مہیب اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے اس طرح اس کاخمیازہ ان دونون ملکوں کے رہنماؤں کو صبر کی زبانی تلقین کرنے والی بڑی طاقتوں اور ان کے عوام کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

Electrolux