وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواز شریف کی تقریر: کھسیانی بلی کا کھمبا

اتوار 25 ستمبر 2016 نواز شریف کی تقریر: کھسیانی بلی کا کھمبا

nawaz-sharif

میاں محمد نواز شریف کا سخت سے سخت ناقد بھی اس بات کا معترف ہورہا ہے کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بھرپور اور پاکستان جیسے اہم اسلامی ملک کے شایانِ شان تقریر کی۔ پاک بھارت شملہ معاہدے کے بعد کشمیر پر یہ پہلی سفارتی ’’جارحیت‘‘ ہے جس کا اعزاز بھی ایک منتخب جمہوری حکومت کو حاصل ہوا، ورنہ وردی والی جمہوریت کے دور میں تومعاملہ کبھی ملک میں موجود ’’نان ا سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کے خلاف عالمی مدد کی بھیک مانگنے کی جدوجہد سے آگے نہیں بڑھ پایا جو دراصل دہشت گردی میں ملوث ہونے کا بالواسطہ اعتراف ہوا کرتا تھا۔

گزشتہ پندرہ سال تو ہمیں وہ پچیس لاکھ افغان مہاجرین بھی بھولے رہے ، جن کی ہم اب تک میزبانی کرتے رہے ہیں۔ اور کشمیر کا تو ذکر ہی کیا کہ اس پر کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے وہ وہ قلابازیاں کھائیں اور اس کے اتنے حل تجویز کر دیے کہ محسوس ہونے لگا کہ مسئلہ کشمیر اب دفن ہوگیا ہے۔ لیکن کشمیری بہت سخت جان نکلے اور برہان مظفر وانی نے خون دے کر اپنی آزادی کی جدوجہد کو جو مہمیز بخشی تو اب یہ لازم تھا کہ پاکستان کے عوام کی منتخب قیادت اس پر اپنے ووٹرز کے جذبات کے عین مطابق عمل کرتی۔ جس طرح بھارتی فوجیون نے شہید کا گلا کاٹنے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی اور بھارتی عوام نے اس پر تالیاں بجا کر داد دی تو پوری چناروادی میں آگ سی لگ گئی۔ اب وہاں کا ہرجوان برہان مظفر بننے گھر سے نکل پڑا ہے۔

بھارت نے اس کو جنگی جنون بنانے کی کوشش کی اور پاکستان کی بہ حیثیت ریاست اور اس کے عوام کا ردعمل جاننے کے لئے ایک ماحول بنایا تو اسے سرحد سے اس پار سے مسکن جواب گیا جس سے اس کی ’تسلی‘ ہو گئی۔ اس کے میڈیا کی کذب بیانی سے دیا گیا تاثر کہ نیپال، بنگلہ دیش اور افغانستان بھی پاکستان مخالفت میں اس کے ساتھ ہیں ،یہ تاثر چوبیس گھنٹے کی عمر بھی نہ جی پایا۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے ایک جرنیل کے کپتان کے صاحبزادے کے ہاتھوں موٹروے پولیس کے انسپکٹرز کی درگت بنانے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ہمارے اداروں کے بارے میں جن جذبات کا اظہار ہورہا تھا ، وہ سب پس منظر میں چلے گئے اور قوم نے یک زبان ہو کر بتایا کہ ہم کس طرح یک جان ہیں۔ یہ پیغام نئی دہلی میں بہت تشویش کے ساتھ سنا اور سمجھا گیا۔

وزیر اعظم کی تقریر سے محض ایک دن قبل برطانوی فوج کے سربراہ کی اسلام آباد آمد ، پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات اور اس کے بعد آرمی چیف کا میاں نواز شریف کو امریکافون کرنا اس امر کی غمازی کرتے تھے کہ بھارتی خواہش پر امریکانے اپنا کوئی بالواسطہ پیغام بھیجا ہے۔ دراصل امریکی خواہشات کو ہم تک پہنچانے کے لئے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے یہی راستہ استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن ظاہر ہے سامنے ایک فون پر ڈھیر ہوجانے والی قیادت نہیں تھی اس لئے تقریر سے تو یہی پتہ چلا کہ بات نہ بن سکی۔ اور آخرکار امریکی دفترِ خارجہ کا ایک غیر جانبدار سا بیان آ گیا کہ دونوں ملک اپنے مسائل کو باہمی گفت و شنید سے حل کریں، حالانکہ پاکستان کی قیادت یہ باور کروا چکی تھی کہ باہمی مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے ہی ہم اسے عالمی فورم پر لے کر آئے تھے۔

میاں نواز شریف نے اقوامِ متحدہ روانہ ہونے سے پہلے مقامی طور پرکچھ اداروں سے بھی رعایتیں طلب کی تھیں جو عطا کر دی گئیں۔ عمران خان صاحب جو اس سے قبل رائیونڈ دھرنے کی تاریخ بیس سے بائیس ستمبرکے درمیان رکھنے پر مُصر تھے، انہوں نے اس کو دس دن آگے بڑھا دیا اور قادری صاحب جو برطانیا پدھارنے سے پہلے یہ کہتے ہوئے پائے گئے تھے کہ وہ وہاں جا کر یورپی یونین کے سامنے موجودہ نواز شریف حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم چلائیں گے، ان کو بھی ایک سخت ’’شٹ اپ‘‘ کال دی گئی۔ کال اتنی سخت تھی کہ موصوف تا دمِ تحریر نہ صرف بولنے سے انکاری ہیں بلکہ ان کی عمرانی دھرنے میں شرکت بھی مشکوک نظر آتی ہے۔

میاں نواز شریف نے کمال ہوشیاری اور عقل مندی سے خود پر ’مودی کا یار‘ ہونے والے الزامات لگانے والوں کو مودی کی بغل میں کھڑا کردیا ہے۔ وہ اپنے اوپر پڑنے والا مقامی دباؤ بڑی چالاکی سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس ڈائس پر چھوڑ آئے ہیں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی تھی۔ اب ان کے سیاسی مخالفین کو ان کے خلاف ماحول بنانے کے لئے معاملہ پھر صفر سے شروع کرنا پڑے کرے گا جس کے لئے ’بہاماس‘ سے نئی کمک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی پہلی مرتبہ پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ اس اہم موقع کی تیاری کی اور شاید ان کے لئے بھی پہلا موقع تھا کہ انہیں معاملات کو خالص پیشہ ورانہ انداز میں دیکھنے کی ’’اجازت ‘‘ ملی تھی۔ اور ’جس کا کام اسی کو ساجھے‘ کے مصداق جب یہ کام پیشہ ورانہ ہاتھوں میں آئے (جن میں سے کسی کو دعویٰ نہیں تھا کہ اسے سب پتہ ہے) تو سائیڈ لائن پر او آئی سی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں پاکستان کی ’ہرقسم‘ کی حمایت کا نہ صرف زبانی اعادہ کیا گیا بلکہ اس کے عملی ثبوت بھی نظر آئے۔ دنیا بھر کی اہم قیادت سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ان تک اپنا نقطۂ نظر بھی موثر انداز میں پہنچایا گیا۔

جب اجلاس سے پاکستانی وزیراعظم نے خطاب کرلیا اور اس ضمن میں امریکی اور بھارتی خواہشات کو بھی خاطر میں نہیں لائے تو پھر ایران کے صدر کو بھی پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کرنا یاد آ گیا۔ اور اس کے بعد ایران نژاد پاکستانی لابی ، سوشل میڈیا پر رو بہ عمل آ گئی جس کا واحد مقصد سعودی عرب کو شیریں مزاری اور مشاہد حسین ٹائپ کی پارلیمانی تقریر کے موافق سوشل میڈیائی گدڑ کٹ لگانا اور گالم گلوچ کرنا تھا۔ حالانکہ طے شدہ معاملات کے مطابق او آئی سی ، جس کی نمائندگی سعودیہ کے پاس تھی،اس نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائن پر اجلاس طلب کر کے پاکستان کو جو سفارتی کمک فراہم کی تھی، اس نے بھارت کا سارے کا سارا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا تھا، شاید اسی کا اندازہ کرتے ہوئے بھارت نے اپنے نودریافت شدہ ’متر‘ امریکا کو اس معاملے میں اتارا۔ برسبیل تذکرہ بات یہ ہے کہ اس دفعہ کا حج پہلا حج تھا جس میں ایرانی عازمینِ نے شرکت نہیں کی اور یہ کتنا پرامن اور پرسکون ہوا ہے؟ وہ آپ کسی بھی عازمِ حج سے پوچھ کر دیکھ لیں۔

سوشل میڈیا پر اور تو کچھ نہیں ہوسکا لیکن سب سے پہلے یہ بیانیہ چھوڑا گیا کہ نواز شریف نے جی ایچ کیو کی لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جی ایچ کیو ادھر ہی واقع ہوا کرتا تھا جب بہادر کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے کشمیر پر قلابازیاں لگانے کی انتہا کر دی تھی۔ تو پھر انہوں نے اتنی اہم تقریر اپنے چیف کو کیوں نہیں لکھ کر دی؟ حیرت ہے۔

بھارت نے بھی میاں نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے بعد جنگی جنون سے مراجعت کا سفر اختیار کر لیا ہے ، مناسب ہو گا کہ ان کے مقامی ناقدین بھی کچھ دنوں تک اپنے خیالات سے مراجعت نہ بھی کریں تو کم ازکم میاں نواز شریف کی وطن واپسی کا انتظار کرلیں ۔ان سے گزارش ہے کہ میاں صاحب بھی ادھر ہی ہیں اور سیاست بھی کہیں نہیں جاتی، اور اب قدرے تاخیر سے ہی سہی لیکن اگر ایرانی قیادت کی طرح ، جناب عمران خان کو بھی کشمیریوں کو بہتا خون نظر آ گیا ہے تو پھر کیوں نہ چند روز کے لئے وہ کان بند کر لیں ، کہ بعض موقعوں پر خاموشی بھی بہت بڑی عقل مندی ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں


روہنگیا مسلمانوں سے بد سلوکی پر اقوام متحدہ کی میانمار پر تنقید وجود - هفته 26 اکتوبر 2019

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی مشن کے سربراہ نے روہنگیا مسلمانوںکے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی روکنے کے لئے اقدامات نہ اٹھانے پر میانمار حکومت کو تنقید کا نشانا بنایا ہے ۔نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی مشن کے سربراہ نے نے کہا کہ اگست 2017 میں میانمار فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوںکے خلاف کارروائی کے آغاز کیا جس کے بعد تقریبا 7 لاکھ روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ میانمار میں 6 لاکھ ...

روہنگیا مسلمانوں سے بد سلوکی پر اقوام متحدہ کی میانمار پر تنقید

اقوام متحدہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ، سیکریٹری جنرل یو این وجود - بدھ 09 اکتوبر 2019

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔ نیویارک سے جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ عالمی ادارے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔اس ماہ عملے کو تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا ہے ، اخراجات کی مد میں اس ماہ 23 کروڑ ڈالرز کا خسارہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ 19 رکن ممالک نے وعدے کے مطابق اخراجات چلانے کیلئے صرف دو ارب ڈالرز دیئے ۔ 64ممالک نے اپنے حصے کی ادائیگی نہیں کی ہے ،ادارہ ہر ماہ خسارے میں چل رہا ہے ،خسارے کے باعث یو این عملے کے ...

اقوام متحدہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ، سیکریٹری جنرل یو این

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی وجود - هفته 29 جولائی 2017

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت کے بعد اب اُن کا نام تمام قومی اور سرکاری جگہوں سے بتدریج ہٹایا جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے رکن اسمبلی کے طور پر اُن کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی ائیرپورٹ پر قائداعظم اور صدرِ مملکت ممنون حسین کے ساتھ اُن کی موجود تصویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوازشریف کو 28 جولائی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد فوری طور پر لندن میں بھی زیر بحث آگئی اور نوازشریف کی نااہلیت کے عدالتی فیصل...

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں وجود - هفته 29 جولائی 2017

٭3 اپریل 2016۔پاناما پیپرز (گیارہ اعشاریہ پانچ ملین دستاویزات پر مبنی ) کے انکشافات میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نوازشریف اور اْن کا خاندان منظر عام پر آیا۔ ٭5 اپریل 2016۔وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خاندان کے حوالے سے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عندیہ دیاتاکہ وہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے قیام کے حوالے سے اپنی تحقیقات کرے۔ ٭22 اپریل 2016- وزیراعظم کا دوسرا خطاب نشر کیا گیا جس میں اْنہوں نے یقین دلایا کہ اگر پاناما کیس کی تحقیقات میں ذمہ دار ثابت ہوئے...

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ انوار حسین حقی - هفته 29 جولائی 2017

عدالت ِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کی جانب سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے نے پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی اُس جدو جہد کو ثمر بار کیا ہے جو 2013 ء کے عام انتخابات کے فوری بعد سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو اُن کے مخالفین نے ر وایتی قرار دے کر حصول انصاف کی جدو جہد کو لا حاصل اور لکیر پیٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن...

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے  مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ

نوازشریف کی نااہلی عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ رانا خالد محمود - هفته 29 جولائی 2017

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے ...

نوازشریف کی نااہلی  عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

سانحہ کوئٹہ:"را" اورافغان خفیہ اداروں کی مشترکہ کارروائی، کَڑیاں ملنے لگیں وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

کوئٹہ پولیس ٹریننگ مرکز پر حملے کی نگرانی افغانستان سے کی گئی، مقامی نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا حساس اداروں نے تفصیلات جمع کرنا شروع کردیں ، افغانستان سے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے  بھاری ہتھیاروں  کے ساتھ کوئٹہ پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے خود کش  حملے کے سراغ ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتہائی باخبر ذرائع نے جرات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارسی بولنے والے حملہ آوروں کی تمام گفتگو کا ریکارڈ حسا س اداروں کے پاس موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مستقل ...

سانحہ کوئٹہ:

شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان وجود - پیر 24 اکتوبر 2016

انٹونیو گیٹریز کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے، 2ارکان غیر حاضر رہے،کوئی ووٹ ان کے خلاف نہیں پڑا پرتگال کے سابق وزیر اعظم، 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے، رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمدکے لیے پرعزم جنرل اسمبلی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں پرتگال کے سابق وزیراعظم انٹونیو گیٹریز کوبان کی مون کی جگہ اگلے 5سال کیلیے اقوام متحدہ کانیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا۔وہ اگلے سال جنوری میں اپنے عہدے کاحلف اٹھائی...

شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان

سفارتی محاذ پربھارت کو ایک اور شکست,برطانیہ نے بھی پاکستان مخالف پٹیشن مسترد کردی شہلا حیات نقوی - هفته 22 اکتوبر 2016

امریکاکے بعد برطانیہ نے بھی پاکستان کودہشت گردوں کی پناہ گاہ قراردینے کا بھارتی دعویٰ یکسر مسترد کردیا برطانیہ میں مقیم بھارتیوں کی آن لائن پٹیشن پر پاکستان کی قربانیوں کے برطانوی  اعتراف نے بھارتی غبارے سے ہوا نکال دی امریکا اوربرطانیہ دونوں ممالک نے بھارتی حکومت کے اشارے اور ان ممالک میں موجود بھارتی سفارت خانوں کی مبینہ مالی امداد کے سہارے برٹش او ر امریکی بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی آن لائن مہم کوناکام بنادیاہے اور اس حوالے سے پٹیشن خارج کردی ہیں...

سفارتی محاذ پربھارت کو ایک اور شکست,برطانیہ نے بھی پاکستان مخالف پٹیشن مسترد کردی

بھارتی جارحیت، مقابلے کے لیے جارحانہ سفارتکاری کی ضرورت ایچ اے نقوی - جمعرات 06 اکتوبر 2016

بھارتی فوج کی جانب سیکنٹرول لائن پر دراندازی کے واقعے کے بعدجسے اس نے سرجیکل اسٹرائیک کانام دینے کی ناکام کوشش کی، بھارتی فوج کے سربراہ نے عالمی سطح پر بھارت کی اس مذموم کارروائی کی مذمت سے بچنے کیلیے اعلان کیاتھا کہ کنٹرول لائن پر جو واقعہ ہوا، اس کے بعد اب بھارت پاکستان کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا اور ا ب حالات معمول پر آجانے چاہییں۔ لیکن ابھی بھارتی فوج کے سربراہ کے اس بیان کی گونج بھی کم نہیں ہوئی تھی کہ بھارتی فوج نے چھمب سیکٹر میں ایک اور کارروائی کی ا...

بھارتی جارحیت، مقابلے کے لیے جارحانہ سفارتکاری کی ضرورت

بھارتی جنگی بیانیے کا جواب رضوان رضی - بدھ 05 اکتوبر 2016

کوئی تین سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے ایک ہم عصر صحافی جو صحافت کرتے کرتے ایک دم غائب ہو گئے تھے، کچھ سالوں کے بعد ملے تو پتا چلا کہ وہ کابل میں ایک امریکی اخبار کے بیورو میں پائے جاتے ہیں اور ہر ماہ کسی افغان وار لارڈ کی طرح ڈالروں سے جیبیں بھرتے ہیں۔ پختون پس منظر کے باعث ان کو پشتو زبان پر عبور تھا جب کہ دری اور فارسی انہوں نے اس دوران سیکھ لی تھی۔ لیکن ان سے ملاقات کی صورت اس لیے بنی کہ انہیں کسی نئی نوکری کی تلاش تھی کیوں کہ ان کے آجر اخبار نے امریکیوں کی افغانستان سے با ...

بھارتی جنگی بیانیے کا جواب

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار