وجود

... loading ...

وجود

جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر

پیر 08 اگست 2016 جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر

turkey-coup-rally

ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک ہر رات عوام سڑکوں پر بیٹھ کر جمہوریت کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اب 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے طاقت کے ایک عظیم الشان مظاہرے کے ساتھ اپنا فرض مکمل کردیا ہے۔ 15 جولائی کی شب ہونے والی بغاوت کے دوران 270 لوگ مارے گئے تھے لیکن عوام کی بھرپور مداخلت کی وجہ سے حکومت بغاوت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

شہدائے جمہوریت کی یاد میں حکومت نے طاقت کا ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ بحیرۂ مرمرہ کے کنارے پر ینی قاپی کے علاقے میں دنیا نے عوام کا “سرخ سمندر” دیکھا۔ “جمہوریت و شہدا ریلی” کے انعقاد کا مقصد ناکام بغاوت کے خلاف ترک عوام کے اتحاد کو ظاہر کرنا تھا۔ اس شاندار اجتماع میں صرف حکمران عدالت و انصاف پارٹی نے ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ اسٹیج پر رجب طیب اردوغان کے برابر میں حزب اختلاف کی دو اہم ترین جماعتوں کے سربراہان بھی بیٹھے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار تو اب تک جاری نہیں کیے گئے لیکن واضح طور پر یہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد تھے۔

طیب اردوغان اپنی اہلیہ امینہ کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اجتماع گاہ پہنچے۔ جس کے بعد تقریب کا آغاز شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے ہوا، جس کے بعد ترکی کا قومی ترانہ بجایا گیا اور شہدا کے لیے دعائیں کی گئیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ایک ریاست اور ایک قوم کے طور پر ہمیں 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف اس غداری میں شامل افراد ہی کی نہیں بلکہ اس کی پس پردہ قوتوں اور یہ قدم اٹھانے کی وجوہات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ “ملک کے استحکام کے سفر میں ہماری یکجہتی یونہی جاری رہے گی۔ ہم عہدوں اور خطابات کے لیے ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے، بلکہ ہماری محبت اللہ کے لیے ہے۔”

طیب اردوغان نے کہا کہ “15 جولائی نے ہمارے دوستوں پر ظاہر کیا کہ یہ ملک صرف سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حملوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ فوجی سبوتاژ کے خلاف بھی مضبوط ہے۔ اس نے دکھایا کہ یہ نہ گرے گا اور نہ ہی اسے پٹری سے نیچے اتارا جا سکتا ہے۔ وہ جو اس رات کو ترکی کے زوال کو دیکھنے کے لیے ہاتھ مسلتے دکھائی رہے تھے اگلی صبح انہیں معلوم ہوگیا کہ یہ کام ان کی توقعات سے زیادہ مشکل ہے۔”

ترک صدر نے مزید کہا کہ گولن کے پیروکار اس ملک کو درپیش حقیقی خطرے کا محض ایسا ہتھیار ہیں جو ہمیں نظر آ رہا ہے لیکن ہم اس کھیل کو اچھی طرح جانتے ہیں، یہ درحقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع کھیل ہے۔ بلاشبہ ہمیں اس تنظیم کے تمام اراکین کو ظاہر کرنا ہوگا اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ان کا خاتمہ کرنا ہوگا، لیکن اگر ہم صرف اسی پر اکتفا کرتے رہے تو پھر ایک ریاست اور ایک قوم کی حیثیت سے ہم ایسے ناسوروں کے خلاف اپنی کمزوری کو نمایاں کریں گے۔

طیب اردوغان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ سزائے موت کی بحالی کی منظوری دیتی ہے تو وہ بل کی منظوری کے لیے دستخط کردیں گے۔ ترکی میں سزائے موت پر پابندی 2004ء میں لگی تھی، وہ بھی آخری سزائے موت کے 20 سال بعد۔ یورپی یونین پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر ترکی نے ایسا کیا تو اتحاد میں اس کی شمولیت کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

حزب اختلاف کی مرکزی جماعت جمہوریت خلق پارٹی کے رہنما کمال کلج دار اوغلو نے کہا کہ “15 جولائی نے مفاہمت کے دروازے کھولے ہیں۔ 15 جولائی کے بعد اب ایک نیا ترکی جنم لے چکا ہے۔ اگر ہم اس قوت کو مزید بڑھا سکے اور باہمی مصالحت میں اضافہ کر سکے تو ہم آنے والی نسل کے لیے ایک عظیم ترکی بنانے کے قابل بن جائیں گے۔”

جلسے کے لیے 60 میٹر یعنی 200 فٹ بلند ایک اسٹیج تیار کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی جلسہ ملک کے تمام 81 صوبوں میں براہ راست نشر کیا گیا جہاں ہر جگہ ہزاروں افراد نے اسے دیکھا۔

اس موقع پر 15 ہزار سے زیادہ سیکوٹری اہلکار موجود تھے اور ہیلی کاپٹرز بھی فضا میں گردش کر رہے تھے۔ شرکا کو اجتماع گاہ میں لانے کے لیے ہزاروں بسوں اور 200 سے زیادہ کشتیوں کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ داخلے کے لیے 165 مقامات پر میٹل ڈٹیکٹرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ بغاوت کے دوران زخمی ہونے والوں اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے خاص پاس جاری کیے گئے تھے اور انہیں مخصوص حصے میں بٹھایا گیا تھا۔

صدر طیب اردوغان نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لانے کے بجائے قومی پرچم لے کر اجتماع گاہ میں آئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کے شہر پنسلوینیا میں بھی یہ اجتماع براہ راست دکھانے کے لیے ایک دیوہیکل اسکرین نصب کی گئی تھی۔ یہ وہی شہر ہے کہ جس کے قریب فتح اللہ گولن مقیم ہیں کہ جن کو اس بغاوت کا مرکزی کردار کہا جا رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر